مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی پر گورنر راج کے اثرات

2018 ,جولائی 2



مجید نظامی پریس انسٹیٹیوٹ میں مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی پر گورنر راج کے اثرات کے عنوان سے سیمینار ہوا جس کے مہمان خصوصی سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم، چیئرمین سینٹ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار۔ دفاعی تجزیہ کار بریگیڈئر (ر) غضنفر علی اور ڈاکٹر محمد اعجاز بٹ نے خیالات کا اظہار کیا۔ مجھے بھی اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع ملا۔
ابصار عبدالعلی ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ کے خوبصورت افتتاحیہ سے سیمینار کا آغاز ہوا جس میں سیر حاصل گفتگو کی گئی جس کی تفصیل نوائے وقت کے خصوصی ایڈیشن میں پیش کی جائے گی۔ 
مقبوضہ کشمیر میں محبوبہ مفتی کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) اور بی جے پی کا اتحاد تین سال چلا۔ دونوں کے نظریات میں واضح فرق ہے۔ پی ڈی پی بھی کشمیریوں کی نمائندہ جماعت تو نہیں ہے تاہم اس کے اندر قدرے انسانیت پائی جاتی ہے جو بی جے پی کے اندر مطلق موجود نہیں ہے۔ محبوبہ مفتی کی طرف سے کشمیریوں پر بھارتی فوج کے مظالم کیخلاف نحیف ہی سہی آواز اٹھتی رہی ہے جبکہ بی جے پی کشمیریوں پر بھارتی فورسز کی سفاکیت اور بربریت کو روا قرار دیتی ہے۔ بی جے پی مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے طاقت کا استعمال بجا سمجھتی ہے جبکہ پی ڈی پی مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر کا حل نکالنے کی حامی ہے۔ رواں سال فروری میں محبوبہ مفتی نے بھارت کو پاکستان کے ساتھ اس مسئلہ کے حل کیلئے مذاکرات کی تجویز دی تھی۔ اب ایڈیٹر رائزنگ کشمیر شجاعت بخاری کو بہیمانہ طریقے سے شہید کر دیا گیا تو پی ڈی پی نے اسے ٹھنڈے پیٹوں ہضم نہیں کیا۔ اس ہولناک قتل کیخلاف مقبوضہ وادی میں مظاہروں کا سلسلہ مزید تیز ہو گیا۔ برہان مظفر وانی کی جولائی 2016ء میں شہادت کے بعد تحریک آزادی کشمیر کو مہمیز ملی۔ بھارتی فوج کی سفاکیت میں بے رحمانہ اضافے کے باوجود احتجاج اور مظاہروں کا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہوا۔ پیلٹ گنوں کے بعد مرچی گیس گنوں کا غیر انسانی استعمال شروع ہوا۔ کئی علاقوں میں کیمیکل مواد بھی استعمال ہونے کی اطلاعات ہیں۔ حالات بھارتی فورسز کے قابو سے باہر ہو رہے تھے۔ اڑی سمیت کئی چھائونیوں کو بھی اڑا کے رکھ دیاگیا۔ ایک نام نہاد ہی سہی جمہوری حکومت کی موجودگی میں بھارتی فورسز وہ نتائج حاصل نہیں کر سکتی تھیں جو گورنر راج کے دوران حاصل ہو سکتے ہیں۔ گورنر راج کی راہ بھی اسی بدنیتی کے تحت ہموار کی گئی۔ 
ہمارے ہاں بھی پنجاب میں گورنر راج مخصوص مقاصد کیلئے نافذ کیا گیا تھا مگر پیپلز پارٹی کے گورنر سلمان تاثیر پی پی پی کی مرکزی قوت کے باوجود صرف مسلم لیگ ن کی ایک خاتون ایم پی اے مقدس کی وفاداری ہی تبدیل کرا سکی تھی۔ مقبوضہ وادی میں گورنر راج کے نفاذ کے پیچھے جدوجہد آزادی کو کچلنے کی سوچ اور ذہنیت کارفرماہے۔ گورنر راج کے دوران مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق مکمل طورپر معطل ہو چکے ہیں جو پہلے ہی ناپید تھے۔ بھارتی فورسز کے مظالم میں مزید اضافہ ہو گا مگر جس طرح کشمیری ایسے مظالم کا بے جگری سے مقابلہ کرتے چلے آ رہے ہیں، گورنر راج انکے کاز کی راہ میں رکاوٹ بنتا نظر نہیں آتا۔
