جب زندگی شروع ہو گی

2018 ,فروری 12



 اللہ اکبر اللہ اکبر۔ موذن نے ابھی یہ الفاظ ادا ہی کیے تھے کہ عبداللہ ایک جھٹکے کے ساتھ ’اللہ اکبر‘ کہتا ہوا بیدار ہوگیا۔ وہ خالی خالی نظروں سے اردگرد دیکھ رہا تھا۔ کچھ دیر تک وہ نہیں سمجھ سکا کہ وہ کہاں ہے۔ وہ تو اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا تھا۔ اس نے غور کیا۔ وہ ابھی بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے موجود تھا۔ عین بیت اللہ الحرام میں کعبہ کے سامنے۔ فجر کا وقت تھا اور مسجد الحرام میں لوگوں کی چہل پہل جاری تھی۔
”تو کیا میں نے خواب دیکھا تھا؟“، عبد اللہ نے خود سے سوال کیا۔
”مگر وہ تو بالکل حقیقت تھی۔ وہ حشر کا دن، وہ جنت کی محفل اور خدا کے سامنے میری حاضری۔۔۔ اگر وہ حقیقت تھی تو پھر یہ کیا ہے؟ اور اگر یہ حقیقت ہے تو پھر وہ حقیقت سے زیادہ یقینی چیز کیا تھی۔ وہ خواب تھا یا یہ خواب ہے۔“
وہ مسلسل بڑبڑائے جارہا تھا:
”ایسا نہ ہو کہ اچانک ایک روز آنکھ کھلے اور مجھے معلوم ہو کہ جو کچھ دنیا میں دیکھا تھا خواب تو دراصل وہ تھا اور حقیقت آخرت کی زندگی تھی۔“
آسمان سے نور اتررہا تھا۔ سفید جگمگاتی ہوئی روشنیوں سے حرم کی فضا دودھیا ہورہی تھی۔ آسمان تاریک تھا، مگر اس جگہ دن کی روشنی سے زیادہ چہل پہل تھی۔ یہ حرم مکہ تھا۔ اہلِ ایمان کا کعبہ۔ اہلِ دل کا مرکز اور اہلِ محبت کا قبلہ۔ خدا کے بندے اور بندیاں۔۔۔ ہر نسل، ہر قوم کے لوگ یہاں جمع تھے۔ خدا کی حمد، تسبیح اور تعریف کرتے ہوئے۔
آج حرمِ پاک میں عبداللہ کی آخری شب تھی۔ مگر یہ آخری شب عبداللہ کی زندگی کی سب سے قیمتی شب بن چکی تھی۔ عبداللہ کچھ دیر قبل حیرانی کی جس کیفیت میں تھا، اب اس سے باہر آچکا تھا۔ اس نے حرم کو دیکھا اور پھر اردگرد نظر ڈالی۔ حرم سے باہر ہر طرف بلند و بالا عمارات کا منظر تھا۔ یہ دیکھ کر اس پر ایک دوسری کیفیت طاری ہوگئی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔اس کا دل مالکِ ذوالجلال کے حضور سراپا التجا بن گیا:
”مالک! قیامت کا حادثہ سر پر آکھڑا ہوا ہے۔ ننگے پاو¿ں بکریاں چرانے والے اونچی اونچی عمارتیں بنارہے ہیں۔ تیرے محبوب رسول کی پیش گوئی پوری ہوچکی ہے۔ اب مجھے تیرے بندوں تک تیرا پیغام پہنچانا ہے۔ قیامت سے قبل انھیں قیامت کے حادثے سے خبردار کرنا ہے۔ مجھے لوگوں کو جھنجھوڑنا ہے۔ آج دنیا کی محبت فکرِآخرت پر غالب آچکی ہے۔ تیری ملاقات سے غفلت عام ہے۔ حکمران ظالم ہیں اور عوام جاہل۔ امیر مال مست ہیں اور غریب حال مست۔ تاجر منافع خور، ذخیرہ اندوز اور جھوٹے ہیں۔ سیاستدان بددیانت ہیں۔ ملازم کام چور ہیں۔ مردوں کا مقصدِ حیات صرف دولت کمانا بن چکا ہے اور عورتوں کا مقصدِ زندگی محض زیب و زینت اور اپنی نمائش۔“
عبداللہ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ اس کے دل سے مسلسل دعا و مناجات نکل رہی تھی۔ وہ دعا جس کا قبول ہونا شاید مقدر ہوچکا تھا:
