ترکی ’’جی ایس پی اسٹیٹس‘‘ ختم کرنے پر امریکا پر برہم

2019 ,مارچ 5



انقرہ(مانیٹرنگ ڈیسک): امریکا کی جانب سے جی ایس پی اسٹیٹس ختم کرنے پر ترکی نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کا فیصلہ چھوٹے امریکی صنعت کاروں کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔ ترکی کی وزیر تجارت رخسار پیجان کا اپنی ٹوئٹ میں کہنا تھا کہ گزشتہ برس اگست سے جاری نظر ثانی کے مراحل کے بعد امریکا نے ترکی کو دی گئی ترقی پذیر ممالک کے خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے اور اس فیصلے کی کوئی وجہ نہیں بنتی۔ وزیر تجارت نے مزید کہا کہ جی ایس پی اسکیم کے تحت امریکی درآمدات 20.9 بلین ڈالر تک جا پہنچی ہے جب کہ برآمدات کی مد میں سرمایہ کاری 1.74 بلین ڈالر تک ہوئی، ترکی 8.2 فیصد کے ساتھ امریکی اشیاء کو برآمد کرنے والا پانچواں بڑا ملک ہے۔ ترکی کی وزیر کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے امریکی فیصلے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت کے تحت 75 بلین ڈالر کے ہدف کا خواب پورا نہ ہوسکے گا، علاوہ ازیں امریکا کے چھوٹے صنعت کاروں کو بھی نقصان پہنچے گا، تاہم ترکی اب بھی امریکا کے ساتھ تجارت کا خواہاں ہے۔ واضح رہے کہ جی ایس پی کاروباری کی اصطلاح

Generlised System of Preference

کا محفف ہے، جسے ترجیحی بنیادوں پر قائم کیا جانے والا عمومی نظام بھی کہا جاتا ہے، جی ایس پی اسٹیٹس حاصل کرنے والے ممالک کو بیرون ملک مارکیٹ تک رسائی حاصل ہوجاتی ہے اور ٹیرف میں نرمی دی جاتی ہے۔

متعلقہ خبریں