مریم نواز کے بیان نے پاکستان کی سیاست میں کھلبلی مچا دی

2019 ,جولائی 23



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ تم ایسے لاڈلے ہوجو کسی کے سامنے بھی جھک سکتا ہے،تمہیں امریکا نہیں جانا چاہیے تھا، تم نے وہاں جاکر اس کی تصدیق کی جو تمہارے بارے میں سب جانتے ہیں،اب واپس آؤ!میرے خلاف مزید کیسز بناؤ ، میری سیاست، احتجاجی ریلیوں اور میڈیا کوریج پر پابندی کے احکامات جاری کرو۔انہوں نے ٹویٹر پر وزیراعظم عمران خان کے امریکی صدر ٹرمپ کی تعریف میں ان کے ٹویٹ پر اپنے ردعمل میں کہا کہ تمہیں امریکا نہیں جانا چاہیے تھا، تم نے وہاں جاکر اس کی تصدیق کی جو تمہارے بارے میں پہلے ہی جانتے ہیں۔تم ایک ایسے لاڈلے ہو، جو کسی بھی اتھارٹی اور مطالبے کے سامنے اپنی غیرقانونی طریقے سے حاصل طاقت کو برقرار رکھنے کیلئے جھک سکتا ہے۔مریم نواز نے کہا کہ آؤ!میرے خلاف مزید کیسز بنانے ، میری سیاست، احتجاجی ریلیوں اور میڈیا کوریج پر پابندی عائد کرنے کے احکامات جاری کریں۔انہوں نے کہا کہ تم میڈیا اور اظہار رائے کی آزادی پر پابندی لگانے پر کیوں جھوٹ بولتے ہو۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا کہ ’’ میں واشنگٹن کےکیپیٹل ون ارینا میں پاکستانی ۔امریکن کمیونٹی کی اتنی بڑی تعداد کی جانب سے بطور وزیراعظم امریکہ کے میرے پہلے دورے پر لوگوں کی حمایت اور سپورٹ پر شکریہ ادا کرتا ہوں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی مسئلہ کشمیر ،جس نے 70سال سے کشمیریوں کو یرغمال بنا رکھا ہے کو حل کروانے کے لیے پاکستان اور بھارت کو مذاکرات کی میز پر بلانےکی پیشکش پر بھارت کے ردِ عمل سے حیرت ہوئی ہے، کشمیریوں کی نسلوں نے دکھ سہا ہے اور اب بھی روز سہہ رہی ہیں، ان کے مسئلے کا حل ہونا چاہیے‘‘۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میں سیاسی جماعتوں سے نہیں، مافیا سے لڑ رہا ہوں،ایک طرف ہم معیشت کو مستحکم کررہے، دوسری طرف پوری اپوزیشن ملک کو غیرمستحکم کررہی ہے،دونوں جماعتوں کو شکست دینے میں سوشل میڈیا سے مدد ملی، پاکستان میں60 فیصد سے زائد نوجوان کی آبادی ہے، ہم نے نوجونوں کو متحرک کیا،میڈیا کا بھی احتساب ہونا چاہیے، پاکستان میں میڈیا برطانوی میڈیا سے زیادہ آزاد ہے۔وزیراعظم عمران خان یوایس انسٹیٹیوٹ آف پیس میں تھنک ٹینک سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں ایک آزاد ملک میں رہتا ہوں، میں آزادی کی اہمیت جانتا ہوں۔60کی دہائی میں پاکستان تیزی سے ترقی کرنے والا ملک تھا،جبکہ 70کی دہائی میں پاکستان کا رخ غلط سمت میں ہوگیا تھا،80کی دہائی پاکستان کرپشن کی وجہ سے نیچے آگیا۔حکمرانوں اور اشرافیہ کی کرپشن کسی بھی ملک کی عوام کو غریب بنا دیتی ہے۔کرپشن ہی کی وجہ سے ملک اپنی صلاحیت کے مطابق ترقی نہیں کرتے۔ کرکٹ کے بعد میں نے سوشل سرگرمیاں شروع کیں، اور اپنی زندگی کے 7سال کینسر ہسپتال کی تکمیل میں گزارے۔انہوں نے کہا کہ سات سال قبل تحریک انصاف اپنے سیاسی عروج پر تھی۔ہم نے کرپشن کے خلاف آواز اٹھائی، لوگ کرپشن اور غربت کا آپس میں تعلق نہیں سمجھ پاتے تھے۔2013ء کے الیکشن میں چارصوبوں میں ایک صوبے میں حکومت بنائی اور 2018ء کے الیکشن میں ایک صوبے میں کارکردگی دکھانے کی بنیاد پر پاکستان میں حکومت بنائی۔ہمیں گزشتہ 10مہینوں میں بے شمار چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔بڑا چیلنج دیوالیہ پن اورکرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہے۔ کرپشن اور منی لانڈرنگ میں فرق ہے کہ جب حکمران ملک میں کرپشن سے پیسا بناتے ہیں تو وہ پیسا پھر بیرون ملک منتقل کردیتے ہیں۔جس سے دو نقصان ہوتے ہیں کہ ایک پیسا جو لوگوں پر خرچ ہونا تھا وہ کرپٹ لوگوں کی جیبوں میں چلا گیا اور دوسرا نقصان وہ پیسا ملک سے باہر منتقل کردیا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں