سقوط ڈھاکہ کا ایک ہی ذمہ دار! یحییٰ خان نے ڈھاکہ شراب میں ڈبو دیا

2018 ,دسمبر 18



جنرل آغا محمد یحییٰ خان پاک فوج کے پیشہ ور افسر اور قابل جرنیل تھے۔ ان کو جب بھی کوئی مشن اور کمانڈ دی گئی، وہ اپنی ذمہ داریوں سے اعلیٰ کمان کی توقعات کے مطابق سرخرو ہوئے۔ ان کو فوجی و پیشہ ورانہ مہارت اور خدمات کے اعتراف میں ہلال جرات تک جیسے فوجی اعزازات دیئے گئے۔انہوں نے دوسری ورلڈواراور ،65 کی پاکستان بھارت جنگ میں حصہ لیا۔1971 ءکی جنگ میں وہ کمانڈر انچیف  سی این سی اور صدر پاکستان تھے۔وہ پاکستان کے تیسرے صدر اورپانچویں فوجی سربراہ تھے۔ فوجی افسر ڈسپلن کی بھٹی میں تَپ کندن بنتاہے۔ ہر لمحہ آزمائش اور امتحان سے گزر کر جنرل اور پھر کوئی ایک آرمی چیف کے عہدے تک پہنچتا ہے۔ فوجی افسروں کی زندگی کسی سویلین کیلئے ان کو حاصل مراعات کے باعث قابل رشک ہے ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمہ وقت جان ہتھیلی پر رکھنی پڑتی ہے۔ جنگوں کے بغیر بھی حالت جنگ میں رہنا ہوتا ہے۔ فوج کی تربیت ایسی کہ موت کا خوف ختم اور ہر فوجی وطن سے محبت و وفا کا مجسمہ بن جاتا ہے۔ یحییٰ خان بھی ایسے ہی ایک سپاہی تھے۔ ان کوکمانڈر انچیف بنایا گیا‘ یحییٰ بطور کمانڈر انچیف اپنی مدت پوری کرکے ریٹائر ہو جاتے تو شاید پاکستان دولخت ہوتانہ وہ ذلیل ورسوا ہوتے۔ مشرقی پاکستان کے سقوط کے اسباب ذوالفقار علی بھٹو نے پیدا کئے ہونگے۔ مجیب الرحمن کی بدنیتی شامل ہوگی۔ اندراگاندھی کا کلیدی کردار تھا۔ ان تینوں کے خاندان اقتدار کے اعلیٰ ایوانوں تک پہنچنے کے باوجود نشان عبرت ہیں۔ بھٹو‘ مجیب اور اندراگاندھی تینوں کی غیرفطری موت شاید قدرت کی طرف سے ان کی بدنیتیوں کا انتقام تھا۔ بھٹو نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی ابتداکی، جنگی قیدیوں کی واپسی‘ پاکستان میں اسلامی سربراہ کانفرنس کا اہتمام 73ءکے آئین کی تشکیل‘ امتناع قادیانیت قانون سمیت کئی کارنامے بھٹو کے نام ہیں۔ کیا ان کاموں سے پاکستان کو دولخت کرنے میں کردارسے صرف نظر کیا جا سکتاہے؟ اس پر بحث ہوتی رہی اور ہوتی رہے گی۔ سقوط ڈھاکہ سے قبل جو بھی حالات تھے‘ وہ کس طرح پیدا ہوئے یا پیدا کئے گئے‘ پاکستان یحییٰ خان کی صدارت کے دوران ٹوٹا تب ان کے پاس مکمل اختیار تھے۔ اس حوالے سے مشرقی پاکستان کے پاکستان سے الگ ہونے کے بڑے ذمہ دار جنرل یحییٰ خان قرار پاتے ہیں۔ صرف جنرل آغا محمد یحییٰ خان! وہ جنرل جو بطور فوجی افسر اور کمانڈر انچیف جرات‘ بہادری‘ شجاعت و جانفروشی اور حب الوطنی میں کسی سے کم نہ تھا‘ پاکستان ایسی خوبیوں سے معمور جرنیل کی صدارت کے دوران ٹوٹ گیا۔مشرقی پاکستان کے ٹوٹنے میں یحییٰ خان کی اول و آخر نااہلی تھی مگر اس میں انکی بد نیتی کا عمل دخل شاید نہیں تھا۔ اوپر نیتوںکاجبکہ جہاںجو کیا اس کا حساب دینا ہے۔ 
