ہنگامہ خیزی

2019 ,مئی 10



رواں ہفتے کے ابتدائی چند روز بڑے ہنگامہ خیز گزرے۔ داتادربار کے سامنے پولیس وین پر خودکش حملہ قوم کے پرانے زخم تازہ کر گیا۔ اس حملے میں چار پولیس اہلکاروں سمیت 10 افراد شہید ہوئے۔ ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا، دہشتگردوں کا ٹھکانہ داتادربار کے گردونواح میں تھا۔ یہ لوگ ہوٹلوں اور سراؤں میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ اس علاقے میں چھ ہوٹل اور چھ سرائے ہیں جو پولیس کو منتھلی دیتے ہیں۔ اس الزام میں اگر صداقت ہے منتھلی لینے والوں پر لعنت،انکو ڈوب مرنا چاہیے۔ انکے ساتھی دہشت گردی کا نشانہ بن گئے، منتھلی لینے والے کیا محفوظ ہیں؟ دہشتگرد کہاں سے آیا؟ انٹیلی جنس ادارے کھوج لگا رہے ہیں۔ بم دھماکے اور خودکش حملے سہولت کاری کے بغیرہو ہی نہیں سکتے۔ نیشنل ایکشن پلان کے تمام پہلؤوں میں سب سے کمزور دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے حوالے سے ہے۔ انکے خلاف سخت کارروائیوں کا فقدان ہے۔مشکوک افراد کو ٹھہرانے اور ان سے منتھلی لینے والوں سے زیادہ سہولت کار کون ہوسکتا ہے؟۔ منظور پشتین کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے جو انکشافات کئے ان کے تحت ایسے لوگ غداری کے زمرے میں آتے ہیں۔ان لوگوں کو سزاتو درکنار گرفتاری بھی عمل میں نہیں آسکی۔کوئی بھی شخص انفرادی طور پر یا کوئی گروہ اور گروپ اجتماعی طور پر ریاست کا مقابلہ نہیں کرسکتا،ریاست کمزوری کا تأثر کیوں پیدا ہونے دیتی ہے۔

اسی ہفتے ایک ہنگامہ میاں نواز شریف کو ان کی سپریم کورٹ کی طرف سے دی گئی چھ ہفتے کی ضمانت ختم ہونے پر جیل جانے کی صورت میں برپا ہوا۔انہوں نے 7 مئی کو خود کو حوالۂ زنداں کرنا تھا۔ سپریم کورٹ کی طرف سے کہا گیا تھا، اگر وہ گرفتاری نہیں دیتے تو پولیس گرفتار کرکے جیل پہنچائے۔ پولیس ضابطے کی کارروائی مکمل کرنے کے لیے سر شام جاتی عمرہ پہنچ گئی۔ اس وقت میاں نواز شریف از خود جیل جانے کی تیاری کر رہے تھے۔ مسلم لیگ نون اپنے قائد کو بڑی سج دھج اور جوش و جذبے سے جیل لے کر گئی۔ مریم والدکے ساتھ گاڑی میں تھیں۔ مسلم لیگ ن کے حلقے اس قافلے کوباطل کے مقابلے میں حق کاعلمبردار قرار دے رہے تھے۔ پُر ولولہ کارکن بے پایاںجوش و جنوں کا مظاہرہ اور جاں نچھاور کرنے کے پُرزور نعرے لگاتے نظر آئے ۔ کئی جوشیلے متوالے کمنٹس کر رہے تھے۔

