اچھا تو یہ بات تھی ۔۔۔۔تاجر برادری آخر ’شناختی کارڈ‘ کے نام سے اتنا کیوں گھبرا گئی ہے؟ چونکا دینے والے حقائق

2019 ,جولائی 16



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) ہفتے کے روز گرمی اپنے عروج پر تھی اور تیز ہوا کے باوجود پسینے چھوٹ رہے تھے۔اب چونکہ ہم ٹھہرے رپورٹر لہٰذا گرمی ہو یا سردی، ہنگامہ ہو یا کسی طوفان کی آمد، خبر عوام تک پہنچانے کے لیے فیلڈ میں نکلنا ہی پڑتا ہے۔ اسی لیے ہفتے کو تاجروں کی ملک گیر ہڑتال کی رپورٹنگ کے لیے کراچی کی مارکیٹوں میں پھرتا رہا۔ پسینے اور گرمی کی وجہ سے بہت نقاہت محسوس ہورہی تھی اس لیے کچھ دیر آرام کی خاطر پریس کلب کا رُخ کرلیا۔کام تو چونکہ کرنا ہی تھا، اس لیے مزید کام کرنے سے پہلے ایک ٹھنڈا لیموں پانی کا گلاس منگوایا اور پھر ہڑتال میں اہم کردار نبھانے والے عتیق میر سے فون پر رابطہ کیا۔ عتیق میر کے مطابق تو ہڑتال نہ صرف کامیاب رہی بلکہ حکومت کو پیغام بھی مل گیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں ہر حکومت نے پرچون کی سطح پر سیلز ٹیکس عائد کرنے کی کوشش کی ہے مگر کوئی بھی حکومت ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔عتیق میر کے مطابق سیلز ٹیکس اور جنرل سیلز ٹیکس کے خلاف تاجروں نے 50 سے زائد ہڑتالیں کی ہیں۔ پرویز مشرف کے دور میں سیلز ٹیکس سروے کے خلاف ہڑتال 17 دن تک جاری رہی اور یہ اب تک کی سب سے طویل ہڑتال ہے۔ اسی طرح سونے کے تاجروں نے بھی ٹیکسوں کے عائد کیے جانے کے خلاف 45 دن کاروبار بند رکھا تھا۔فون بند کیا تو سوشل میڈیا پر وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور حماد اظہر کے بیان پر نظر پڑی جس میں وہ نہ صرف ہڑتال کی مخالفت کررہے تھے بلکہ انہوں نے دعویٰ بھی کیا کہ پاکستان کے تاجروں کی اکثریت نے ہڑتال کی کال مسترد کردی ہے۔ وہ حکومت کی پالیسی کی حمایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان کے جی ڈی پی میں ریٹیل یا پرچون کا حصہ تقریباً 20 فیصد ہے جبکہ ٹیکسوں میں اس کا حصہ 0.25 فیصد ہے۔ حماد اظہر کا کہنا تھا کہ حقیقت یہ ہے کہ دکانداروں کی بڑی تعداد ٹیکس نیٹ میں رجسٹر ہی نہیں

متعلقہ خبریں