”مولیٰ! آج لوگ تجھ سے غافل و بے پروا ہوکر ظلم اور دنیا پرستی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ مذہب کے نام پر کھڑے ہوئے لوگ فرقہ واریت کے اسیر ہیں یا سیاست میں الجھے ہوئے ہیں۔ کوئی نہیں جو تیری ملاقات سے خبردار کررہا ہو۔ تو مجھے اس خدمت کے لیے قبول فرمالے۔ تو مجھے اپنے پاس سے ایسی صلاحیت عطا کر کہ میں تیری ملاقات اور آنے والی دنیا کا نقشہ تیرے بندوں کے سامنے کھینچ کر رکھ دوں۔ جو کچھ تو نے قرآن میں بیان کیا اور تیرے محبوب نبی نے جس عظیم واقعے کی خبر دی ہے، اس دن کی ایک زندہ تصویر میں تیرے بندوں تک پہنچادوں۔ انسانیت کو معلوم نہیں کہ اس کے پاس مہلتِ عمل ختم ہوچکی ہے۔ مجھے قبول کر کہ میں اس بات سے تیرے بندوں کو خبردار کرسکوں۔ پروردگار! ساری انسانیت کو ہدایت دیدے۔ اوراگر تو نے سب کچھ ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے تو پھر میرے لیے آسان کردے کہ جتنے لوگ ہوسکیں، میں انھیں جنت کی راہ دکھا سکوں۔ انہیں تجھ تک پہنچاسکوں۔۔۔ اس سے پہلے کہ صور پھونک دیا جائے۔۔۔ اس سے پہلے کہ مہلتِ عمل ختم ہوجائے۔“
نے آخری طواف ایک خاص کیفیت میں مکمل کیا تھا۔ ایک تو حرم کا طواف.... وہ بھی آخری.... پھر رات جو کچھ دیکھا‘ اس کے بعد کعبہ وہ کعبہ نہیںرہا تھا جو دوسروں کو نظر آرہا تھا۔ یہ کعبہ اب اسے عرش الٰہی کا پیکر نظرآرہا تھا مگر وہ ایک انسان ہی تو تھا۔ پے درپے طواف کرکے شل ہو چکا تھا۔ وہ آخری طواف سے فارغ ہوا۔ کچھ دیر بیٹھ کر کعبہ کو دیکھتا رہا۔ پھر یاس وآس کی کیفیت میں اٹھا اور اپنے دل پر جبر کرکے وہ کام شروع کیا جو اہل دل کیلئے مشکل ترین عمل ہوتاہے۔ آخری دفعہ مسجد الحرام سے باہرنکلنے کا عملہ۔
کی روشنی پوری طرح طلوع ہوچکی تھی۔ وہ آہستہ آہستہ اس حالت میں باہر کی سمت بڑھ رہا تھاکہ بار بار ایڑیاں گھومتیں اور وہ رک کر دوبارہ کعبہ کو دیکھنے لگتا۔ پھر اس نے ایک مضبوط فیصلہ کیا اور اللہ اکبر کہتے ہوئے قدرے تیز رفتاری سے آگے بڑھنے لگا۔ مگر چلتے ہوئے پھر بے اختیاری کے عالم میں گردن گھومی اور الوداعی نظریں بیت اللہ کا طواف کرنے لگیں۔ ابھی اس نے ایسا ہی کیا تھا کہ اس کا کندھا کسی سے ٹکرا گیا۔
عبداللہ کی نگاہ لوٹی تو سامنے ایک سفید ریش بزرگ تھے۔ اسے احساس ہو چکا تھا کہ اس کا کندھا ان بزرگ کے سینے سے ٹکرا گیا جو اس کے ہم وطن محسوس ہوتے تھے۔ عبداللہ کا جذبہ عبادت اب ندامت میں بدل چکا تھا۔ اس نے فوراً معذرت خواہانہ لہجے میں کہا:
”معاف کیجئے گا! غلطی میری ہے۔ میں سامنے نہیں دیکھ رہا تھا۔“
”کوئی بات نہیں۔“ بزرگ نے شفقت آمیز لہجے میں کہا۔ پھر وہ بولے:
”کچھ غلطی میری بھی ہے۔ میں بھی سامنے نہیں دیکھ رہا تھا۔ دراصل میں اپنے گھرووالوں کو ڈھونڈ رہا ہوں۔ ہم عمرہ ادا کرتے ہوئے رش کی وجہ سے بچھڑ گئے ہیں۔“
”آپ نے ملنے کی کوئی جگہ طے نہیں کی تھی؟“ عبداللہ نے سوالیہ انداز میں کہا۔ پھر اپنی بات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے بولا:
”حرم میں یہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ورنہ بہت مشکل ہو جاتی ہے۔“
”جگہ تو یہی طے کی تھی۔ باب فتح کے پاس۔ یہاں رش کم ہوتا ہے۔ مگر کافی دیر سے وہ لوگ یہاں نہیں پہنچے“، بزرگ نے قدرے پریشانی کے ساتھ جواب دیا۔
