ہے نا ں حیرت کی بات ۔۔۔ ایسی لڑکی جس کا کئی سال تک ریپ ہوا اور کانگو کے کارکن کو نوبل انعام ملے گا

2018 ,اکتوبر 6



کانگو (مانیٹرنگ ڈیسک)دنیا کا سب سے معتبر ایوارڈ دینے والی سویڈن کی سویڈش اکیڈمی آف نوبل پرائز نے ‘امن کا انعام’ کئی سال تک ریپ کا نشانہ بننے والی عراقی لڑکی سمیت ریپ کے خلاف آواز اٹھانے والے افریقی سماجی کارکن کو دینے کا اعلان کردیا۔کمیٹی کے مطابق 2018 کا امن کا نوبل انعام عراق کے یزیدی کرد قبیلے سے تعلق رکھنے والی 25 سالہ نادیہ مراد اور افریقی ملک کانگو کے ریپ، تشدد اور جنسی جرائم کے خلاف آواز اٹھانے والے 63 سالہ سماجی کارکن ڈینس میکویج کو دیے جائے گا۔یہ دوسرا موقع ہے کہ امن کے نوبل انعام کے لیے دوسری بار کم عمر لڑکی کو نامزد کیا گیا ہے، اس سے قبل 2014 میں پاکستانی لڑکی ملالہ یوسف زئی کو یہ انعام دیا گیا تھا۔ملالہ یوسف زئی کو محض 17 سال کی عمر میں نوبل کا انعام دیا گیا تھا، ان کے ساتھ 61 سالہ بھارتی سماجی کارکن کیلاش سدھیارتھی کو یہ انعام دیا گیا تھا۔اس بار 2018 میں بھی نوبل کا انعام 25 سالہ عراقی سماجی کارکن نادیہ مراد اور 63 سالہ کانگو کے سماجی کارکن ڈینس میکویج کو دیا گیا ہے۔نادیہ مراد کم عمری میں نوبل انعام حاصل کرنے والی دوسری شخصیت بن گئیں۔نادیہ مراد عراق کے یزیدی کرد قبیلے سے تعلق رکھتی ہیں، 2003 میں امریکا کی جانب سے عراق پر حملے کے وقت ان کے خاندان کے کچھ افراد مارے گئے، وہ اس وقت انتہائی کم عمر تھیں۔جب نادیہ مراد کی عمر 19 برس تھی، تب دہشت گرد تنظیم داعش نے ان کے گاو¿ں پر حملہ کرکے 600 افراد کو قتل کردیا، جن میں سے ان کے بھائی اور دیگر اہل خانہ بھی شامل تھے۔اسی حملے کے دوران نادیہ مراد سمیت دیگر متعدد نوجوان لڑکیوں کو اغوا کرکے جنسی کاروبار کے لیے استعمال کیا گیا۔نادیہ مراد کم سے کم 3 سال تک داعش سمیت دیگر جنگجو گروپوں کے دہشت گردوں کے ہاتھوں جنسی کاروبار کے تحت فروخت ہوتی اور ریپ کا نشانہ بنتی رہیں۔بعد ازاں نادیہ مراد 2015 میں کسی طریقے سے داعش کے قبضے سے بھاگنے میں کامیاب ہوگئیں۔فروری 2015 میں نادیہ مراد کو اقوام متحدہ (یو این) کے اجلاس میں بلایا گیا، جہاں انہوں نے اپنے ساتھ ہونے والی ذیادتیوں کی لرزہ خیز داستان سنائی، وہ اس وقت اقوام متحدہ کی جذبہ خیر سگالی کی سفیر بھی ہیں۔نادیہ مراد کا کہنا تھا کہ ان سمیت سیکڑوں نوجوان لڑکیوں کو وحشی جنگجو ریپ کا نشانہ بناتے سمیت ان پر بدترین تشدد کرتے رہے، جنگجو لڑکیوں کے جسموں کو سگریٹ سے جلانے سمیت دیگر طرح سے اذیتیں دیتے رہے۔نادیہ مراد اس وقت جرمنی میں مقیم ہیں اور لڑکیوں کے اغواء ، ریپ اور خواتین کے خلاف جنسی تشدد اور استحصال سے متعلق کام کرنے میں مصروف ہیں، انہوں نے ‘نادیہ انیشیٹو’ نامی سماجی تنظیم بھی قائم کر رکھی ہے۔نادیہ مراد کے ساتھ نوبل انعام کے حقدار دیے جانے والے کانگو کے 63 سالہ سماجی کارکن ڈینس میکویج پسماندہ ملک میں تشدد، جنگ اور خواتین کے استحصال جیسے جرائم کی روکتھام کے لیے کوشاں ہیں۔ڈینس میکویج نے حکومت کی توسط سے 1991 میں ایک ایسے ہسپتال کو بنایا جو خصوصی طور پر گینگ ریپ اور جنسی تشدد کی شکار خواتین کو بہتر اور جلد علاج کی سہولیات فراہم کرتا ہے۔ڈینس میکویج نے اسی ہسپتال میں کانگو میں دوسری خانہ جنگی یعنی 1998 کے دوران باغیوں اور جنگجو کی جانب سے گینگ ریپ، جنسی تشدد اور استحصال کی شکار ہونے والی ہزاروں خواتین کا علاج کیا۔وہ اس وقت بھی خواتین کے خلاف جنسی تشدد، استحصال اور ریپ کی روکتھام کے لیے کام کر رہے ہیں، انہیں نوبل انعام سے قبل بھی متعدد ایوارڈز سے نوازا جا چکا ہے۔

متعلقہ خبریں