مراد سعید نے بلاول بھٹو کو قومی اسمبلی میں آڑھے ہاتھوں لے لیا، اپوزیشن رہنماؤں نے اسپیکر کا گھیراؤ کر لیا

2019 ,مئی 10



اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک ) وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید کا کہنا ہے کہ سندھ کی بات کرو تو اپوزیشن شور شرابہ کرتی ہے، ایک پرچی لہرا کر آگئے اور چیئرمین بن گئے، کیا یہ مذاق ہے؟تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے ہنگامہ کھڑا کردیا۔ اپوزیشن ارکان اسپیکر کے ڈائس کے گرد کھڑے ہوگئے جبکہ شور شرابے سے مراد سعید کو تقریر بھی نہ کرنے دی گئی۔مراد سعید نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لمبی تقریریں کرتے ہیں جب جواب کا وقت آتا ہے تو سننے کی ہمت نہیں ہوتی۔ آج لاڑکانہ سے رکن قومی اسمبلی نے گفتگو کی ہے۔ میں سمجھتا تھا بلاول بھٹو لاڑکانہ میں ایڈز پر بات کریں گے لیکن بلاول نے اس کا ذکر تک نہ کیا۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے اسپتالوں میں غلط انجیکشن سے بچے مر رہے ہیں، آج ہمیں اپوزیشن سے اس کے بارے میں سوال کرنا تھا لیکن انہوں نے ہنگامہ کھڑا کردیا ہے۔مراد سعید نے کہا کہ تھر میں بھوک سے لوگ مر رہے ہیں، ان سے پوچھا جائے تو فالودے والے اور پکوڑے والے سے پیسہ نکلتا ہے۔ ایان علی اور بلاول بھٹو کو ایک ہی اکاؤنٹ سے پیسہ گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ راؤ انوار ان کا بہادر بچہ ہے، سندھ کے لوگوں کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔ قرضہ 6 ہزار سے 30 ہزار ارب تک پہنچ گیا پوچھا جائے پیسہ کہاں خرچ ہوا۔ اسٹیٹ بینک رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ غربت سندھ میں ہے۔مراد سعید کا کہنا تھا کہ لاڑکانہ میں ایڈز اور تھر میں بچوں کی اموات کا جواب کون دے گا۔ آصف زرداری کے بیرون ملک موجود محل اور سوئس اکاؤنٹس میں پیسہ ہے۔ ہمیں پتہ تھا سندھ کی بات کریں گے تو یہ شور شرابہ کریں گے۔وفاقی وزیر نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قابلیت کیا ہے ان کو کیا سمجھ ہے انہوں نے دیکھا کیا ہے، ’ایک پرچی لہرا کر آگیا اور چیئرمین بن گیا کیا یہ مذاق ہے۔ ایان علی اور بلاول بھٹو کو ایک ہی جگہ سے پیسہ آتا ہے یہ ہمارا قصور نہیں۔ اپوزیشن والے ایک ایک گھنٹہ تقریر کرتے ہیں اور پھر چلے جاتے ہیں‘۔مراد سعید کی تقریر کے دوران اسپیکر اپوزیشن ارکان کو خاموش ہونے اور انہیں اپنی جگہ پر بیٹھنے کا کہتے رہے لیکن ارکان ٹس سے مس نہ ہوئے۔ اسپیکر نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں 10 منٹ کا وقفہ کردیا۔

متعلقہ خبریں