”چلیے پھر تو آپ کا مسئلہ حل ہو گیا“، عبداللہ نے مسکراتے ہوئے کہا:
”آپ باب فتح پر نہیں کھڑے ہوئے۔ میں آپ کو وہاں لے چلتا ہوں۔“
بزرگ نے کچھ خجالت کے ساتھ اردگرد دیکھا اور پھر عبداللہ کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے بولے:
”ہم دراصل کل رات ہی یہاں پہنچے ہیں۔ پہلی دفعہ آئے ہیں۔ اس لیے یہاں کا پوری طرح اندازہ نہیں۔ سعی کے دوران میں میری بیٹی اور نواسی مجھ سے الگ ہو گئیں۔ ہمارے پاس دو موبائل تھے جو ان کو دے دیئے تھے۔ انہیں جگہ بھی سمجھا دی تھی، مگر خود بھول گیا۔ اللہ کا شکر ہے کہ تم مجھ سے ٹکرا گئے ورنہ نجانے کتنی دیر اور میں یہاں رک کر ان کا انتظار کرتا۔“
”اللہ کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے۔“، عبداللہ نے جواب دیا۔ اللہ کا نام لیتے ہوئے اس کے لہجے میں سارے جہاں کی مٹھاس آ چکی تھی۔
”ارے وہ رہی میری بیٹی“، بزرگ نے عبداللہ کی بات کا جواب دینے کے بجائے خوشی کے عالم میں ایک سمت اشارہ کرتے ہوئے کہا اور تیزی کے ساتھ آگے بڑھ گئے۔ عبداللہ نے ادھر دیکھا تو اندازہ ہوا کہ بزرگ ایک درمیانی عمر کی خاتون کی طرف بڑھ رہے تھے۔ اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ ان کے ساتھ آگے جائے یا اپنے راستے پر لوٹ جائے۔ ویسے بھی اس کا کام اب ختم ہو چکا تھا۔ مگر اسے محسوس ہوا کہ اخلاقاً ان سے اجازت لے کر ہی لوٹنا چاہیے۔ چنانچہ وہ بھی ان کے پیچھے چل پڑا۔ قریب پہنچا تو وہ اپنی بیٹی کو اپنے ساتھ پیش آنے والی غلط فہمی کے بارے میں بتا رہے تھے۔ وہ عبداللہ کو دیکھ کر بولے۔
”اسی نوجوان نے مجھے راستہ دکھایا ہے۔“
”بیٹا! آپ کا بہت شکریہ۔“ خاتون نے بہت نفیس لہجے میں کہا۔ گرچہ ان کے چہرے سے سفر اور عمرے کی مشقت اور اب پیش آنے والی پریشانی کے سارے آثار ظاہر تھے۔
”ہم کافی دیر سے یہاں ابو کا انتظار کر رہے تھے۔“ ہم کے صیغے سے عبداللہ کی توجہ ان کے برابر میں کھڑی ہوئی لڑکی کی طرف ہوئی۔ لمحے بھر کو اس نے اس لڑکی کو دیکھا اور بے اختیار نظریں جھکا لیں۔ مگر اس ایک لمحے میں عبداللہ کے دل کی دنیا میں قیامت برپا ہو گئی۔ اس قیامت کا سبب یہ نہیں تھا کہ وہ لڑکی غیر معمولی طور پر حسین نقش و نگار اور رنگ و روپ کی مالک تھی۔ رہا عبداللہ تو اس جیسی بے داغ جوانی کہاں کسی نے دیکھی ہو گی۔ پھر وہ حرم میں جس کیفیت میں تھا ہاں صنف مخالف تو کیا اپنی جنس کے انسان بھی نظر آنا بند ہوجاتے ہیں.... سوائے کعبہ اور رب کعبہ کے کچھ اور نظر نہیں آتا۔
اور اس صبح سے تو رب کعبہ کا تصور انتہائی گہرا ہو چکا تھا۔ اس نے خواب میں پروردگار عالم کی حضوری کا جو شرف حاصل کیا تھا اس کے بعد عبداللہ کو کچھ ہوش نہیں تھا۔ ایسے میں خواب کی دیگر تفصیلات اسے کہاں یاد رہ سکتی تھیں۔ مگر اس دلکش نسوانی چہرے نے خواب کی ایک ایک تفصیل اسے یاد دلا دی۔ ہر منظر اور ہر واقعہ ذہن کے صفحات پر اس طرح تازہ ہو گیا تھا کہ گویا کوئی لکھی ہوئی کتاب ہے جسے بے تکلف وہ پڑھتا چلا جا رہا ہو۔ اور اب اس کتاب کا سب سے روشن ورق اس کے سامنے کھلا ہوا تھا۔ اس کے سامنے سر تا سر روشنی اور سراپا نور ناعمہ کھڑی ہوئی تھی۔
