پاکستان کو کتنے ارب ڈالرز کا قرضہ ادا کرنا ہوگا اور کتنے سالوں میں؟ چین نے سی پیک منصوبے کے حوالے سے پہلی بار تفصیلات دے ڈالیں

2019 ,فروری 25



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) چین نے پہلی مرتبہ سی پیک کے تحت پاکستان پر واجب الادا قرضوں کی تفصیلات جاری کر دیں، پاکستان کے ذمے 40 ارب ڈالرز کا قرضہ ہونے کی خبریں بے بنیاد ہیں، سی پیک کے تحت چین نے پاکستان کو 6 ارب ڈالز کا واجب الادا قرضہ دیا ہے جس کی ادائیگی 2021 سے شروع ہوگی۔ چینی حکام نے پاکستان پر سی پیک کے تحت 40 ارب ڈالرز سے زائد قرضہ واجب الادا ہونے کی خبروں کی تردید کردی ہے۔ چین نے مغربی میڈیا کی جانب سے کیے جانے والے پراپیگنڈا کے بعد پہلی مرتبہ سی پیک کے تحت پاکستان پر واجب الادا قرضوں کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ چینی حکام کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق حکومت پاکستان پر سی پیک کے تحت واجب الادا قرضے صرف 6 ارب ڈالرز ہیں جو کہ صرف 2 فیصد کی شرح سود پر فراہم کیا گیا ہے۔حکومت پاکستان کو سی پیک کے تحت صرف 6 ارب ڈالرز کا قرضہ واپس کرنا ہے۔6 ارب ڈالرز کے قرضے کی واپسی کا سلسلہ 2021 سے شروع ہو گا جبکہ قرضہ 25 سے 30 برس کی مدت کے دوران واپس کیا جا سکے گا۔ چینی حکام کی جانب سے مزید بتایا گیا ہے کہ سی پیک منصوبے کے تحت جاری کیے جانی والی دیگر رقوم سرمایہ کاری ہیں نہ کہ قرض۔ سی پیک منصوبے کے تحت توانائی اور دیگر شعبوں کیلئے چینی کمپنیوں نے قرضے حاصل کیے ہیں۔ چینی کمپنیوں کی جانب سے حاصل کردہ قرضوں کا حجم 12 ارب ڈالرز سے زائد ہے۔یہ قرضے کمرشل بینکوں کی جانب سے حاصل کیے گئے ہیں۔ 12 ارب ڈالرز سے زائد کے یہ قرضے چینی کمپنیوں کو واپس کرنا ہوں گے۔ یہ قرضے پاکستان کی حکومت کے ذمے نہیں ہیں۔ جبکہ سی پیک منصوبے کے تحت شاہراہوں کا جو جال بچھایا جا رہا ہے، وہ چینی حکومت کی امداد کے تحت ہے۔ شاہراہوں کی تعمیر کیلئے درکار سرمایہ چینی حکومت فراہم کر رہی ہے۔ چینی حکومت کی جانب سے فراہم کردہ یہ سرمایہ قرضہ نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں