عمر بن عبدالعزیزؒ کی خلافت کی تکنیک،پڑھیے اسلامی تاریخ کے عادل حکمران کی ایمان افروز داستان

2017 ,دسمبر 26



لاہور(مہرماہ رپورٹ): حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ بنو امیہ کے آٹھویں خلیفہ تھے لیکن یہ اپنی ایمانداری‘ سادگی‘ انصاف پسندی اور اپنی ریفارمز کے باعث تاریخ میں پانچویں خلیفہ راشد کہلائے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ شہزادے تھے‘ شہزادوں کی طرح ان کی پرورش ہوئی‘ والد مصر کے گورنر تھے‘ والدہ حضرت عمر فاروق ؓ کے خاندان سے تھیں‘آپ کے پرفیومز اور عطر دو‘ دو اونٹوں پر لاد کر لائے اور لے جائے جاتے تھے۔ حالت یہ تھی آپ جوانی میں جو کپڑا ایک بار پہن لیتے تھے وہ دوبارہ نہیں پہنتے تھے۔ آپ کی اہلیہ خلیفہ عبدالملک کی سگی بیٹی تھی لیکن جب 717 میں خلیفہ بنے تو سوچا ”اے عمر بن عبدالعزیز تم اب فیصلہ کرو‘ تم نے دنیا درست کرنی ہے یا آخرت؟ تم نے دس بیس سال زندگی گزارنی ہے یا پھر تاریخ میں زندہ رہنا ہے“ فیصلہ آخرت ہے“ فیصلہ آخرت اور تاریخ کے حق میں نکلا لہٰذا آپ نے بنو امیہ کی شہنشاہیت کو خلفائے راشدین کی سادگی میں تبدیل کر دیا۔ آپ نے پورے خاندان کی جائیدادیں‘ زمینیں‘ جاگیریں اور کاروبار ضبط کر لئے۔ خاندان کے تمام محلات‘ تمام زیور‘ مال و دولت اور گھوڑے اونٹ بیت المال میں جمع کرا دئیے‘ اس وقت رواج تھا پرانے بادشاہ کا فرنیچر‘ مال و دولت‘ گھوڑے‘ غلام اور لونڈیا نئے بادشاہ کو منتقل ہو جاتی تھیں۔ آپ نے اقتدار سنبھالتے ہی یہ روایت ختم کر دی اور سابق خلیفہ کا سارا مال بیت المال میں جمع کرا دیا۔ اپنے گھرانے کیلئے روزانہ دو درہم تنخواہ طے کی اور آخری وقت تک پورے خاندان کے ساتھ اس تنخواہ میں گزارہ کرتے رہے‘ آپ کے گھر میں کوئی ملازم نہیں تھا‘ آپ کے پاس کوئی گارڈ نہیں تھا‘آپ کی اہلیہ یعنی اس وقت کی فرسٹ لیڈی گھر کا سارا کام اپنے ہاتھ سے کرتی تھی‘ گھر میں صرف ایک وقت ایک سالن پکتا تھااور پورا گھرانہ صرف یہ سالن کھاتا تھا۔ عرض حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کی ذات میں بے شمار خوبیاں تھیں‘ آپ نے بہت سارے کارنامے سرانجام دیئے لیکن ایک کارنامہ ٹیکس ریفارمز سے متعلق تھا‘ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ سے پہلے حکومت نے شہریوں پر بڑے ظالمانہ ٹیکس لگا رکھے تھے‘ مثلاً آپ شائد یہ جان کر حیران ہوں اس دور میں خط لکھنے پر ٹیکس تھا‘ دکانوں پر ٹیکس تھا‘ گھروں پر ٹیکس تھا‘ چکیوں پر ٹیکس تھا اورنکاح پر ٹیکس تھا‘ حضرت عمر عبدالعزیزؒ نے یہ سارے ٹیکس ختم کر دئیے جس کی وجہ سے خزانہ خالی ہو گیا اور حکومت کو پہلے مہینے سرکاری ملازمین کو تنخواہیں دینے کیلئے قرضہ لینا پڑ گیا۔اس وقت ایک گورنر نے خلیفہ کو خط لکھا اور ان سے عرض کیا ”جناب آپ اسی طرح ٹیکس معاف کرتے رہے تو ہم حکومت کیسے چلائیں گے“ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے اس کے جواب میں ایک تاریخی فقرہ کہا۔ یہ فقرہ آج تک تاریخ کی کتابوں میں گونج رہا ہے‘ آپ نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم کو دنیا میں ہادی بنا کر بھیجا تھا‘ ٹیکس کلیکٹر نہیں“آپ نے ٹیکس میں چھوٹ دے کر حکومت کے غیر پیداواری اخراجات کم کر دئیے‘ اس کے نتیجے میں چھ ماہ میں خزانہ بھر گیا‘ عوام پر ٹیکسوں کا دباﺅ کم ہوا تو انہوں نے بھی ٹیکس دینا شروع کر دئیے یوں ٹیکس کولیکشن میں دس گنااضافہ ہو گیا۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز کی اس ریفارم کو یورپ نے بعدازاں ”عمر تکنیک“ کا نام دیا تھا۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے تین سال حکومت کی اور یہ انتالیس سال کی عمر میں انتقال کر گئے لیکن ان کے نام کی گونج دنیا میں آج تک موجود ہے

متعلقہ خبریں