انا للہ وانا الیہ راجعون : پاکستان کے نامور ادیب و شاعر انتقال کرگئے

2019 ,جولائی 16



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک): پاکستان کے معروف ادیب حمایت علی شاعر طویل عرصے کی علالت کے بعد دل کا دورہ پڑنے کے باعث انتقال کرگئے۔ڈان نیوز کے مطابق حمایت علی شاعر کا انتقال 93 برس کی عمر میں کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں ہوا جبکہ ان کی تدفین بھی وہیں ہوگی۔حمایت علی شاعر کی زندگی


پر نظر ڈالی جائے تو وہ 14 جولائی 1926 کو اورنگ آباد دکن میں پیدا ہوئے، جبکہ تقسیم ہند کے بعد انہوں نے پاکستان آکر کراچی میں سکونت اختیار کرلی۔انہوں نے سندھ یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے کیا اور وہیں سے اپنے لکھنے کے سفر کا آغاز کیا۔حمایت علی شاعر نے مختلف شعبوں میں کام کیا ہے جن میں تدریس، صحافت، ادارت، ریڈیو، ٹیلیویژن، فلم اور تحقیق شامل ہیں۔ ٹیلی ویژن پر ان کے کئی تحقیقی پروگرام پیش کئے جا چکے ہیں جن میں ‘خوشبو کا سفر’، ‘عقیدت کا سفر’، ‘لب آزاد’ کافی مقبول ہیں۔حمایت علی شاعر کو 2002 میں حکومت کی جانب سے تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔انہوں نے متعدد فلموں کے لیے گیت بھی تحریر کیے جن کے لیے انہیں نگار اور مصور ایوارڈ سے نوازا بھی جاچکا ہے۔آپ کا شعری مجموعہ’ گھن گھرج‘ 1950ء میں بھارت سے شائع ہوا، آپ کا واحد گیتوں کا مجموعہ ’سرگم‘ ہے جبکہ دیگر مجموعوں میں آگ میں پھول،مٹی کا قرض،ہارون کی آواز اور تشنگی کا سفر شامل ہیں۔حمایت علی شاعر نے ‘لوری’ نامی ایک فلم پروڈیوس بھی کی تھی جو اپنے وقت کی کامیاب ترین فلم تھی۔ان کے فلمی نغمات کا مجموعہ بھی ‘تجھ کو معلوم نہیں’ کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ کے مطابق مظہر کلیم ایم اے 22 جولائی 1942 کو ملتان کے علاقے کڑی افغاناں میں پیدا ہوئے۔ان کا اصل نام مظہر نواز خان تھا تاہم وہ مظہر کلیم ایم اے کے نام سے دنیا بھر میں ملتان کی پہچان بنے۔ابن صفی کے انتقال کے بعد مظہر کلیم نے ان کے کردار علی عمران کے نام سے معروف ہونے والی ’عمران سیریز‘ کو آگے بڑھایا اور بچوں کے لیے سیکڑوں ناول تحریر کیے۔مظہر کلیم ماہر قانون بھی تھے اور وہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ملتان کے سینئر نائب صدر بھی منتخب ہوئے، تاہم انہوں نے وکالت کی بجائے قلم کو اپنی پہچان بنایا۔وہ ریڈیو پاکستان ملتان کے معروف پروگرام ’جمہور دی آواز‘ کے میزبان کی حیثیت سے بھی شہرت رکھتے تھے۔مظہر کلیم کی عمران سیریز ابن صفی کی کہانیوں سے مختلف بھی تھی اور انہوں نے بہت سے ایسے کردار متعارف کرائے جو بچوں میں اپنے منفرد ناموں کی وجہ سے بہت مقبول ہوئے، بالخصوص ’چلوسک ملوسک‘، ’چھن چھنگلو‘ اور ’آنگلو بانگلو‘ قابل ذکر ہیں۔انہوں نے الفاظ کے الٹ پھیر سے بھی بچوں کو متوجہ کیا اور کہانیوں میں اصلاحی نکتہ نظر کو بھی نمایاں رکھا۔ان کے ناولوں کی تعداد 600 سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔مظہر کلیم ایم اے کی نماز جنازہ ابدالی مسجد ملتان میں ادا کی گئی جس میں ادیبوں، شاعروں اور ماہر قانون سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ان کو آبائی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

متعلقہ خبریں