کراچی کی ننھی نشوہ کوانصاف مل گیا ۔۔۔ دھمکیاں دینے والے ایس پی طاہر نورانی کو نشان عبرت بنا دیا گیا

2019 ,اپریل 18



کراچی(ویب ڈیسک ) نجی اسپتال کے عملے کی غفلت کے باعث کوما میں جانے والی 9 ماہ کی نشوہ کے والد کو ہراساں کرنے کے معاملے پر انکوائری کمیٹی نے ایس پی گلشن اقبال طاہر نورانی کو عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی ہے۔گزشتہ دنوں کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں نجی اسپتال کے عملے کی غفلت کے باعث 9 ماہ کی نشویٰ کوما میں چلی گئی تھی جسے بعدازاں ایک اور اسپتال منتقل کیا گیا۔نو ماہ کی بچی کے والد اسپتال انتظامیہ کے خلاف مقدمہ درج کرانے گئے تو ایس پی طاہر نورانی کی جانب سے انہیں ہراساں کیا گیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔نشویٰ کے والد کو ہراساں کرنے کے معاملے پر کراچی پولیس چیف امیر شیخ کی ہدایت پر ڈی آئی جی ایسٹ نے واقعے کی انکوئری مکمل کرلی ہے۔انکوائری رپورٹ میں ایس پی طاہر نورانی قصور وار قرار پائے ہیں اور انہیں عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی گئی ہے۔دوسری جانب وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے نجی اسپتال میں زیر علاج نشویٰ کی عیادت اور والدین سے ملاقات کی۔اسپتال میں زیر علاج نشویٰ کے والد کا کہنا ہے کہ بیٹی کی طبیعت مزید بگڑ گئی ہے۔اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ نے بچی کو بہترین علاج کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ نشویٰ کا علاج ملک میں ہو یا بیرون ملک، ہم ضرور کروائیں گے۔انہوں نے کہا کہ بچی کے والد نے ان اسپتالوں جن کو قتل کا لائسنس ملا ہوا ہے، ان کے خلاف کارروائی کا کہا ہے، مجھے پولیس کے مجرمانہ رویے پر افسوس ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آج جب میں نے پولیس سے کارروائی کے حوالے سے پوچھا تو ایک لیٹر بھیجا گیا اور یہ کارروائی پولیس کے طرف سے صرف ٹکرز تک تھی، یاد رہے کہ یہ واقعہ آج کل میڈیا میں خوب گردش بھی کر رہا ہے ۔

متعلقہ خبریں