میں قوم سے معافی مانگوں گا ۔۔۔۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو اچانک ایسا کیوں کہنا پڑا ؟

2019 ,مئی 25



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر و سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ اگر ان کا چیئرمین نیب کی تعیناتی کا فیصلہ غلط ثابت ہوگا تو وہ قوم سے معافی مانگیں گے۔جسٹس (ر) جاوید اقبال کو مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں اپوزیشن لیڈر کی مشاورت سے اکتوبر 2017 میں چیئرمین نیب تعینات کیا گیا تھا۔شاہد خاقان عباسی نے جیو نیوز کے پروگرام ’جیو پارلیمنٹ‘ میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بطور وزیراعظم اپوزیشن لیڈر سے مشاورت کرکے جاوید اقبال کو چیئرمین نیب منتخب کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب تعیناتی کے لیے مجھ پر کوئی دباؤ نہیں تھا جب کہ جاوید اقبال کا نام مسلم لیگ ن کے مجوزہ تین ناموں میں بھی شامل نہیں تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر وقت نے ثابت کیا کہ چیئرمین نیب کی تعیناتی کا فیصلہ غلط تھا تو قوم سے معذرت کر لوں گا۔بھارتی انتخابات میں نریندر مودی کی کامیابی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ جو سمجھتا ہے مودی کی جیت سے مسئلہ کشمیر حل ہوگا یہ خام خیالی ہے، پاکستان کو بھارت سے سبق سیکھنا ہے تو یہ سیکھے وہاں الیکشن کیسے ہوتے ہیں۔انہوں نےکہا کہ عمران خان بہت کچھ کہتے رہتے ہیں ان کی باتوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتا، بد نصیبی ہے کہ عمران خان ملک کے وزیراعظم ہیں، دوسری جانب یہ خبر ہے کہ معروف آئینی ماہر وسیم سجاد اور خالد انور نے چیئرمین نیب کو فوری طور پر ہٹانے کی مخالفت کردی۔اپنے بیانات میں معروف قانون دان وسیم سجاد اور خالد انور نے کہا کہ معاملے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات ہونی چاہیے۔وسیم سجاد نے کہا کہ وزیراعظم کو تحقیقات کا حکم دینا چاہئے، جسٹس (ر) جاوید اقبال کا طویل اور بے داغ عدالتی کیریئر ہے۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان کو تحقیقات کا حکم دینا چاہئے،چیئرمین نیب سے کام نہ کرنے کا مطالبہ درست نہیں۔

متعلقہ خبریں