حکومت تمام اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام ۔۔۔ اقتصادی جائزہ رپورٹ نے تمام پول کھول کر رکھ دیئے

2019 ,جون 9



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اقتصادی جائزہ رپورٹ کے مطابق سابق حکومت کی جانب سے اقتصادی ترقی کی شرح 6.3 فیصد طے کی گئی تھی تاہم جون میں اختتام پذیر ہونے والے رواں مالی سال میں اقتصادی ترقی کی شرح تنزلی کے بعد 3.3 فیصد رہ جانے کا امکان ہے۔ رپورٹ کی رو سے موجودہ حکومت پہلے سے طے شدہ تمام اہداف کے حصول میں ناکام رہی۔حکومت کی جانب سے اقتصادی جائزہ رپورٹ 19-2018 باقاعدہ طور پر بجٹ کے بعد پیش کی جائے گی تاہم رپورٹ کے چند اقتباسات ڈان کو موصول ہوئے ہیں۔رپورٹ میں فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق لائیو اسٹاک کے شعبے میں طے شدہ اہداف کے مقابلے میں معمولی بہتری آئی لیکن دیگر تمام شعبہ جات میں توقعات سے کم نتائج رہے۔صنعتی شعبہ میں شرح نمو تیزی سے تنزلی کا شکار ہوئی اور مقررہ ہدف 7.6 فیصد کے مقابلے میں صرف 1.4 فیصد شرح نمو ریکارڈ کی گئی۔یہ امر قابل توجہ ہے کہ توانائی کے شعبے میں متعدد پاور پلانٹس کا اضافہ ہوا اور شعبہ کے دیگر سیکٹر کے منصوبے بھی مکمل ہونے کے باوجود شرح نمو غیر معمولی کم رہی۔مینوفیکچرنگ کے شعبے میں شرح نمو کا ہدف 8.1 فیصد طے کیا گیا تھا تاہم رپورٹ کے مطابق اسمال مینوفیکچرنگ کے شعبے میں 0.3 فیصد اور بڑے مینوفیکچرنگ کے شعبے میں 2 فیصد ہی اضافہ ہوسکا۔سروس کے شعبے میں رواں مالی سال کے اختتام تک شرح نمو کا ہدف 6.5 فیصد کے مقابلے میں صرف 4.7 فیصد رہا جبکہ تعمیراتی شعبے میں شرح نمو 10 فیصد کے مقابلے میں 7.6 فیصد رہا۔رپورٹ کے مطابق اہم پالیسیوں سے متعلق حکومتی فیصلوں میں تاخیر کے باعث کئی شبعے متاثرہ ہوئے۔رپورٹ کے مطابق بیل آؤٹ پیکج کے لیے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے معاہدوں، تعمیراتی اور صنعتی شعبوں سے متعلق فیصلوں میں تاخیر کے باعث سرمایہ کار اور ایکسپورٹرز تذبذب کا شکار رہے۔

متعلقہ خبریں