بریکنگ نیوز: مشال خان کے بعد ایک اور قتل ۔۔۔ پاکستان کے قدیم اورمعروف ترین تعلیمی ادارے میں پروفیسر کو مار ڈالا گیا

2019 ,مارچ 20



بہاولپور (مانیٹرنگ ڈیسک ) 133 سالہ پرانے گورنمنٹ صادق ایجرٹن کالج میں شعبہ انگریزی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر کو کالج کے اندر ایک طالب علم نے چھریوں کے وار کرکے قتل کردیا، پولیس کے مطابق گورنمنٹ صادق ایجرٹن کالج میں شعبہ انگریزی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر خالد حمید کو آج صبح قتل کرنے والے طالبعلم کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے، ملزم کی شناخت خطیب حسین کے نام سے ہوئی ہے اور وہ بی ایس انگریزی پروگرام کے پانچویں سمسٹر کا طالب علم ہے، ذرائع کے مطابق مقتول پروفیسر کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے بہاول وکٹوریہ اسپتال منتقل کردی گئی ہے، عینی شاہدین کے مطابق بی ایس انگریزی کے طالب علم نے پروفیسر خالد حمید کو کالج کے برآمدے میں چاقو کے وار سے قتل کیا، قتل کی اس لرزہ خیز واردات کے بعد کالج میں کہرام مچ گیا جب کہ اساتذہ اور طلبہ دھاڑیں مار کر روتے رہے، پروفیسر کو قتل کرنے والے طالب علم نے پروفیسر خالد حمید پر اسلام مخالف ہونے کا الزام عائد کیا ہے اور کہا ہے کہ جمعرات کو ہونے والے شعبہ انگریزی کے فن فیئر پروگرام کے لیے وہ لڑکیوں کو ناچ گانے کی مشق کرا رہا تھا، ملزم نے بتایا کہ اس معاملے پر اس کی پروفیسر سے بحث ہوئی اور اختلاف کے بعد اس نے طیش میں آکر چھری کے پے در پے وار پروفیسر کو قتل کر دیا گیا ہے ۔


 

متعلقہ خبریں