ٹھہرئیے۔۔۔ مایوس نہ ہوں ۔۔۔!!! سمندری حدود سے تیل اور گیس کے وسیع ذخائر ملنے کا امکان ۔۔۔ قوم کو نئی امید دلا دی گئی

2019 ,مئی 18



کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) سمندری حدود سے تیل و گیس کے ذخائر ملنے کا اب بھی امکان موجود ہے، قوم کو ایک نئی امید دلا دی گئی، کیکڑا 1 بلاک میں مزید 70 میٹر کی گہرائی میں ڈرلنگ کی جائے گی، مزید ڈرلنگ میں کامیابی نہ ملنے کی صورت میں ذخائر کی تلاش کا کام بند کیا جائے گا، مزید گہرائی میں ڈرلنگ کے دوران کامیابی حاصل ہونے کے امکانات انتہائی کم تاہم امید اب بھی باقی ہے۔تفصیلات کے مطابق سمندری حدود سے تیل و گیس کے ذخائر ملنے کا اب بھی امکان موجود ہے۔ نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی سمندری حدود میں کیکڑا 1 کے مقام پر تیل و گیس کے ذخائر کی دریافت کیلئے جاری ڈرلنگ کا کام ابھی مکمل طور پر بند نہیں کیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ کیکڑا 1 بلاک میں مزید 70 میٹر کی گہرائی میں ڈرلنگ کی جائے گی۔مزید ڈرلنگ میں کامیابی نہ ملنے کی صورت میں ذخائر کی تلاش کا کام بند کیا جائے گا۔ مزید گہرائی میں ڈرلنگ کے دوران کامیابی حاصل ہونے کے امکانات انتہائی کم تاہم امید اب بھی باقی ہے۔ تاہم دوسری جانب وفاقی حکومت نے پاکستان کی سمندری حدود میں تیل و گیس کے ذخائر کی تلاش کیلئے جاری کام میں ناکامی کا باقاعدہ اعلان کر دیا۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی ندیم بابر نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کی سمندری حدود میں ڈرلنگ کا کام بند کر دیا گیا ہے۔کیکڑا 1 کے مقامل پر کھودے گئے کنویں گے تیل و گیس کے ذخائر دریافت نہ ہوئے۔ ندیم بابر کے مطابق ڈرلنگ کے منصوبے پر لاگت کا تخمینہ 100 ملین ڈالر سے زیادہ کا رہا۔ جوائنٹ وینچرمیں امریکی کمپنی ایگزون موبل کےعلاوہ او جی ڈی سی اور پی پی ایل شامل تھے۔کیکڑا ون کے مقام پر اٹلی کی کمپنی ای این آئی کی قیادت میں جوائنٹ وینچرنےڈرلنگ کی۔ کیکڑا ون کے مقام پر 5500 میٹر سے زیادہ گہرائی تک ڈرلنگ کی گئی۔ تاہم کراچی کے قریب گہرے سمندرمیں ڈرلنگ کےدوران تیل و گیس کےذخائر نہ مل سکے۔ٹیسٹنگ کے نتائج سے ڈی جی پیٹرولیم کنسیشنز کے آفس کو آگاہ کردیا گیا ہے۔ جبکہ کیکڑا ون میں ڈرلنگ کا کام بھی ترک کردیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں