وزیر اعظم عمران خان ، شریف خاندان اور زرداری خاندان کو ریلیف دینے پر تیار، ٹی وی پر آکر بڑا پیغام جاری کر دیا

2019 ,جولائی 1



ہور(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ این آر او نہیں ملے گا پیسا واپس کرنا ہوگا، کرپٹ افراد کوعام جیلوں میں رکھنے کی قانون سازی کریں گے، وزیرقانون سے کہا ہے ایسا قانون بنائیں کہ ان افراد کو عام جیل میں رکھا جائے۔ انہوں نے ٹی وی پر براہ راست عوام کے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو ملک کا سب سے بڑا خسارہ ملا۔لیکن اب معیشت درست سمت میں جا رہی ہے۔ مشکل مہینہ نکل گیا ہے۔ ڈالر کی قدربہتر ہوجائے گی۔ آئی ایم ایف سے3 جولائی کومیٹنگ ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاری سے ملک ترقی کرے گا۔ کلوزنگ کے بعد انٹربینک میں دباؤ رواں ماہ میں کم ہوگا۔ روپے کی قدرمیں کمی ہوگی تو ڈالر کی قیمت بڑھے گی۔ پچھلی حکومت نے ڈالر باہر بھیجنے کیلیے مصنوعی طور پر قدر زیادہ رکھی۔ہر سال 10ارب ڈالر منی لانڈرنگ کے ذریے باہر جاتے ہیں۔ پچھلی حکومت نے14ارب ڈالرکے کمرشل قرضے لیے ہوئے تھے۔ ٹیکس کی آدھی رقم قرضو ں پر سود کی مد میں چلے گئے۔ دوست ممالک مدد نہ کرتے تو ملک دیوالیہ ہوجاتا۔ یو اے ای، چین، سعودی عرب اور اب قطر نے ہماری مدد کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹ کم ہوتوکرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھتاہے۔ ٹیکس بیس بڑا کرنے سے ٹیکس ٹارگٹ حاصل ہوگا۔اصلاحات میں مشکلات آتی ہیں۔ ترکی کو 2002 میں ہم سے زیادہ مشکلات درپیش تھیں۔ اردوان کے آنے کے بعد ترکی مشکلات سے نکل گیا۔ جاپان کے سفیر نے کہا چین کو برآمدات کیلئے پاکستان میں انڈسٹری ری لوکیٹ کرنا چاہتے ہیں۔ روس کے صدراور وسط ایشیا کی ریاستیں اب پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہیں۔ گوادر وسط ایشیائی ریاستوں کو سامان کی فراہمی کیلئے مختصر ترین راستہ ہے۔چین کے ساتھ تجارت کا خصوصی معاہدہ کیا گیا ہے۔ پاکستان کا محل وقوع زبردست ہے صرف استحکام چاہیے۔ درآمدات اوربرآمدات کے فرق کی وجہ سے روپے پر دباؤ پڑا۔ آئی ایم ایف نے ڈالرکی قدر بڑھانے کی کوئی شرط نہیں رکھی۔ گروتھ ریٹ وہ ہوتا ہے جوچین میں ہے 9 فیصد ہے۔ حکومت50 لاکھ گھر لارہی ہے۔ معیشت اوپر جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ملک کی فکرنہیں۔عیدیں باہرمناتے ہیں۔ میرا سب کچھ پاکستان میں ہے میں سب کچھ بیچ کرپاکستان آیا۔ انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ کسی بھی این آر او کیلئے سفارش نہیں چلے گی۔ اپوزیشن نے جو باتیں کیں انہیں شرم سےڈوب مرنا چاہیے۔ مشرف نے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کواین آر او دیے۔ جس کے بعد دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کو این آر او دیے۔ این آراو کیلئے مجھ پر کسی ملک کا دباؤ نہیں۔ان کو پیسے واپس کرنا ہوں گے۔ این آر او کیلئے کوئی سفارش نہیں آئی ہے۔ تاہم ان کے بیٹوں نے کسی کے ذریعے سفارش بھجوائی کہ کسی طرح انہیں باہر بھجوا دیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سب ادارے میری حکومت کے ساتھ ہیں۔ پاکستان کی فوج حکومت کے ساتھ کھڑی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج سے بے نامی پراپرٹیز پر ایکشن شروع ہونےوالا ہے۔ کل سے ان کی بے نامی پراپرٹیز ضبط ہونا شروع ہوں گی۔ سیاستدانوں کی بے نامی پراپرٹیز کے خلاف ایکشن شروع ہونے والا ہے۔ اسی طرح پیر کے بعد عام لوگوں کی بے نامی پراپرٹیز بھی ضبط ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ عام شہری 3 جولائی تک اسکیم سے فائدہ اٹھا لیں۔ کیونکہ 3 جولائی کے بعد کوئی ایمنسٹی نہیں ملے گی۔

متعلقہ خبریں