تیل اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ، ٹیکسوں پر چھوٹ ختم ۔۔۔۔ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے

2019 ,مئی 10



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات مکمل ہوگئے، مذاکرات کامیاب رہے جس کی تفصیلات جلد جاری کر دی جائیں گی، پاکستان نے مالیاتی ادارے کی بیشتر شرائط مان لیں۔تفصیلات کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان جاری مذاکرات ختم ہوگئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کامیاب رہے ہیں۔مذاکرات کی کامیابی اور تفصیلات سے باقاعدہ اعلان جلد کیا جائے گا۔ جبکہ آئی ایم ایف ٹیم نے پاکستان کیلئے بیل آوٹ پیکج کا مسودہ آئی ایم ایف ہیڈ کوارٹر بھجوا دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان نے مالیاتی ادارے کی بیشتر شرائط مان لی ہیں۔ اہم ترین شرائط کے مطابق حکومت بجلی کی قیمتوں میں جولائی کے ماہ سے جبکہ گیس کی قیمتیں اگست کے ماہ کے بعد سے اضافہ کرے گی۔اضافہ مرحلہ وار ہو گا۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان سے مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے ملاقات کی، جس میں معاشی صورتحال اور آئی ایم ایف معاہدے پر تبادلہ خیال کیا گیا، مشیر خزانہ نے وزیراعظم عمران خان کو آئی ایم ایف معاہدے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ وزارت خزانہ حکام کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف لیول ایگریمنٹ طے پا جائے گا۔پاکستان کو 6 ارب 40 کروڑ ڈالر قرضہ ملنے کی توقع ہے۔ پاکستان کو 3 سال کیلئے قرض دیا جائے گا۔ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کے مابین مذاکرات کے دوران دونوں فریقین 2 سال کے عرصے میں 700 ارب روپے کی ٹیکس میں دی گئی چھوٹ ختم کرنے پر راضی ہوگئے ہیں۔ ملاقات میں دونوں اطراف نے مالی سال 20-2019 کے لیے 11 ارب ڈالر کے مالیاتی خلا کو پر کرنے کے لیے بات چیت کی۔سمجھوتے کے تحت حکومت مالی سال 20-2019 کے بجٹ میں مختلف مد میں دیے گئے ٹیکس استثنیٰ کو ختم کرنے کا آغاز کرے گی جو تقریباً 350 ارب روپے کے برابر ہے۔اس کے علاوہ دونوں فریقین نے اس بات پر بھی رضا مندی کا اظہار کیا کہ پاکستان آئندہ بجٹ میں صارفین کے لیے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں مزید اضافہ کردے گا۔اس کے علاوہ اس بات پر بھی سمجھوتہ طے پایا کہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو خودمختار بنایا جائے گا اور حکومت عوام کو سہولت فراہم کرنے والے مقبول فیصلوں کے لیے مداخلت کم سے کم کرے گی۔دونوں فریقین نے زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے لیے مختلف اقدامات اٹھانے پر بھی اتفاق کیا۔وزارت خزانہ کے عہدیدار کے مطابق آئی ایم ایف نے اس سے قبل اس بات پر زور دیا تھا کہ کرنٹ اکاو ¿نٹ خسارہ 4 سے 6 ارب ڈالر کے درمیان رہنا چاہیے تاہم بعد میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت آئندہ مالی سال میں مالی خسارہ 8 ارب ڈالر تک رہے گا۔اس کے ساتھ آئی ایم ایف ٹیم نے حکومت کو ہدایت کی کہ مالیاتی ایڈجسٹمنٹ کے لیے آئندہ بجٹ میں مزید ٹیکس اقدامات اٹھائے جائیں، واضح رہے کہ عملے کی سطح پر ہونے والے معاہدے کی تکمیل کے بعد بجٹ تیار کرنے کا آغاز ہوجائے گاجس میں عوام پر مہنگائی کا جن چھوڑنے کے اقدامات نافذ کرنے کا اعلان کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں