میاں کی بدبودار بنیان

2019 ,جون 14



ارشد صاحب شادی کے شروع کے دنوں میں تو کچھ محتاط رہے یعنی گھر آکر پسینے سے بھرے ہوئے کپڑے بدلنا اور صاف ستھرا لباس پہن کر بیوی کے سامنے آنا لیکن جیسے جیسے دن گزرتے گئے وہ اپنی پرانی ڈگر پر واپس آگئے،ان کی کتابوں کی دکان تھی، ہول سیل کا کام کرتے تھے، دو ملازم بھی رکھے ہوئے تھے لیکن خود بھی کافی بھاگ دوڑ کرنا پڑتی، دکان میں ابھی اے سی نہیں لگا تھا، آجکل سکولوں میں داخلے کا سیزن تھا سارا دن گاہکوں کا رش لگا رہتا، رات کے نو بجے جب ارشد صاحب گھر میں داخل ہوتے تو انہیں بستر کی طلب ہوتی ،وہ سارا دن کے پسینے سے بھیگی ہوئی قمیض اتارکے الماری کے ساتھ لٹکاتے، پھر بنیان اور شلوار میں ہی بستر پر نیم دراز ہو جاتے۔ صائمہ یعنی ارشد صاحب کی بیوی کو ان کی اس عادت سے بڑی چڑ تھی، وہ اکثر کوفت سے کہتی۔ کم از کم بنیان ہی بدل لیا کریں، سامنے الماری میں دھلی رکھی ہوتی ہے، ارشد صاحب کو صائمہ کے الفاظ پر اندر ہی اندر واقعی شرمندگی ہوتی لیکن وہ ان مردوں میں سے تھے جو بیوی کے سامنے اپنی غلطی ماننا جرم سمجھتے ہیں۔

 ازاربند کو سنبھالتے ہوئے وہ بازؤوں کے نیچے سے پیلی ہوتی ہوئی اپنی بنیان پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے اوربڑی ڈھٹائی سے کہتے’’تم جاہل کیا سمجھو گی، یہ ہماری خاندانی روایت ہے، ہم نے تو اپنے ابا کو گھر میں ہمیشہ انہی کپڑوں میں دیکھا ہے‘‘۔۔۔ ہفتے مہینوں اور مہینے سالوں میں ڈھلتے گئے، ارشد صاحب کے دونوں بچے اب بڑے ہو گئے تھے، انہوں نے بھی اپنے ابا کی پسینے سی بھری ہوئی بنیان اور شلوار کے سامنے جھولتے ہوئے ازاربند کے ساتھ سمجھوتا کر لیا تھا لیکن صائمہ! کیا اس نے سمجھوتا کر لیا تھا؟

شاید نہیں، یہ چند مہینے پہلے کی بات ہے جب صائمہ کے پڑوس میں رہنے والے پٹھانوں نے اپنا گھر خالی کیا اور پشاور چلے گئے، ان کے جانے کی کچھ ہی دنوں بعد گھر کرایہ پر لگ گیا، نئے پڑوسی آئے تو ہمیشہ کی ملنسار صائمہ نے سلام دعا کا سوچا۔ اگلے دن ٹھنڈی مزیدار کھیر کا باؤل پکڑ ے اس نے بیل بجائی’’کون؟‘‘ ایک مردانہ آواز آئی اور ساتھ ہی دروازہ کھل گیا اگر چہ صائمہ برقعہ میں تھی لیکن پھر بھی گھبرا کر ایک طرف ہو گئی اتنے میں ان صاحب کی بیوی نادیہ بھی چلی آئی تو صائمہ کی مشکل آسان ہو گئی’’میں یہ پڑوس سے آئی ہوں‘‘ اس نے ٹھنڈا سا باؤل نادیہ کے ہاتھ میں پکڑاتے ہوئے کہا، نادیہ اصرار کر کے اسے گھر کے اندر لے آئی پھر ڈرائنگ روم میں بٹھا کر چلی گئی۔۔۔

صائمہ نے اردگرد کا جائزہ لیا اچانک شیشے کی دیوار کے اس پار وہی صاحب یعنی نادیہ کے میاں دکھائی دیے، نفیس سا کرتہ شلوار اور خوبصورت سی چپل پہنے وہ موبائل پر مصروف تھے، ہاتھ میں خوبصورت سی گھڑی تھی، بال بھی بڑے سلیقے سے بنائے گئے تھے ’’شاید یہ لوگ کہیں جارہے تھے۔ میں ایسے ہی آگئی‘‘ صائمہ نے کچھ شرمندگی سے سوچا، اتنے میں نادیہ کولڈ ڈرنک لے آئی’’آپ لوگ کہیں جارہے ہیں؟‘‘ صائمہ نے پوچھا’’نہیں تو! آپ آرام سے بیٹھیں ناں‘‘نادیہ نے خوشدلی سے کہا ’’اچھا پھر کسی شادی سے آرہے ہیں ناں؟‘‘ اب کی بار صائمہ نے یقین سے کہا، نادیہ نے ایک نظر باہر اپنے شوہر پر ڈالی اور پھر ہنس پڑی’’مجھے معلوم ہے آپ میرے میاں کو دیکھ کر پوچھ رہی ہیں، اصل میں یہ ہر وقت گھر میں بھی ایسے ہی تیار رہتے ہیں، میرے لیے!‘‘ اس نے کچھ شرماتے ہوئے بتایا، صائمہ سے کچھ کہا نہ گیا، وہ بس خالی خالی نظروں سے دیکھتی گئی۔۔۔

تھوڑی دیر بعد اس نے نادیہ کو خدا حافظ کہا اور اپنے گھر چلی آئی، جہاں میلا کچیلا سا، بنیان شلوار میں ملبوس ایک شخص اس کا منتظر تھا، اس کا شوہر ارشد! لیکن یہ اس کا وہ ’’ارشد‘‘ تو نہ تھا جس سے اس نے شادی کی تھی، یہ تو کوئی اور ہی تھا جس کو اپنی پسینے سے بھری ہوئی بنیان اورجسم سے آتی ناگوار بو نے کبھی یہ محسوس تک نہ ہونے دیا کہ وہ اپنی بیوی کی نظروں میں کیا سے کیا ہوچکا ہے۔

سیدنا ابن عباسؓ فرماتے ہیں ’’میں پسند کرتا ہوں کہ اپنی بیوی کے لیے اسی طرح بن سنور کر رہوں جس طرح میں چاہتا ہوں کہ وہ میرے لیے بناؤ سنگھار کرے اور جس طرح اللہ کے نبیؐ نے بیویوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے شوہروں کیلئے بناؤ سنگھار کریں اس طرح شوہروں کو بھی حکم دیا ہے کہ وہ بھی اپنے آپ کو صاف ستھرا رکھیں، صاف لباس پہنیں اور خوشبو لگائیں۔۔۔

متعلقہ خبریں