بڑی خبر: شریف فیملی تو بڑی بُری پھنسی ۔۔۔ نیب نے اب تک کا سب سے بڑا ثبوت حاصل کر لیا

2019 ,مئی 10



لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) نیب لاہور نے آمدن سے زاید اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ سے متعلق شریف فیملی کیخلاف 3 ارب 30 کروڑ کے دستاویزی شواہد حاصل کر لیے ہیں۔ منی لانڈرنگ کیس میں نیب لاہور کو سلمان شہباز سے متعلق ایف بی آر، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا ریکارڈ موصول ہو گیا، پانچ بینک اکائونٹس سے سلمان شہباز کو 60 کروڑ 30 لاکھ 56 ہزار 870 روپے منتقل کیے گئے۔ نجی ٹی وی کے مطابق نیب لاہور نے سلمان شہباز سے متعلق ایف بی آر، اسٹیٹ بنک اور دیگر بنکوں سے اکائونٹ میں منتقل ہونے والی رقوم کی تفصیلات حاصل کر لیں۔دوسری جانب اسلام آباد( 24نیوز )شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کے دوران جرح مکمل ہوگئی ہے،اب عدالت نے العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس کی سماعت 23اپریل کو مقرر کردی ہے۔ ایون فیلڈ ریفرنس ، نواز شریف عدالت پہنچ گئے اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نیب کی جانب سے دائر ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کریں گے جب کہ نامزد تینوں ملزمان نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کمرہ عدالت میں موجود ہیں۔ مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کے وکیل امجد پرویز نیب کے گواہ واجد ضیاءپر جرح کریں گے، اس سے قبل نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے مسلسل 10 روز سماعت کے دوران جرح مکمل کی تھی۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ نیب نے ایوان فیلڈ ریفرنس کے حوالے سے اہم دستاویزات حاصل کرلی ہیں، حاصل دستاویزات کے مطابق ایون فیلڈ پراپرٹیز کی ملکیت بے نامی کمپنیوں نیلسن اینڈ نیسکول کے نام 1993 سے 1995 کے درمیان منتقل ہوئی،دستاویزات شریف خاندان کے اس دعوے کی نفی کرتی ہیں کہ ایون فیلڈ پراپرٹیز کی منتقلی 2006۔2005 میں ہوئی۔ نیب ذرائع کا دعویٰ ہے کہ 1993 سے 1995 کے دوران میاں نواز شریف کے بچوں کے کوئی ذرائع آمدن نہیں تھے اور ان جائیدادوں کے اصل مالک میاں نواز شریف ہی ہیں،نیب کو حاصل ہونے والے موزیک فونسیکا کے ریکارڈ کے مطابق مریم نواز ان جائیدادوں کی بینیفشل آنر بھی ہیں۔ واضح رہے کہ شریف خاندان ان حقائق کو جھٹلا چکا ہے اور احتساب عدالت میں ان کے وکیل نے جرح کے دوران ثابت کیا کہ نیب کی دستاویزات قانون کے مطابق درست نہیں اور ذریعہ دستاویزات کی ثبوت کے طور پر کوئی حیثیت نہیں۔ احتجاج سب کا حق، کسی کی زبان بند نہیں کر سکتے:نواز شریف ۔سماعت سے قبل سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کمرہ عدالت میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا زباں بندی، ٹی وی بندی اور اخبار بندی بند ہونی چاہیے، ایسے فیصلے اب صرف پاکستان میں آتے ہیں، میں آئین، قانون اور ووٹ کو عزت دینے کی بات کرتا رہا، میں 22 کروڑ عوام کے حق کی بات کرتا رہا، آپ کس طرح عوام کے حق کو مجروح کر سکتے ہیں؟ احتجاج سب کا حق ہے سب کے یکساں حقوق ہیں کسی کی زبان بند نہیں کرسکتے۔سابق وزیر اعظم نے کہا یہ ملک سب کا ہے اور سب کے یکساں حقوق ہیں، احتجاج سب کا حق ہے کسی کی زبان بند نہیں کر سکتے، یہ ملک پہلے ہی انتشار کا شکار ہے، صورتحال کا کوئی حل نکالنا چاہیے، احتجاج کرنا بنیادی حق ہے، مہذب معاشرے میں اسے روکنا بالکل جائز نہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ نے نواز شریف، مریم نواز اور وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سمیت 16ارکان اسمبلی کی عدلیہ مخالف تقاریر نشر کرنے پر 15 روز کیلئے عبوری پابندی عائد کردی ہے۔سابق وزیر اعظم نے کہا یہ ملک سب کا ہے اور سب کے یکساں حقوق ہیں، احتجاج سب کا حق ہے کسی کی زبان بند نہیں کر سکتے، یہ ملک پہلے ہی انتشار کا شکار ہے، صورتحال کا کوئی حل نکالنا چاہیے، احتجاج کرنا بنیادی حق ہے، مہذب معاشرے میں اسے روکنا بالکل جائز نہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ نے نواز شریف، مریم نواز اور وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سمیت 16ارکان اسمبلی کی عدلیہ مخالف تقاریر نشر کرنے پر 15 روز کیلئے عبوری پابندی عائد کردی ہے۔

متعلقہ خبریں