حضرت امام حسین ؓ

2018 ,اپریل 20



لاہور(علامہ منیر احمد یوسفی):سیدالشہداء حضرت سیّدنااِمام حسینؓکی ولادتِ مبارک ۵ شعبان المعظم ۴ ھ؁ کو مدینہ طیبّہ میں ہوئی۔سرکارِ اَقدسؐنے آپ کے کان میں اذان پکاری‘ (مستدرک حاکم جلد ۳ص ۷۹۱حدیث نمبر ۷۲۸۴)منہ میں اپنالعاب دہن شریف ڈالا اور آپ کے لئے دُعا فرمائی۔ پھر ساتویں دن آپ کا نام ’’حسین‘‘ ؓرکھا اور عقیقہ کیا اور سر کے بال منڈوا کر اُن کے وزن کے برابر چاندی صدقہ کی۔ (مستدرک حاکم جلد ۳ص ۷۹۱حدیث نمبر ۸۲۸۴) امیر المؤمنین حضرت سیّدنا علیؓ سے روایت ہے‘ فرماتے ہیں‘ جب (حضرت سیّدنا اِمام) حسن ؓ پیدا ہوئے تو آپ ؐ تشریف لائے اور فرمایا، میرا بیٹا مجھے دکھاؤ، آپ نے اِس کا کیا نام رکھا ہے؟امیر المؤمنین حضرت سیّدنا علیؓ فرماتے ہیں، میں نے عرض کیا ’’حرب‘‘ نام رکھا ہے۔ آپ ؐے فرمایا: ’’حرب‘‘ نہیں بلکہ اِس کا نام ’’حسن‘‘ ؓہے۔ پھر جب حضرت سیّدنا اِمام حسین پیدا ہوئے تو آپ ؐ نے فرمایا، مجھے میرا بیٹا دکھاؤ ‘آپ نے اِس کا کیا نام رکھا ہے؟ میں نے عرض کیا ’’حرب‘‘ نام رکھا ہے۔ آپؐ ؐنے فرمایا: نہیں‘ اِس کا نام ’’حسین‘‘ؓ رکھو۔ جب تیسرے شہزادے پیدا ہوئے تو آپ ؐنے فرمایا: مجھے میرا بیٹا دکھاؤ، آپ نے اِس کا کیا نام رکھا ہے؟ میں نے عرض کیا ’’حرب‘‘ نام رکھا ہے۔ حضور نبی کریم ؐ نے فرمایا: ’’حرب‘‘ نہیں بلکہ اِس کا نام ’’محسنؓ‘‘ ؓہے۔ پھر آپؐ نے فرمایا: ’’میں نے اِن کے نام (حضرت) ہارونؑ کے بیٹوں کے نام پر رکھے ہیں۔ اُن کے نام شبر، شبیر اور مبشر تھے‘‘۔( مستدرک حاکم جلد ۳ص ۲۸۱ حدیث نمبر ۳۷۷۴)اِسی لئے حسنین کریمینؓکو شبرو شبیر کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔سُریانی زبان میں شبروشبیر اور عربی زبان میں حسن و حسین دونوں کے معنی ایک ہی ہیں ۔
حضرت سیّدنا اِمام حسینؓ کے فضائل میں بکثرت اَحادیث ِمبارکہ وارد ہیں۔حضرت یعلی عامری بن مرۃؓ سے روایت ہے‘ فرماتے ہیں‘ حضورؐنے فرمایا: ’’حسینؓ مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں ‘‘۔ یعنی اِمام حسینؓ کو حضورؐ سے اور حضور ؐ کو حضرت سیّدنا اِمام حسینؓسے اِنتہائی قرب ہے۔ گویا کہ دونوں ایک ہیں تو اِمام حسینؓ کا ذکر حضورؐ کا ذکر ہے۔ اَسباط سبط کی جمع ہے ۔سبط سے مراد وہ درخت ہے جس کی جڑ ایک ہواورشاخیں بہت۔ یعنی جیسے حضرت یعقوبؑ کے بیٹے اَسباط کہلاتے تھے کہ اُن سے حضرت یعقوبؑ کی نسل شریف بہت چلی ۔ ربِّ کریم فرماتا ہے۔ ’’ اور ہم نے اُنہیں بانٹ دیا بارہ قبیلے گروہ گروہ ‘‘۔نبی کریمؐ نے فرمایا : ایسے ہی میرے (نواسے) حسینؓ سے میری نسل چلے گی اور اِن کی اَولاد سے مشرق و مغرب بھریں گے۔
حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے‘ فرماتے ہیں‘ حضور نبی کریمؐنے فرمایا‘’’ جسے پسند ہو کہ جنتی جوانوں کے سردارکو دیکھے تو وہ حسین بن علی ؓ کودیکھے‘‘۔ (نورالابصار ص۴۱۱)حضرت ابو ہریرہ ؓسے روایت ہے‘ فرماتے ہیں‘ رسولِ کریم ؐمسجد میں تشریف لائے اور فرمایا: چھوٹا بچہ کہاں ہے؟ اِمام حسینؓدوڑتے ہوئے آئے اور حضور نبی کریم ؐکی گود مبارک میں بیٹھ گئے اور اپنی اُنگلیاں آپ ؐ کی نورانی داڑھی مبارک میں داخل کر دیں۔حضورؐنے اُن کا منہ کھول کر بوسہ لیا پھر فرمایا: ’’اے اللہ ! میں اِس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اِس سے محبت فرما اور اُس سے بھی محبت فرما جو اِس سے محبت کرے‘‘۔ (مستدرک حاکم جلد ۳ص ۵۹۱ حدیث نمبر۳۲۸۴‘ مختصراً)معلوم ہوا کہ حضورؐنے صرف دُنیا والوں ہی سے نہیں چاہا کہ وہ اِمام حسینؓ سے محبت کریں بلکہ رَب تعالیٰ سے بھی عرض کیا کہ تو بھی اِس سے محبت فرما اور یہ بھی عرض کیا کہ اِمام حسینؓ سے محبت کرنے والے سے بھی محبت فرما۔
اِمام حسین نے پیدل چل کر پچیس حج کئے‘ آپ بڑی فضیلت کے مالک تھے اور کثرت سے نماز‘ زکوٰۃ‘ حج‘ صدقہ اور دیگر امور ِخیراَدا فرماتے تھے۔ امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق اعظم ؓ ‘ فرماتے ہیں‘ ایک روز میں حضورؐ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا تو میں نے دیکھا کہ حضورؐنے اِمام حسین کو اپنی پشت پر بٹھا رکھا ہے اور ایک رسی اپنے نورانی منہ مبارک میں ڈال رکھی ہے اور اِمام حسین ؓنے ایسے پکڑ رکھی ہے جیسے لگام) اُس کے دونوں سرے اِمام حسین ؓکو تھما رکھے ہیں اور وہ حضورؐ کو چلا رہے ہیں اور نبی کریم ؐ اپنے گھٹنوں کے بل چل رہے ہیں۔ حضرت فاروق اعظم ؓفرماتے ہیں) جب میں نے یہ منظر دیکھا تو میں نے کہا: اے حسین ؓآپ کی سواری بہت ہی اچھی ہے تو آپؐ نے یہ سن کر فرمایا: ’’اے عمر ؓ سوار بھی تو بہت اچھاہے‘‘۔(مشکوٰۃص۱۷۵)
حضور نبی کریمؐنے واشگاف اَلفاظ میں خبر غیب سے اُمّت کو حضرات حسنینؓکی جنت کے جوانوں کی سرداری کی نوید سے نوازا۔حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے‘ فرماتے ہیں‘ رسولِ کریمؐ نے فرمایا: ’’بے شک اِمام حسنؓ اور حسینؓ دونوں دنیا میں میرے دو پھول ہیں‘‘۔ (بخاری جلد۱ص۰۳۵‘ فتح الباری جلد۷ص ۲۴۱۔ ۹۱۱) سیّد الشہداء اِمام حسین کی پیدائش کے ساتھ ہی آپ کی شہادت کی بھی شہرت عام ہو گئی۔

متعلقہ خبریں