برطانیہ میں موجود ایک پاکستانی پر شرمناک جرم کا الزام ، برطانیہ سے آنے والی یہ خبر پوری قوم کا سر شرم سے جھکا دے گی

2018 ,جون 6



 

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ میں پولیس ان دنوں ایک پاکستانی نوجوان کو گرفتار کرنے کی سرتوڑ کوششیں کر رہی ہے، جو ایک ایسا گھناﺅنا جرم کرکے فرار ہوا ہے کہ سن کر ہر پاکستانی غصے میں آ جائے۔ 25سالہ ریحان خان نامی اس نوجوان نے لندن میں

اپنی ناراض بیوی اور 11ماہ کے بیٹے کو خنجر کے پے درپے وار کرکے قتل کرنے کی کوشش کی اور انہیں شدید زخمی حالت میں چھوڑ کر فرار ہو گیا۔ اس وقت 32سالہ ماں اور بچہ ہسپتال میں داخل ہیں جہاں بچے کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔پولیس کے مطابق ملزم اپنی بیوی پر تشدد کرتا تھا جس پر اس نے علیحدگی اختیار کر لی اور پولیس کو اس تشدد کی رپورٹ کر دی۔ بیوی کے ساتھ اس کا غیرانسانی سلوک ثابت ہونے پر اسے برطانیہ سے ڈی پورٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس پر ملزم نے طیش میں آ کر بیوی پر قاتلانہ حملہ کر دیا۔ خاتون کے ہمسایوں کا کہنا تھا کہ وہ چیخوں کی آوازیں سن کر باہر نکلے تو ملزم خاتون پر حملہ آور ہو چکا تھا جبکہ ان کا بڑا بیٹا باپ سے التجائیں کر رہا تھا کہ ’میری ماں کو مت مارو۔‘ زخمی خاتون کی سہیلی ثمینہ کا کہنا تھا کہ ”ملزم نے اپنی بیوی کے ذریعے ویزے کی مدت میں توسیع کی درخواست دے رکھی تھی کیونکہ اس کی بیوی برطانوی شہری تھی، لیکن اس نے آئے روز کے تشدد کی وجہ سے پولیس کو رپورٹ کردی جس کی وجہ سے واقعے سے پانچ روز قبل اس کی ویزے کی درخواست مسترد کر دی گئی اور جلد اسے ملک بدر کر دیا جانا تھا۔ “سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز نے ظلم و بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشمیری نوجوانوں پر گاڑی چڑھا دی، جس کے نتیجے میں ایک نوجوان شہید جبکہ ایک زخمی ہوگیا۔دوسری جانب کشمیر میڈیا سروس کی ایک رپورٹ کے مطابق سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کی ایک گاڑی نے اس وقت مذکورہ نوجوانوں کو کچلا، جب کشمیری مظاہرین پولیس کے ہاتھوں ایک جامع مسجد کی بے حرمتی پر احتجاج کر رہے تھے۔عینی شاہدین کے مطابق شہید نوجوان کی شناخت قیصر بٹ جبکہ زخمی کی شناخت یونس احمد کے نام سے کی گئی ہے۔اس واقعے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور واقعے کی تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔مقتول نوجوان اپنے والدین کی وفات کے بعد سے گزشتہ 4 سالوں سے اپنی بہنوں اور ایک آنٹی کے ہمراہ سری نگر کے علاقے دل گیٹ میں رہائش پذیر تھا۔ واقعے کے خلاف مقبوضہ کشمیر میں آج مکمل ہڑتال ہے اور حریت کانفرنس کی اپیل پر کاروباری مراکز بند رہیں گے۔کشمیر میڈیا سروس کے اعدادوشمار کے مطابق رواں برس مئی 2018 تک بھارتی فورسز کے ہاتھوں 31 کشمیری شہید ہوچکے ہیں، جن میں ایک خاتون اور 6 نوعمر بچے بھی شامل ہیں۔اس عرصے میں پیلٹ گنوں اور فائرنگ کے نتیجے میں 314 کشمیری زخمی بھی ہوئے۔

متعلقہ خبریں