ایوب خان کے خلاف ایک طبقے نے مہم شروع کی۔ ایوب خان جن کے دور میں ریکارڈ ترقی ہوئی جس کی بعد میں بھی کوئی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے درست یا غلط اپنے خلاف الزام سے بڑھ کر دشنام کو قوم کی آواز سمجھ لیا۔ انہوں نے جاتے ہوئے اقتدار جنرل یحییٰ خان کے حوالے کر دیا جو ان کی طرف سے قوم سے انتقام ثابت ہوا۔ جن لوگوں کی تحریک اور مہم جوئی کو ایوب نے قوم کی آواز سمجھا‘ وہ انتخابات میں مجیب الرحمن کے مقابلے میں آدھی سیٹیں بھی حاصل نہیں کر سکے تھے۔
یحییٰ خان صدر بنے توبے مہار اقتدار اور بے کنار اختیار کے خمار میں پٹڑی سے اترتے چلے گئے۔ ان کی خداد صلاحیتوں کو زنگ لگنا شروع ہوا،وہ نااہلیت کی دلدل میں دھنستے، عشق و مستی کے بھنور میں پھنستے چلے گئے جس سے ترجیحات تبدیل ہونے لگیں۔ ان کی زندگی عیاشیوںسے عبارت،ہر ہرشب و روز کئی کئی داستانیں رقم ہونے لگیں۔ شراب کے رسیا تو شاید پہلے ہی تھے‘ جب بازپرس کا خوف نہ رہا تو نشہ میں دھت رہنے لگے۔ بے کنار اقتدار سے شباب کے سارے راستے ان کے درِ دولت کی طرف آ گئے۔ فوج میں بہت سخت ڈسپلن ہے۔ سول میں عموماً فوج کا بڑا رعب داب ، جائز ناجائز بہت کچھ ہو سکتا مگر فوج کے اندر جوابدہی کا کڑا سسٹم ہے۔ تھوڑی سی بے احتیاطی99 سے زیرو ہی نہیں اس سے بھی نیچے لا پھینکتی ہے، جہاں سے زیرو تک پہنچنا بھی ناممکن ہو جاتا ہے۔ یحییٰ خان کیساتھ ایک باریوں بھی ہوا۔سابق آئی جی پنجاب سردار محمد چوہدری اپنی کتاب میں لکھتے ہیں۔” اقلیم عرف رانی پولیس انسپکٹر رضا کی بیوی گجرات سے تعلق رکھتی تھی۔ یحییٰ خان اور رانی کے مابین تعلق اس وقت قائم ہوا جب یحییٰ خان نے سیالکوٹ کے جنرل آفیسر کمانڈنگ کی حیثیت سے سی ایم ایچ کا دورہ کیا جہاں وہ زیرِ علاج تھی۔ ان کی دوستی میں جلد ہی بے تکلفی اور اعتماد بڑھ گیا۔ یحیٰی خان ستمبر 1965ءکی پاک بھارت جنگ کے دوران اس وقت بھی ہیلی کاپٹر پر اس کے گھر جاتارہا جب وہ گجرات کے نزدیک چھمب سیکٹر کا انچارج تھا۔ ایک دن یحییٰ خان اس کے پاس گیا تو وہ ڈی ایس پی مخدوم کے ساتھ رنگ رلیاں منا رہی تھی۔ نشے میں دھت مخدوم، یحییٰ خان کو دیکھ کر اس قدر مشتعل ہوا کہ سرکاری پستول سے رانی پر گولیا ں برسا دیں۔ فائرنگ کی آواز سن کریحییٰ خان ڈر گیا اور ہیلی کاپڑپر واپس بھاگ گیا“۔اس لئے بھاگا کہ باز پُرس اورجوابدہی کا خوف تھا۔ 
