تم لوگوں پر رحم کر کے بہت بڑی غلطی کی۔۔۔۔کرتار پور راہداری سے متعلق سابق پاکستانی ہائی کمشنر نے دنگ کر ڈالنےوالا بیان داغ دیا

2019 ,اگست 7



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں سابق پاکستانی ہائی کمشنر عبد الباسط نے کہا ہے کہ پا کستان نے مسئلہ کشمیر پر بھارتی اقدام پر جو اقدامات کئے ہیں ، وہ بہت اچھے ہیں لیکن کرتار پور راہداری کے حوالے سے ابھی فیصلہ کرلیا جاتا تو بہت اچھا ہوتا ۔جیونیوز کے پروگرام ”آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ“میں گفتگو کرتے ہوئے عبد الباسط نے کہا کہ پاکستان نے بھارتی اقدام پر جو اقدامات کئے ہیں ، وہ بہت اچھے ہیں لیکن کرتار پور راہداری کے حوالے سے ابھی فیصلہ کرلیا جاتا تو بہت اچھا ہوتا ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے اندر سے بھی دباﺅ ڈالنابہت ضروری ہے ، ہم نے پچھلے 15سال سے مسئلہ کشمیر کوکوئی زیادہ اہمیت نہیں دی ،ہم مذاکرات کی بات کرتے رہے ۔ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری ہم اس وقت ہی سنجیدگی سے لے گی جب ہم خود سنجیدگی کا مظاہرہ کریں گے ، اب جب 15اگست کویوم سیاہ منایا جارہا ہے تو ہم کو چاہئے کہ دنیا بھر میں لاکھوں کی تعداد میں کشمیری اور پاکستانی مظاہروں کیلئے نکلیں تاکہ مسئلہ کشمیر کواجاگر کیا جاسکے ۔ ہم کو اب عالمی برداری کو احساس دلاناہے کہ مسئلہ کیاہے ؟ بھارت نے اب مظالم اور تیز کرنے ہیں اور معاملات سنگین ہونیوالے ہیں ۔ ۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے قرارداد پاس کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کا کوئی بھی یک طرفہ حل قابل قبول نہیں۔مشترکہ اجلاس میں مذمتی قرارداد چیئرمین کشمیر کمیٹی فخر امام نے پیش کی جس میں کہا گیا کہ ہم مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے غیر قانونی اقدام کی شدید مذمت کرتے ہیں۔مذمتی قرارداد میں کہا گیا کہ مسئلہ کشمیر کا کوئی یک طرفہ حل قابل قبول نہیں، مقبوضہ کشمیر عالمی طور پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے، مسئلے کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت ہی ممکن ہے۔قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اور شہری آزادی پر پابندی قبول نہیں ہے، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں قابل مذمت ہیں، پاکستانی حکومت اور عوام کشمیری بہن بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

متعلقہ خبریں