اسکے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کی طرف سے کشمیریوں کے کندھے کے ساتھ کندھا ملائے بنا کشمیر کی آزادی کا خواب پورا ہونا ممکن نہیں ہے۔ ہم مسئلہ کشمیر کے حوالے سے 5 فروری کو صرف یوم یکجہتی کشمیر منانے تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ نئی نسل کی آگاہی کی حد تک یوم یکجہتی کشمیر سودمند ہو سکتا ہے۔ پاکستان کو بطور ریاست اور کشمیر کے پاکستان کا اصولی طور پر حصہ ہونے کے ناطے ایک نہیں کئی قدم آگے بڑھنا ہو گا۔ پاکستان کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی آزادی کیلئے جن اقدامات کی ضرورت تھی وہ نہیں اٹھائے گئے۔ پاکستان کی حکومتی قیادت محض بیان بازی پر اکتفا کرتی ہے۔ ستمبر میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں وزیراعظم صاحب مسئلہ کشمیر کے حل کی بات کریں تو ٹی وی چینلز پر اس کی واہ واہ ہوتی اور ایسے محض بیانات پر کشمیر کی بوڑھی قیادتیں بھی خوشی سے ترنگ میں آ کر ناچتی نظر آتی ہیں۔ کشمیر کی آزادی کیلئے پاکستان کی طرف سے قائداعظم جیسی کمٹمنٹ کی ضرورت ہے۔ آپ نے جنرل گریسی کو کشمیر پر فوج کشی کا حکم دیا تھا جبکہ اسکے بعد کی قیادت اقوام متحدہ سے مسئلہ کشمیر کے حل کی توقعات لگائے ہوئے ہے۔ ہماری جمہوری حکومتوں کی کشمیر کاز سے وابستگی اور پیوستگی کا یہ عالم ہے کہ مولانا فضل الرحمن کو کشمیر کمیٹی کا چیئرمین بنائے رکھا جو اپنے والد کے اس فرمان کو حرزِ جاں سمجھتے ہیں ’’خدا کا شکر ہے ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شامل نہیں تھے۔‘‘اس موقع کی مناسبت سے شرکا میں سے سید احمد حسن نے سیمینار کے آخر پرمشتاق یوسفی کا یہ فقرہ دُہرایا۔’’کاش میرے باپ دادا بھی غدارِ وطن ہوتے تو آج ہم بھی سردارِ وطن ہوتے‘‘۔
مظفر برہان وانی کی شہادت کے بعد حریت پسند نئے عزم و حوصلے کے ساتھ جدوجہد کرتے نظر آئے۔ پاکستان نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ سفارت کاری متحرک و فعال نظر آئی۔ 22 پارلیمانی ارکان پر مشتمل وفود دوست ممالک میں کشمیر پالیسی واضح کرنے کیلئے بھیجے گئے۔ ان میں سے ایک وفد میں رانا افضل شامل تھے۔ واپسی پر انہوں نے ایک واہیات بیان داغ دیا کہ ہم حافظ سعید کا تحفظ کیوں کریں وہ انڈے دیتا ہے۔ پیرس میں ہم سے حافظ سعید کے بارے میں پوچھا گیا تو ہمارے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ کشمیر کے حوالے سے صورتحال اور حالات سے نابلد ایسے افراد کو سفارت کاری کیلئے بھیجیں گے تو خاک مقصد میں کامیابی ہوگی ۔ رانا افضل کے بیان پر بھارت میں تو مٹھائی بٹنی ہی تھی ہماری قومی سیاسی قیادت بھی کانوں تک راضی ہوگئی اور ان کو وزیر خزانہ لگا دیا گیا۔
کل مستعفی ہونیوالے قومی سلامتی کے مشیر جنرل ناصر جنجوعہ نے اخبارات کے ایڈیٹرز کو بریفنگ کے دوران کہاتھا کہ حافظ سعید کے حوالے سے دنیا کا پریشر ہے۔ دنیا کا پریشر اس لئے ہے کہ آپ بھارت کے جھوٹے اور گمراہ کن پراپیگنڈے کا حقائق کے تناظر میںمنہ توڑ جواب نہیں دے پاتے اور خود انڈر پریشر ہو کر وہ کچھ کر دیتے ہیں جو بھارت کی خواہشات کے مطابق ہوتاہے۔جب تک یہ سلسلہ جاری ہے کشمیر کی آزادی سوالیہ نشان رہے گی۔جنگوں کے دوران بھی سویلین اور سول آبادیوں کو نشانہ بنانے کی ممانعت ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں انہی الزامات کے تحت کئی جرمن اور جاپانی جرنیلوں کو پھانسیاں دی گئیں۔ 
مقبوضہ کشمیر میں بھارت اعلان جنگ کے بغیر سول آبادیوں کو تہس نہس کر رہاہے۔ کشمیری تو بے بس ہیں پاکستان اس حد تک جانا نہیں چاہتا جس تک قائداعظم چلے گئے۔ ایل او سی اور ورکنگ بائونڈری پر بھارت سویلین کو نشانہ بنا رہا ہے جو جنگی جرائم سے کم نہیں۔ ہمارے حکمران بھارت کیخلاف جنگی جرائم کی بات کیوں نہیں کرتے۔ کشمیر کے حوالے سے انڈین اداکار آنجہانی اوم پوری یاد آتے ہیں۔ جنہوں نے پاکستانی فنکاروں کے ساتھ بھارت میں تضحیک آمیز سلوک کی مذمت کی اور بعد ازاں بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ سلوک اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی بربریت پر غصے میں نظر آئے۔ انہوں نے سچ بولا جو را کو کڑوا لگا اور انہیں بہیمانہ تشدد کے ذریعے قتل کرا دیا۔ ۔ہمارے ہاں کچھ بڑے بڑے لیڈر بھارت کی حمایت میں اس حد تک چلے جاتے ہیں کہ جھوٹ بولتے ہوئے پاکستان اور پاک فوج کو پوری دنیا میں بدنام کرتے ہیں۔ انکے ساتھ وہی سلوک کیوں نہ ہو جو غداروں کے ساتھ ہوتا ہے۔ بھارت تو ایسے لوگوں کو جج عدالت وکیل اور اپیل کا حق نہیں دیتا ہمیں ایسے لوگوں کو بہر حال صفائی کا پورا موقع دینا چاہئے۔

متعلقہ خبریں