پھر ایسا وقت بھی آیاکہ ایوان صدرحسیناﺅں کی آماجگاہ اور چارہ گاہ بن گیا تھاکیونکہ اب بے پایاں اختیارات کے باعث وہ کسی کو جوابدہ نہیں تھے،اس لئے جو جی میں آیا بے دھڑک کرتے رہے۔ ان کی لہوّ و لعب کی داستانیں زبان زد عام رہیں۔ ایک تقریر کے دوران سقوط مشرقی پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے آغا شورش کاشمیری نے کہا تھا ” سقوط مشرقی پاکستان کے ذمہ داران ان گنت ہیں لیکن ان میں انگور کا پانی اور اقلیم اختر رانی نمایاں ہیں۔ اس کی تفصیل سے قبل حمودالرحمن کمشن رپورٹ کا ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیے جس سے یحییٰ خان کی ماوف العقلی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔”لفٹیننٹ جنرل امیر عبد اللہ خان نیازی نے شیخی بگھارتے ہوئے یہ اعلان کیا تھا کہ بھارتی افواج ان کی لاش پر سے گزر کر ہی ڈھاکا میں داخل ہو سکتی ہے۔ اس اعلان کے دوسرے ہی دن پوری قوم غیر ملکی ذرائع ابلاغ سے یہ وحشت ناک خبر سن کر سکتے میں آگئی کہ انہوں نے نہایت ذلت آمیز طریقے ، شرم ناک انداز میں 16 دسمبر1971ءکو ڈھاکا ریس کورس کی ایک تقریب میں دشمن افواج کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے شکست تسلیم کرلی! اُسی شام پاکستانی افواج کے اس وقت کے کمانڈر انچیف اور ایوب ساختہ صدر پاکستان نے قوم کے نام اپنے ایک نشری پیغام میں اس ذلت آمیز شکست کو محض ایک خطے میں جنگ ہارنے سے تعبیر کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مغربی محاذ پر یہ جنگ جاری رہے گی! ایک مرتبہ پھر قوم کو ایک شدید دھچکے کا اس وقت سامنا کرنا پڑا جب اس اعلان عزم کے دوسرے ہی دن انہوں نے قلابازی کھائی اور اعتراف شکست کرتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم کی جانب سے یک طرفہ طور پر جنگ بندی کو تسلیم کر لیا۔ وہ بھی ایک ایسے مرحلے پر جب سرکاری اخباری رپورٹس کے مطابق مغربی محاذ پر پاکستانی افواج ہر سمت میں پیش قدمی کرتے ہوئے دشمن کے علاقے میں برابر آگے بڑھ رہی تھیں اور انہیں بہت کم جانی نقصان برداشت کرنا پڑا تھا۔ پوری قوم ان واقعات پر شدید احساس زیاں سے دوچار تھی اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اس شرم ناک انداز میں شکست تسلیم کرتے ہوئے بھارتی افواج کے سامنے ہتھیار کیوں ڈالے گئے اور جنگ بندی کی پیش کش کو تسلیم کرنے میں اس قدر عجلت کا مظاہرہ آخر کس لیے کیا گیا؟ ان تمام واقعات نے اس وقت کی فوجی حکومت کے حوالے سے قوم کے ذہن میں ان شکوک و شبہات کو جنم دیا کہ یہ سب کچھ قوم اور وطن کو سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق بے آبرو اور تباہ کرنے کی ایک مجرمانہ سازش تھی“۔
