سائنسدانوں نے مٹی کھا کر وزن کم کرنے کا طریقہ ڈھونڈ نکالا

2018 ,دسمبر 14



کنبرا(مانیٹرنگ رپورٹ) موٹاپے سے نجات کے لیے لوگ ڈائٹنگ کرتے ہیں، ورزش کرتے ہیں اور کچھ ادویات کا سہارا بھی لیتے ہیں لیکن اب سائنسدانوں نے وزن کم کرنے کا ایک ایسا انوکھا طریقہ ڈھونڈ نکالا ہے کہ سن کر آپ دنگ رہ جائیں گے۔ میل آن لائن کے مطابق آسٹریلوی سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں بتایا ہے کہ مٹی انسانی جسم میں چکنائی کو جذب ہونے سے روکتی ہے اوراسے اپنے ساتھ ہی جسم سے باہر نکال دیتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روزانہ ڈنر کے ساتھ ایک چمچ مٹی کھانے سے انسان کو موٹاپے سے نجات مل سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی آف ساﺅتھ آسٹریلیا کے سائنسدان دراصل ڈائریا کے مریضوں کو دی جانے والی ادویات میں استعمال ہونے والی چینی مٹی پر تحقیق کر رہے تھے کہ وہ گولی کی شکل میں جسم میں جا کرکس طرح جزو بدن بنتی ہے۔ اس دوران حادثاتی طور پر سائنسدانوں نے مشاہدہ کیا کہ جسم میں جانے کے بعد یہ مٹی نہ صرف خود جزو بدن نہیں بن رہی تھی بلکہ اپنے اجزاءمیں چکنائی کے اجزاءکو پھنسا کر انہیں بھی جزوبدن ہونے سے روک رہی تھی۔تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ ٹینی ڈیننگ کا کہنا تھا کہ ”یہ انکشاف ہمارے لیے بہت حیران کن اور غیرمتوقع تھا۔ گولی میں موجود مٹی کے اجزاءٹوٹ کر جزو بدن بننے کی بجائے چکنائی کے چھوٹے چھوٹے قطروں کو اپنے اندر جذب کر رہے تھے اور انہیں جزوبدن بننے سے روک رہے تھے۔ بالآخر یہ چکنائی کو ساتھ لیے ہی فضلے کی صورت میں جسم سے نکل گئے۔“

    ٹینی ڈیننگ نے بتایا کہ ”مٹی کی اس خاصیت کے انکشاف پر ہم نے چوہوں پر اس کے تجربات شروع کیے۔ چوہوں کے دو گروپوں کو ہم نے چکنائی سے بھرپور خوراک دینی شروع کی۔ ساتھ ہی ان میں سے ایک گروپ کو موٹاپے سے نجات کی ادویات دیتے رہے اور ایک گروپ کو مونٹ موریلونائٹ نامی مٹی۔ چند ہفتے بعد ہم نے دیکھا کہ جس گروپ کو مٹی کھلائی جاتی رہی ان کا وزن بالکل بھی نہیں بڑھا جبکہ دوسرے گروپ کے چوہوں کا وزن اوسطاً50فیصد تک بڑھ گیا۔ ان تجربات سے ثابت ہوا کہ مٹی کو موٹاپے سے نجات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اب ہم مٹی کی دیگر اقسام کو استعمال کرتے ہوئے تجربات کر رہے ہیں کہ آیا چکنی مٹی اور دیگر اقسام بھی انہی خواص کی حامل ہیں یا نہیں۔ ہم پرامید ہیں کہ جلد انسانوں پر بھی اس کا تجربہ کیا جائے گا۔“

    متعلقہ خبریں