تصویر میں نظر آنے والی یہ خاتون پولیس افسر کون ہیں اور انہوں نے کیا کارنامہ سر انجام دیا ہے؟ جان کر آپ بھی انہیں داد دیں گے

2019 ,مارچ 20



ولنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) پوری دنیا سانحہ کرائسٹ چرچ پر دل گرفتہ ہے مگر کچھ ایسے شدت پسند بھی ہیں جو اس سانحے پر الٹا مسلمانوں کو ہدف تنقید بنا رہے ہیں۔ نیوزی لینڈ میں بھی ایک لڑکی نے سانحہ کرائسٹ چرچ کے بعد فیس بک پر ایک پوسٹ میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا جس پراسے گرفتار کر لیا گیا ہے۔  یہ 28سالہ لڑکی نیوزی لینڈ کے جزیرے نارتھ آئی لینڈ کی رہائشی تھی۔ لڑکی کو گرفتار کرنے والی پولیس ٹیم کی رکن سینئر سارجنٹ جینیفر ہینسن کا کہنا تھا کہ ”فیس بک پر ملزمہ کی طرف سے کی گئی پوسٹ نفرت انگیز مواد کے زمرے میں آتی ہے جس پر اس کے خلاف مقدمہ دائرکیا جائے گا اور اسے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔“جینیفر ہینسن کا کہنا تھا کہ ”لڑکی کی پوسٹ نے مقامی لوگوں کو اس قدر خوفزدہ کر دیا تھا کہ وہ اپنے بچوں کو سکول لیجانے سے ڈر رہے تھے۔ جب اس پوسٹ پر دیگر صارفین کی طرف سے شدید ردعمل آیا تو فیس بک نے اسے ہٹا دیا۔ تاہم اس سے قبل شہریوں کی طرف سے پولیس کو آگاہ کیا جا چکا تھا اور پولیس بھی وہ پوسٹ دیکھ چکی تھی۔ یہ لڑکی اپنی پوسٹ کے ذریعے نسل پرستانہ فساد پھیلانے کی مرتکب ہوئی ہے اور اس کے خلاف ہیومن رائٹس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔“

متعلقہ خبریں