ارشد سمیع خان پاکستان ایئرفورس میں اسکوارڈن لیڈر تھے، 1965ءکی پاک بھارت جنگ میں ستارہ جرات حاصل کیا۔ارشد سمیع خان 1966ءسے 1972ءکے دوران صدر ایوب خان، صدر یحییٰ خان اور صدر ذوالفقار علی بھٹو کے اے ڈی سی بعدازاں کئی ملکوں میں سفیر رہے۔ چیف آف پروٹوکول اوروفاقی سیکرٹری بھی بنے ۔ اقلیم اختر رانی رشتے میںارشد سمیع خان کی خالہ ساس تھی۔ ارشد سمیع خان کی کتاب ”تھری پریذیڈنٹس اینڈ این ایڈ“ بھارت میں شائع ہوئی تھی۔جی ہاں یہ ارشد سمیع خان۔۔۔ عدنان سمیع کے والد ہیںارشد سمیع بھی پاکستان چھوڑ کر امریکہ چلے گئے تھے اور ان کا انتقال ممبئی میں ہوا ۔ارشد سمیع خان نے اس کتاب میں لکھا کہ کس طرح وہ ڈھاکہ کے پریذیڈنٹ ہاﺅس میں رات کو تمام روشنیاں بجھا دیتے تھے اور پھر صدر پاکستان کو اپنی گاڑی میں چھپا کر ڈانس پارٹیوں میں لے جاتے جہاں صدر صاحب تمام رات عورتوں کے ساتھ ناچتے رہتے تھے اور علی الصبح ارشد سمیع خان اپنے باس کو واپس پریذیڈنٹ ہاﺅس میں لے آتے۔ ارشد سمیع خان نے لکھا ہے کہ جب انہیں حمود الرحمان کمیشن کے سامنے بلایا گیا اور یحییٰ خان سے ملاقاتیں کرنے والی عورتوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے لاعلمی ظاہر کر دی۔جسٹس حمود الرحمان نے ان سے پوچھا کہ کیا یحییٰ خان کثرت شراب نوشی کا شکار تھے تو ارشد سمیع خان نے نفی میں جواب دیا۔ ارشد سمیع خان کی اس لاعلمی کے باوجود حمود الرحمان کمیشن نے یحییٰ خان کے بارے میں بہت سے ثبوت اور حقائق حاصل کرکے اپنی رپورٹ میں شامل کر دیئے۔کمیشن کی رپورٹ کے باوجود یحییٰ خان پر کوئی مقدمہ نہ چلا۔
لیفٹیننٹ کرنل عزیز احمد خان نے حمودالرحمٰن کمیشن کو بتایاکہ یحییٰ خان شراب اور عورتوں کا رسیا تھا۔ اس کے جن عورتوں سے تعلقات تھے ان بڑی معروف شخصیات کی بیگمات گلوکارائیں اور اداکارائیں شامل تھیں۔جنرل کا قرب حاصل کرنے والیوں کے تعداد کم و بیش پانچ سو تھی۔ان پر بے جا نوازشات بھی جنرل یحییٰ کا بادشاہوں کی طرح معمول تھا۔
بیگم حسین رات گئے جنرل یحییٰ کو ملنے آتیں اور صبح واپس جاتیں۔ ان کے شوہر کو سوئٹزر لینڈ میں پاکستان کے سفیر کے طور پر بھیجا گیا جبکہ بعد ازاں بیگم شمیم کو آسٹریا کے لئے سفیر مقرر کردیا گیا تھا۔ میاں بیوی کو دونوں سفارت کاری کا کوئی تجربہ تھا نہ ہی امورِخارجہ کے شعبے سے ان کا کوئی تعلق تھا۔اسی خاتون کے والد کو ڈائریکٹر نیشنل شپنگ کارپوریشن مقرر کیا گیا تھا اس وقت جب کہ وہ عمر میں ستر برس کے تھے۔ اسی زمانے میںمعروف مغنی نورجہاںایک موسیقی کے میلے میں شرکت کرنےکے لئے ٹوکیو گئی تھیں تو ان کے ہمراہ ان کے خاندان کے بہت سے افراد سرکاری خرچ پر جاپان گئے تھے۔یحییٰ خان کی ایک محبوبہ کو جب پی آئی سی آئی سی (بینک) کے ایم ڈی نے قرضہ نہیں دیا تو اس کو عہدے سے برطرف کر دیا گیا تھا۔
