ٹرمپ انتظامیہ بھی عمران خان کو مان گئی۔۔۔ پاکستانی وزیر اعظم کی کاوشوں کو دیکھتے ہوئے امریکہ نے شاندار اعلان کر دیا

2019 ,جون 2



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد پاکستان پہنچ گئے ہیں۔ زلمے خلیل زاد پاک امریکا دوطرفہ مشاورتی اجلاس میں شرکت کریں گے ، یہ اجلاس پاکستانی وزارتِ خارجہ میں ہو گاجس میں پاک امریکہ دوطرفہ تعلقات اور علاقائی سلامتی کے امور زیر غور آئیں گے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ امریکی وفد اعلی سول و عسکری حکام سے ملاقاتیں بھی کرے گا جبکہ زلمی خلیل زاد پاکستان کے سیکرٹری خارجہ سہیل محمود سے بھی ملاقات کریں گے۔یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ایک بیان میں زلمے خلیل زاد نے او آئی سی اجلاس کے موقع پروزیراعظم عمران خان اور افغان صدر کی ملاقات کا خیر مقدم کرتے ہوئے پاک افغان تعلقات کو علاقائی تعاون، ہم آہنگی کا اہم جز قرار دیا تھا۔انہوں نے کہا تھا کہ امریکا افغان امن کے سلسلے میں معاونت کیلئے ہمہ وقت تیار ہے۔ اس سے پہلے جنوری میں زملے خلیل زاد نے بتایا تھا کہ طالبان کے ساتھ دہشتگردی کے خلاف موثر اقدامات اور امریکی فوج کے انخلاء کی ٹائم لائن پر اتفاق ہو گیا تھا اور ان معاملات پر معاہدے طے پا گئے تھے۔انکا کہنا تھا کہ دونوں فریقین جنگ بندی چاہتے ہیں۔ طالبان کے ساتھ امریکہ کے یہ مذاکرات جنوری میں شروع ہوئے تھے اور 12فروری 2019کو اختتام مزیر ہو گئے تھے۔ یہ مذاکرات قطر کے شہر دوحہ میں جنوری میں شروع ہوئے تھے اور اپریک میں ختم ہو گئے۔ اس سے پہلےامریکہ کے افغانستان کے ساتھ ہونے والے زیادہ تر مذاکرات ناکام رہے لیکن اس بار دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں امریکہ اور طالبان دونوں نے کئی معاملات میں پر اتفاق کر لیا گیا تھا۔گزشتہ دنوں بھی امریکہ کے ساتھ طالبان کے ہونے والے مذاکرات میں زلمے خلیل زاد کا اہم کردار رہا اور انہوں نے ہی بتایا تھا کہ طالبان کے ساتھ طویلمذاکرات کا دور ختم ہو گیا ہے اور امریکہ اور طالبان نے کئی معاملات پر اتفاق کر لیا ہے۔ اب انہوں نے اپنے ٹویٹر پیغام میں بتایا ہے کہ اگر امریکہ افغانستانسے جائے گا تو نیٹو اور اتحادی افواج بھی امریکہ کے ساتھ ہی افغانستان سے جائیں گی۔ زلمے خلیل زاد نے اپنے پیغام میں لکھا ہے کہ نیٹو اور اتحادی افواج کے ساتھ مل کر کام کرنا ہماری پہلی ترجیح رہا ہے اور اب بھی اگر ہم افغانستان سے گئے تو ان کے ساتھ ہی جائیں گے اور یہ سب افغانستان کی حفاظت اور امن کے قیام کے لیے ہے۔

متعلقہ خبریں