ڈی ایچ کیو ہسپتال ساہیوال میں 5 بچوں کی ہلاکت کا معاملہ۔۔۔ بات صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کے استعفے تک پہنچ گئی

2019 ,جون 2



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): ڈی ایچ کیو ہسپتال ساہیوال کے چلڈرن وارڈ میں بچوں کی ہلاکت پر حمزہ شہباز نے مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ساہیوال میں 5 بچوں کی ہلاکت حکومت کی نالائقی اور نا اہلی کا نتیجہ ہے۔ اس کے ذمہ دار وزیراعلیٰ پنجاب اور صوبائی وزیر صحت ہیں،وزیرصحت پنجاب کو استعفیٰ دینا چاہیے،انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ساہیوال میں جاں بحق بچوں کے لواحقین کو صبر جمیل عطافرمائے۔لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حمزہ شہباز نے کہاکہ ملک سے باہر جاوَ تو لوگ نئے پاکستان کو ملامت کرتے ہیں،بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو پرانا پاکستان پسند ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ نوبت آگئی ہے کہ معزز جج صاحبان کی پگڑیاں اچھالی جارہی ہیں،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو بعد میں پتہ چلتا ہے خبر پہلے لیک کی جاتی ہے،یہ وہی یونٹ ہے جو سیاست دانوں کی پگڑیاں اچھالنے کےلئے بنا،حمزہ شہبازنے کہا کہ صرف 9ماہ میں ایک ہزار ارب روپے کے اضافی قرضے لئے،فارن ڈائریکٹ انوسمنٹ میں52فیصد کمی ہوئی،ملکی آمدن سکڑ کرصرف3فیصد رہ گئی ہے،ن لیگ کے رہنما نے کہاکہ ترقیاتی کاموں میں32فیصد کمی ہوئی،ڈالر پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ مہنگا ہوا،ایک سال میں ڈالر کی قیمت میں ہوشربا اضافہ ہوا۔حمزہ شہباز نے کہا کہ گیس،بجلی،دوائیاں اور اشیائے خوردونوش کی قیمت میں125فیصد اضافہ ہوا،سٹاک ایکس چینج میں200فیصد ڈراپ ہے،پورے جنوبی ایشیا میں روپیہ سب سے کم کرنسی گنی جارہی ہے،حمزہ شہباز نے کہا کہ جب سے حلف اٹھایا کہا جارہا ہے سب کا احتساب کروں گا،عمران خان نے وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد چیئرمین نیب سے ملاقات کی،شروع سے کہہ رہا ہوں یہ نیب اور نیازی کا گٹھ جوڑ ہے۔حمزہ شہباز نے کہا کہ میرے کیس میں چیئرمین نیب نے خود سوال نامہ ترتیب دیا،چیئرمین نیب نے کہا حمزہ شہباز بینچ کے پیچھے چھپ رہا ہے، بہت جلد اندر ہوگا،میری پریس کانفرنس پر نیب کی پریس ریلیز میں کہا جاتا ہے کھسیانی بلی کھمبا نوچے،لیگی رہنما نے کہا کہ میرے پاس بیل آرڈر تھا پھر بھی 2دن میرے گھر پر دھاوابولاگیا،چورہوتا تواپنی بیمار بیٹی کو چھوڑ کر واپس نہ لوٹتا،نوازشریف اپنی بیمار اہلیہ کو چھوڑ کرواپس نہ آتا،انہوں نے کہا کہ نیب شہبازشریف کےخلاف ایک پائی کی کرپشن ثابت نہ کرسکا،مسلم لیگ ن کے رہنما نے کہاکہ نیب نے کہا آپ نے 85یا33ارب نہیں،18کروڑ کا حساب دینا ہے،انہوں نے کہا کہ18سال کی عمر میں 6ماہ اڈیالہ جیل کی یاترا کی،مشرف دورمیں 6،6گھنٹے تک نیب دفترمیں بٹھایاجاتا تھا،میرے 10سال کا حساب کون دےگا؟انہوں نے کہا کہ یہاں لوگ پھانسی چڑھ جاتے ہیں پھر کہاجاتا ہے باعزت بری ہوگیا،لوگوں کے سر شرم سے جھک گئے،انہیں عزت کون دےگا۔

متعلقہ خبریں