 اقلیم اخترپاکستان کے صدر جنرل یحییٰ خان کے قریبی دوستوں میں شمار ہوتی تھیں۔ ان کے قریبی تعلقات کی بناءپر وہ جنرل یحییٰ کو”آغا جانی“ کے نام سے پکارتی تھیں اور ان تعلقات کی بنیاد پر وہ نہایت مقبول اور انتہائی اختیارات کی حامل شمار ہوتی تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ جنرل یحییٰ کے دور میں جنرل کے بعد اکلیم اختر پاکستان کی سب سے بااختیار شخصیت ہوا کرتی تھیں۔ ان کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں تھا، مگر پھر بھی انھیں سرکاری پروٹوکول دیا جاتا تھا۔کمیشن کی تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ میجر جنرل خداداد خان آڈیٹر جنرل پاکستان آرمی کے بھی رانی کےساتھ ” تعلقات“ تھے ۔ مار شل لا کے دوران ہی کئی کاروباری سودوں میں وسیع پیمانے پر رقم کی خورد برد کے الزامات کے تحت کئی مقدمات دبانے میں رانی کی معاونت بھی کی۔
رانی نے پوچھ گچھ کرنے والوں کو بتایا کہ ایک بار کراچی میں قیام کے دوران شاہِ ایران کو روانہ ہونے میں خاصی تاخیر ہوگئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یحیٰی خان گورنر ہاوس میں اپنی آرامگاہ سے باہر نہیں آرہا تھا۔ پروٹوکول کے حوالے سے بڑا سنگین مسئلہ پیدا ہوگیا لیکن کوئی بھی صدر کی خواب گاہ میں داخل ہونے کی جرات نہیں کر رہا تھا۔ آخر کار ملٹری سیکر ٹری جنرل اسحاق نے رانی سے درخواست کی کہ وہ اندر جائے اور صدر کو باہر لائے۔ وہ کمرے میں داخل ہوئی تو ملک کی ایک مشہور ترین گلوکارہ کو صدر کے ساتھ پایا۔ رانی نے کپڑے پہننے میں صدر کی مدد کی اور اسے باہرلائی۔
 رانی نے بتایا کہ اقتدار سنبھالنے سے پہلے ایک رات وہ یحییٰ خان کے ساتھ تھی تو مجیب الرحمان کمرے میں آگیا۔ اس کے جانے کے بعد رانی نے یحییٰ خان کو کہا کہ اِ س شخص کو ملنے سے ایوب خان ناراض ہو سکتا ہے تو یحییٰ خان نے کہا ”فکر نہ کرو موٹی، ایوب خان ختم ہوچکا۔ اب تم حکومت کر و گی لیکن کسی سے ذکر نہ کرنا، یہ ایک خفیہ معاملہ ہے“
ایک غیر معمولی انٹرویو میں رانی نے انکشاف کیا کہ ایک رات آغا جانی مجھ سے ملنے کے لئے آئے تھے اور کسی حد تک بے چین تھے۔ آتے ہی مجھ سے پوچھا تمہیں فلم دھی رانی کا گانا ‘چیچی دا چھلا‘ آتا ہے۔ میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا میرے پاس گانے سننے کا وقت کہاں ہوتا ہے۔ اسی وقت انھوں نے ملٹری سیکرٹری کو فون کیا اور نغمے کی کاپی لانے کا حکم صادر کر دیا۔ رات کے دو بجے کا وقت تھا۔ بازار بند تھے۔ ملٹری سیکرٹری کو ایک گھنٹے کے اندراندر ایک آڈیو البم کی دکان کھلوا کر گانے کی کاپی حاضر کرنا پڑی۔ جس کے بعد آغا جانی خوشی خوشی نغمہ سن رہے تھے اور اس کی اطلاع نور جہاں کو کر دی گئی۔