خاموشی کا وقفہ طویل طویل ہو رہا تھا، مگر عبداللہ اس سے بے نیاز گردن جھکائے کھڑا تھا۔ وہ اپنے آپ کو یقین دلانے میں مشغول تھا کہ جو کچھ اس نے دیکھا ہے وہ اس کا وہم ہے۔ اس کی نظر کا دھوکہ ہے۔ اس کی یادداشت کی کمزوری ہے.... یا شاید اس کی عمر کا تقاضہ ہے یا پھر شیطان کی دراندازی ہے جو حرم سے رخصت ہوتے وقت اس کی ساری ریاضت اور محنت کو ضائع کرنا چاہتا ہے۔ شیطان حرم میں آنے والے بڑے بڑے نیک لوگوں کی کمائی اسی طرح لمحہ بھر میں لوٹ لیتا ہے۔ کسی بھی بہانے سے ایک نظر کی خواہش، ایک لمس کا جذبہ ، ایک لمحہ کی حیوانیت، ایک لمحہ کی ہوس، عمر بھر کی ریاضت کو برباد کر سکتی ہے۔
”ہاں یہی لمحہ بطور آزمائش میری زندگی میں آگیا ہے۔ شیطان چاہتا ہے کہ میں اس لڑکی کو اپنے خواب کی تعبیر سمجھ کر اپنی آنکھوں میں شیطان کو بسیرا کرنے دوں۔ میں اس کو ایسا نہیں کرنے دوں گا۔ ہرگز ایسا نہیں کرنے دوں گا“۔
عبداللہ نے دل میں سوچا اور فیصلہ کیا کہ اسے فوراً یہاں سے رخصت ہو جانا چاہیے۔ مگر اس سے قبل کہ وہ ان لوگوں سے اجازت لیتا۔ خاموشی کے طویل ہوتے ہوئے وقفہ کو ایک تھکی ہوئی مگر انتہائی مترنم آواز توڑا:
”نانا ابو! جاگتے ہوئے ساری رات ہوگئی ہے۔ اب جلدی سے ہوٹل چلیے۔“
اس آواز نے عبداللہ کے رہے سہے ہوش بھی اڑا دئیے۔ یہ آواز اس کے لیے اجنبی قطعاً نہ تھی۔ اسے ہلکا سا چکر آیا، بزرگ جو اس کی کیفیت سے قطعاً بے خبر تھے بولے:
”ہاں بیٹا! چلتے ہیں، ذرا ان سے اجازت لے لیں“۔
اس سے قبل کہ وہ بزرگ عبداللہ سے کچھ کہتے ان کی صاحبزادی نے جو ایک نفیس طبعیت خاتون تھیں، عبداللہ سے پوچھ لیا:
”بیٹا! چلتے چلتے اپنا نام تو بتاتے جاﺅ؟“
”میرا نام عبداللہ ہے۔“ بمشکل عبداللہ کی زبان سے یہ الفاظ نکلے۔ اب یہ وہ وقت تھا جب تہذیبی تقاضوں کے پیش نظر بزرگ نے اپنے آپ کو متعارف کرانا ضروری سمجھا:
” اچھا ہوا بیٹا آمنہ تم نے ان سے تعارف حاصل کرادوں۔
میرا نام اسماعیل ہے، یہ میری بیٹی آمنہ ہے“ وہ ایک لمحے کے لئے رکے اور اپنی نواسی کی طرف دیکھتے ہوئے محبت آمیز لہجے میں بولے۔ ”اور یہ سب سے زیادہ تھکی ہوئی میری نواسی ہے، اس کا نام ناعمہ ہے۔“
عبداللہ کی شدید ترین خواہش تھی کہ ایک اجنبی نام اس کے کانوں تک پہنچے تاکہ وہ کچھ تو خود کو بہلاوا دے سکے ۔ مگر ناعمہ کا نام تابوت کی آخری کیل بن کر اس کے کانوں امیں گونجا۔ اس دفعہ دنیا کی کوئی طاقت عبداللہ کو دوبارہ نظر اٹھانے سے نہیں روک سکی۔ اس کے سامنے واقعی ناعمہ کھڑی ہوئی 
 تھی۔ وہ لڑکی جسے اس نے زندگی میں پہلی دفعہ جاگتی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ مگر جسے وہ رات خواب میں.... عبداللہ نے گھومتے ہوئے دماغ سے سوچا: ” اگر وہ خواب تھا تو یہ کیسی حقیقت تھی۔ اگر حقیقت ہے تو پھر وہ خواب....۔“
معاملہ عبداللہ کی برداشت سے زیادہ ہو چکا تھا۔ اسے آنے والے چکر اب تیز ہوگئے وہ ناعمہ کو دیکھتے ہوئے لہرایا اور بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑا۔
(ختم شد)

متعلقہ خبریں