چیئرمین نیب پر جنسی ہراسگی کا الزام لگانے والی ’ طیبہ فاروق‘ نے اب تک کی سب سے بڑی دھمکی دے دی

2019 ,مئی 25



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) چئیرمین نیب ویڈیو اسکینڈل میں ملوث طیبہ فاروق نامی خاتون نے بھری عدالت میں نیب کے لوگوں کی موجودگی میں دھمکی دے دی۔ معروف صحافی ذوالفقار راحت کا چئیرمین نیب ویڈیو سکینڈل کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ طیبہ نامی خاتون اور اس کا شوہر مختلف مقدمات میں ملوث تھے۔خاتون کا شوہر تو کوٹ لکھپت جیل میں قید ہے تاہم خاتون نے اپنے عورت ہونے کا فائدہ اٹھایا۔خاتون اپنے آپکو ایل ایل بی کا طالبہ ظاہر کرتی تھی۔طیبہ کے شوہر فاروق نول اِس وقت کوٹ لکھپت جیل میں ہیں جب کہ خاتون نے قانون کے امتحانات دینے کی بنیاد پر عدالت سے ضمانت لی۔اس وقت بھی خاتون وہاں دھمکیاں دے کر گئی تھی اور کہا تھا کہ اب جو میں کروں گی اس کے بعد پوراپاکستان ہل جائے گا۔ ذوالفقار راحت کا کہنا تھا کہ مجھے ایک وکیل نے بتایا کہ عدالت میں نیب کے لوگوں کی موجودگی میں خاتون نے دھمکیاں دیں اور کہا کہ اب وہ کچھ بہت بڑا کرے گی۔ذوالفقار راحت کا کہنا تھا کہ میاں بیوی مل کر ایک گینگ آپریٹ کرتے رہے جس میں کچھ بااثر لوگ بھی شامل تھے جن میں ایف آئی اے کے لوگ اور پولیس افسران بھی شامل تھے۔جن لوگوں کو یہ میاں بیوی دھوکہ دیتے تھے وہ بعد میں ذلیل ہوتے رہتے تھے۔ ان کی پہنچ اتنی اوپر تک تھی کہ انہوں نے آئی جی پنجاب سے ایک ایسا لیٹر جاری کروایا جس میں لکھا تھا کہ ان کے پچھلے سارے مقدمات ختم کیے جائیں اور مستقبل میں ان کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں ہو سکتا۔جب کہ دوسری جانب چئیرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کی ویڈیو بنانے والی خاتون کا پہلا انٹرویو سامنے آ گیا ہے۔طیبہ فاروق نامی خاتون نے کہا کہ میرے خاوند فاروق نول کی رہائی کے لئے چئیرمین نیب نے مجھ سے ناجائز تعلق قائم کرنے کی کوشش کی اور معاملے کو منظرعام پر لانے کی پاداش میں ایک ہی دن (21مئی) میں اسلام آباد کے تھانہ مارگلہ میں مختلف نوعیت کی تین مقدمے درج کروا دیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ میری جان کو خطرہ ہے۔ میری خبر روک کر میڈیا کو خاموش کر دیا گیا ہے ۔ طیبہ فاروق کا کہنا تھا کہ میں چئیرمین نیب کے خلاف کارروائی کے لیے وفاقی محتسب سے لے کر سپریم جوڈیشل کونسل تک ہر فورم سے رجوع کروں گی۔

متعلقہ خبریں