یہ وہی اقلیم ہے جس کے برے دن آئے تو آغا شورش کے ہاںپناہ کی طلبگار ہوئی۔بھٹو دور میں رانی نے اپنے ڈیرے شارع قائداعظم پر واقع انٹر کانٹی نینٹل کے ایک ”سوئیٹ“ میں آباد کر رکھے تھے۔ وقت کے حکمران ان کے آستانے پر جبینِ نیاز لے کر حاضر ہوتے اور اپنے ”شرارتی من“ کی مرادیں پاتے۔ کھر گورنر بنے تو اس قسم کی اطلاعات موصول ہونا شروع ہوئیں کہ رانی کی ”جلوہ گاہِ جمال و وصال“ سازشوں کا گڑھ بن رہی ہے۔ نیلے آسمان کی بوڑھی آنکھوں نے اس طاقتور عورت کی دہلیز پر جانے وقت کے کتنے اعلیٰ افسران کو ناصیہ فرسائی کرتے دیکھا۔ آسمان نے رنگ بدلا، حالات نے پلٹا کھایا، لیل و نہار کی گردش نے کروٹ لی اور پنجاب پولیس حرکت میں آئی۔ ایک شب رانی کو بمع ساز و سامان” سازش گاہ“ سے حفاظتی حراست میں لیکر کوتوالی تھانے پہنچادیا گیا۔
کھر دور میں رانی مفرور اشتہاری ملزموں کی طرح جابجا چھپتی پھرتی رہی۔ اگلے وقت کے مہربانوں کے دروازے در توبہ کی طرح بند ہو چکے تھے۔ نیا ایوانِ اقتدار ان کیلئے شجر ممنوعہ تھا۔ نیا زمانہ تھا، ساز اور راگ بدل چکے تھے۔ رانی کوزندگی میں پہلی بار اس قسم کے ناخوشگوار حالات کا سامنا کرناپڑا۔ وہ اپنے آشناوں سے رابطہ کرتی، ہر ایک کی منت سماجت کرتی، جائے اماں اور دارالاماں فراہم کرنے کی عرضداشت کرتی لیکن نئے دور میں حکمرانوں کے عتاب سے بچنے کیلئے ہمہ نوعی بیورو کریسی کے اسفندیار اور افراسیاب بھی اپنی اس چہیتی سے آنکھیں چرانے لگے۔ وہ روایتی طوطے کی طرح صاف آنکھیں پھیر چکے تھے۔
 کوچہ بہ کوچہ، کو بہ کو اور قریہ بہ قریہ خا ک چھاننے کے بعد اسے یہ معلوم ہوا کہ پورے پاکستان میں اگر کوئی ایک شخص اسے پناہ دے سکتا ہے تو وہ لاہور کا ایک صحافی ہے۔ایک دنرات کے پچھلے پہر رانی آغا شورش کاشمیری کے گھر کے دروازے کے باہر موجود تھیں۔ آغا صاحب کو بامر مجبوری نیند سے جگایا گیا، وہ باہر آئے اور پرسشِ احوال کی۔
 رانی نے حکومتی مظالم کی ایک طولانی دستان سنائی اوراس کے بعد پناہ کی طلب گار ہوئی۔ آغا صاحب نے کہا کہ میں تمہیں تادیر اپنے ہاں پناہ نہیں دے سکتا۔ یہ سننا تھا کہ رانی نے ایک ضخیم البم آغا صاحب کو پیش کی اور کہا کہ’ اس البم میں پاکستان کے سول و ملٹری بیورو کریٹوں، سیاستدانوں اور سرمایہ داروں کی زندگی کے مخفی گوشے تصویری زبان میں حقیقتِ حال بیان کر رہے ہیں‘۔ آغا صاحب نے رانی کو اپنے ہاں ایک رات ٹھہرنے کی اجازت دے دی۔ یہ رات رانی نے آغا شورش کاشمیری کے گھر کے عقب میں بھینس کیلئے بنے ایک چھپر کے نیچے گزاری۔۔۔ فائیو سٹارہوٹلوں، صدارتی محلات اور وزارتی ایوانوں کے مخملیں اور گداز بستروں پر راتیں بسر کرنے کی عادی خاتون کیلئے یہ رات یقیناً قیامت کی رات تھی۔ صبح ہوتے ہی وہ چل دی۔ آغا صاحب نے اس کے دیئے ہوئے”تحفہ“ کو اس کی آنکھوں کے سامنے نذرِ آتش کر دیا۔ کہا ”اقتدار سے محروم ہونے والے لوگوں کے عیب اچھالنا بزدلوں کا کام ہے، آج تم یہ تصویریں اٹھائے پھر رہی ہو، کل تم ان لوگوں کے نگارخانہ عیش کی رونق تھیں۔ 
