اسلام آباد ہائیکورٹ میں آصف زرداری اور فریال تالپور کی ضمانت کی درخواست کی سماعت کے دوران ایک وکیل نے ایسا کام کر دیا کہ عدالت شدید برہم ہو گئی

2019 ,مئی 30



اسلام آباد (مانیٹرنگ رپورٹ) اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیف جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل دو رکنی بینچ جعلی اکاﺅنٹس کیس میں آصف زرداری اور فریال تالپور کی عبوری ضمانت میں توسیع کی درخواست پر سماعت کر رہا ہے۔ دوران سماعت نیب پراسیکیوٹر کے دلائل دے رہے تھے کہ اس دوران ایک وکیل نے بات کرنے کی کوشش کی جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آرام سے کھڑے ہو جائیں ، یہ کوئی مذاکرہ یا ٹاک شو نہیں ہے ۔نیب کے وکیل سمٹ بینک کے منیجر پر دلائل د ے رہے ہیں ۔ تاہم عدالت کے اظہار برہمی پر وکیل نے معذرت کر لی ۔

    نیب پراسیکیوٹر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جعلی اکاﺅنٹس کیا ہیں ؟ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں بتا دیاہے ، جعلی اکاﺅنٹس اور بے نامی اکاﺅنٹس کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔نیب پراسیکیوٹر کا کہناتھا کہ منی لانڈرنگ کیلئے طارق سلطان کے نام پر اکاﺅنٹ کھولا گیا ۔ عدالت نے استفسار کیا کہ اکاﺅنٹ کھولنے اور ٹرانزیکشن کا وقت کیا ہے ؟ نیب نے بتایا کہ 2014 اور 2015 کے درمیان یہ اکاﺅنٹس کھولے اور استعمال کیے گئے ۔ نیب پراسیکیوٹر کاکہناتھا کہ جو اکاﺅنٹ ہولڈر کی مرضی کے بغیر کھولے اور چلائے جائیں وہ جعلی ہیں ،یہ تہہ در تہہ انتہائی پوشیدہ پیسوں کی منتقلی کا بھیانک جرم ہے ۔

    متعلقہ خبریں