جس سج دھج سے کوئی مقتل کو گیا وہ شان سلامت رہتی ہے

یہ جان تو آنی جانی ہے اس جان کی کوئی بات نہیں

مریم نواز کے لیے اپنے والد کو جیل لے جانا شامِ غریباں سے کم نہ تھا۔ یہ شام ان کے حامی دھوم دھام سے منا رہے تھے۔ لیگیوں کے والہانہ پن سے لگتا تھا ، انہوں نے اپنے قائد کے استقبال کا حق ادا کر دیااور وہ خفت بھی کسی حد تک مٹ گئی جو میاں نواز شریف اور مریم کی لندن سے گرفتاری دینے کے لیے لاہور ایئرپورٹ آمد پر لیڈر شپ کی مصلحت سے ماتھے پر داغ بنی تھی ۔آج کامیاب استقبال کی ایک وجہ شہباز شریف کی وطن میں عدم موجودگی بھی بتائی جاتی ہے۔شہباز شریف پر لیگی حلقوں کے اندر سے الزام لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے میاں نواز شریف کی لندن سے آمد پر زیادہ دلچسپی اور جوش و خروش کے اظہار میں کنجوسی سے کام لیا۔میاں نواز شریف کے اس استقبال پر حکومتی اور اس کے حامی حلقے کے پیچ و تاب کھاتے رہے۔فردوس عاشق اعوان نے بھی میاں نواز شریف کے جیل جانے کے استقبال کو سج دھج سے تعبیر کرتے ہوئے جلی کٹی سنائیں ۔ کہا سزا یافتہ مجرم سج دھج سے جیل گیا جیسے اس نے کرپشن کا ورلڈ کپ جیتا ہے۔ٹی وی چینل پر نواز شریف کے حامیوں اور مخالفین نوک جھونک جاری رہی۔ اپنی اپنی زبان بولتے رہے۔حامی انہیں منڈیلا اور مہاتیر سے کم قرار دینے پر تیار نہیں تھے۔ گردن زدنی پر تلے مخالفین قانون کی تعبیر کر رہے تھے کہ میاں نوازشریف کو شام 6 بجے سے پہلے جیل میں پیش ہوکر قیدیوں کی گنتی میں شامل ہونا تھا۔ وہ چھ بجے تک اپنے گھر میں تھے تو کہا گیا قانون کہاں ہے؟ پولیس کہاں ہے؟ان پلک جھپکتے میں پکڑ کیوں نہیں لیتی۔ پولیس کا کو اکسایا اور اس کا لہوں گرمایاجا رہا تھا۔پولیس ٹس سے مس نہ ہوئی۔ رانا ثناء اللہ نے بھی موچھوں کو تائو دیتے ہوئے حکومت اور پولیس کو تڑی لگا رکھی تھی۔ دل کو ویراں کہنے والے میاں نواز شریف کے دل کے اس طرح جوبن پر کام کرتے دیکھ کر لوگ حیراں تھے۔ میاں نوازشریف 20 منٹ کے بجائے چار گھنٹے میں جاتی امرا سے ہجوم عاشقاں میں جیل پہنچے ،رات بارہ بجے جیل حکام نے گیٹ کھولنے سے انکار کر دیا اس موقع پر بہتر تھا میاں نواز شریف واپس جاتی امرا چلے جاتے ہیں ۔ مزید ایک رات سُکھ چین آزادی و سکون سے گزارتے تاہم جیل حکام کو گیٹ کھولتے ہیں بنی۔ اس سارے معاملے میں طرفین کی جانب سے مثبت پہلو یہ سامنے آیا کہ حکومت نے ان کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جبکہ میاں نواز شریف کی طرف سے ایسی کوئی بات اور اقدام سامنے نہیں آیا جو حکومت کی سبکی یا عدالت کی برافرختگی کا باعث بنا ہوتا۔میاں نواز شریف نے کسی جذباتی تقریر سے گریز کرکے مناسب رویے کا اظہار کیا۔وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ضمانت کیلئے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ایسے رویے انکی حمایت میں جائینگے۔ انہوں نے محض اسی پیغام پر اکتفا کہ کیا ظلم کی سیاہ رات ختم ہونے والی ہے یہ پیغام بھی مریم نواز کے ذریعے لوگوں تک پہنچایاگیا۔ میاں نواز شریف کے شام چھ بجے کے بجائے رات بارہ بجے جیل جانے سے کوئی قیامت نہیں آ گئی نہ ہی ان کی سزا میں کمی ہو گئی۔

متعلقہ خبریں