جنرل یحییٰ خان اپنے حواس میں ہوتے معاملات بڑی آسانی سے سنبھال سکتے تھے۔ان کے کرائے انتخابات کو آج تک غیر جانبداری اور شفافیت کی مثال قرار دیا جاتا ہے۔ ان انتخابات کے نتائج کے مطابق اقتدار منتقل کر دیا جانا چاہئے تھا۔ مجیب کے جوبھی نکات تھے‘ ان میں پاکستان کا وجود موجودتھا۔ بنگالی تحفظات اور محرومیوں کا واویلا کرتے تھے۔ اقتدار ان کو مل جاتا تو تحفظات اور محرومیوں کا شکوہ دور ہو جاتا۔ یحییٰ خان کے اقتدار سے چمٹے رہنے کی خواہش پاکستان کو برباد کر گئی۔ تمام اختیارات ان کی ذات واحد میں مرتکز تھے۔ انہوں نے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کیا اور بھٹو کے ٹانگیں توڑنے کی دھمکی پر منسوخ کر دیا۔ اس موقع پرطاقتور صدر یحییٰ خان بھٹو کو قابو کرتے،بھٹو کی طرف سے صدر برقرار کھنے کے جھانسے میں آکر یحییٰ نے بے اصولی کرتے ہوئے بڑی اکثریت سے جیتی ہوئی پارٹی کوبرانگیختہ کردیا،اس کیلئے بھی حب الوطنی پر ذاتی مفادات غالب آگئے۔یحییٰ کے تا حیات صدر رہنے کے خواب نے ان کو بدنامی کی پاتال اور ملت اسلامیہ کو سبکی کی پستی میں دھکیل دیا۔
خدا اقتدار دے اور اختیارات بے کنار دے تو خوف خدا اور اللہ کی رضا کی سوچ قوم و ملک کی ترقی و خوشحالی کا باعث بن سکتی ہے۔ہمارے ہاں فوجی ڈکٹیٹر قانون و اقتدار کا مادرپدر آزاد استعمال کرتے رہے۔ جمہوریت کے ذریعے اقتدار میں آنے والے بھی ایسی صفات سے متصف دیکھے گئے۔ جب جوابدہی کی پروا نہ ہو تو آمریت کا سودا دماغ میں سمانے لگتا ہے۔ چنانچہ کنٹرول ضروری ہے۔ جمہوریت میں بھی‘ اسے کنٹرولڈ ڈیموکریسی کہا جا سکتا ہے۔ اس وقت تک جب تک جمہوریت اپنی روح کے مطابق رائج نہیں ہو جاتی۔
عصردوراں کی طرح‘ میاں نوازشریف تیسری بار وزیراعظم بنے‘ طاقتور وزیراعظم‘ اقتدار و اختیارات بے کنار اور خواہشات بھی بے شمار، حلف سے پہلے ہی پاکستان بھارت سرحد ایک بے مقصد لکیرنظر آنے لگی۔ مودی سے یاری اور انڈیا میں کاروباری تذکرے ہونے لگے۔ کلبھوشن کی گرفتاری پر خاموشی، دشمنی سے جو مقاصد حاصل نہ کر سکے وہ بھارت کے ساتھ دوستی سے حاصل کرنے کی مہم، بھاری مینڈیٹ کے حامل نوازشریف کو جلیل القدر منصب سے جیل لے گئی۔ یہ سب چیک اینڈ بینس نہ ہونے کی وجہ سے ہوا۔ یحییٰ خان پر چیک اینڈ بیلنس ہوتا تو وہ بھی پٹڑی سے نہ اترتا۔ شراب میں خود ڈوبتا نہ ملک کو ڈبو دیتا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

متعلقہ خبریں