’’ اسرائیل کو تسلیم کرلینا چاہیئے‘‘ پرویز مشرف کے مشورے پر حکومت بھی میدان میں آگئی۔۔۔۔ پاکستانیوں کو سرپرائز دینے والا فیصلہ کر لیا

2019 ,فروری 25



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کے حوالے سے پاکستان کی تسلسل کیساتھ چلی آنیوالی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے، حکومت خارجہ پالیسی پر ایوان میں بحث کیلئے تیار ہے،پاک چین اقتصادی راہداری بارے کی جانیوالی بات میں کوئی حقیقت نہیں ہے، سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کا پانی محفوظ ہے، بھارت پاکستان کا پانی نہیں روک سکتا،بھارتی وزیر کے بیانات سستی شہرت کے حصول کے لئے ہیں، مہمند ڈیم کے ٹینڈر میں 18 ارب روپے کی بچت کی ہے، اس میں سے 16 ارب روپے بلوچستان میں نولنگ ڈیم کی تعمیر پر خرچ ہوں گے،جبکہ اپوزیشن اراکین قومی اسمبلی نے کہا ہے کہ آئینی اداروں کا احترام ہونا چاہئے، ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے سے گریز کیا جائے، اس سے ہمیں عزت نہیں ملے گی،سپیکر سندھ اسمبلی اور خاندان کیساتھ جو کچھ ہوا وہ افسوسناک ہے، اس پر کوئی بھی پارلیمنٹرین خوش نہیں ہو سکتا،ہم بلا امتیاز احتساب چاہتے ہیں ،درخواست کے باوجود خارجہ پالیسی پر ایوان کو آگاہ نہیں کیا گیا ،ہندوستان کے پاکستان کیساتھ رویئے کو پوری قوم مسترد کرتی ہے، جارحیت کی صورت میں پوری قوم دفاعی اداروں کیساتھ ہوگی، ہمیں دفاعی اداروں کی صلاحیت پر اعتماد ہے،سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان مفاہمت کی جن دستاویزات پر دستخط ہوئے ہیں وہ خوش آئند ہیں ۔پیر کو قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا ۔ اجلاس میں نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ محمد آصف نے کہا کہ ہم سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، علیم خان گرفتار ہوئے ان کا پروڈکشن آرڈر جاری ہوا، مشرف کے دور میں جاوید ہاشمی کا پروڈکشن آرڈر جاری ہوتا رہا،حامد سعید کاظمی کے پروڈکشن آرڈر جاری ہوتے رہے لیکن سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر پر اس روایت کی پیروی نہیں کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری درخواست ہے کہ اس پر رولنگ دی جائے جس پر سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ میں نے مختلف اوقات میں اس پر بات کی ہے، میں فائل دیکھوں گا اور رولز کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ میں اس پر قانونی رائے لونگا ۔خواجہ آصف نے کہا کہ آپ ایوان کے کسٹوڈین ہیں، آپ خود قانون بناتے ہیں۔ سپیکر اسد قیصر نے کہا کہ میں آپ کو مایوس نہیں کریں گے۔خواجہ آصف نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ نے کامران مائیکل کا پروڈکشن آرڈر جاری کیا ہے جس پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یہ سپیکر کا حق ہے، بہتر ہوتا کہ یہ معاملہ آپ کے چیمبر میں اٹھاتے۔منور علی تالپور نے کہا کہ آغا سراج درانی کو جس طریقے سے گرفتار کیا گیا ہے وہ افسوسناک ہے، انہیں نہ صرف گرفتار کیا جاتا ہے بلکہ کہا جاتا ہے کہ ہم نے سندھ میں اس لئے گرفتار نہیں کیا کیونکہ ان کے پاس سپاہی ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے خلاف بھی ریفرنسز ہوئے ہیں اور اس کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں چاہتے۔ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ میں بار بار کہہ رہی ہوں میرا منہ مت کھلوائیں، ان لوگوں کی حیثیت مجھ سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے دادا قاضی عبدالقیوم اپنے زمانے میں حیدر آباد کے میئر تھے، میرے انکل قاضی اکبر کو (قائداعظم) نے بلایا تھاانہوں نے کہا کہ یہ کیا جانتے ہیں کہ کسی کے خاندان کی عزت کیا ہوتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ قائداعظمؒ نے انہیں کہا تھا کہ سندھ آپ جیت سکتے ہیں اور انہوں نے 1946ء میں جی ایم سید کو شکست دی، میرے والد قاضی عبدالمجید عابد نے علی احمد تالپور کو شکست دی تھی جو وزیر دفاع تھے، جسٹس ظفر حسن مرزا سپریم کورٹ کے جج رہے ہیں، آج بھی ان کے فیصلے سراہے جا رہے ہیں، خاندانی لوگوں کی حیثیت ہے میں جانتی ہوں،یہ ایوان ان باتوں کیلئے نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ پر جو حملہ ہوا سارے چینلز نے دکھایا، خود سندھ ہائی کورٹ نے اس کا نوٹس لیا۔ ان لوگوں نے میرے گھر پر حملے کئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ فریال تالپور کے گھر سے ہدایات جاری ہوتی تھیں۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے خلاف انسداد دہشت گردی سمیت 32 کیسز بنائے گئے، یہ شروعات ان لوگوں نے کی ہے۔ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کی تقریر کے دوران منور تالپور اور پی پی پی کی خواتین اراکین احتجاجاً سپیکر ڈائس کے سامنے جمع ہوئیں اور احتجاج کیا جس پر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا کہ اگر مجھے بات نہیں کرنے دی گئی تو وہ بھی کسی کو بولنے نہیں دیں گی۔میں نے بہت تمیز سے بات کی ہے، مجھ پر 28 کروڑ قرضہ معافی کا جو الزام لگایا گیا ہے وہ غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کوئی قرضہ نہیں لیا اور نہ ہی معاف کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ان کی طرح سندھ اور سمٹ بینک کو لوٹ کر نہیں کھایا میں ان کو چیلنج کرتی ہوں کہ وہ اپنے الزامات ثابت کریں۔مولانا اسد محمود نے خارجہ پالیسی پر ایوان کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم یہاں قوم کی نمائندگی کرنے آئے ہیں، ہمیں اس حق سے محروم نہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے وزیر خارجہ سے پہلے بھی درخواست کی تھی کہ خارجہ پالیسی پر قوم کو اعتماد میں لیا جائے، دو مکمل سیشن ہوئے ہیں لیکن خارجہ پالیسی کے بارے میں ایوان کو آگاہ نہیں کیا گیا۔ مولانا اسد محمود نے کہا کہ اس وقت پڑوسی ممالک پاکستان پر الزامات عائد کر رہے ہیں، ہندوستان کا پاکستان کے ساتھ جو رویہ ہے پوری پاکستانی قوم اس کو مسترد کرتی ہے، جارحیت کی صورت میں پوری قوم دفاعی اداروں کے ساتھ ہوگی۔ہمیں دفاعی اداروں کی صلاحیت پر اعتماد ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کی حمایت کی ہے۔سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان مفاہمت کی جن دستاویزات پر دستخط ہوئے ہیں وہ خوش آئند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی کے سپیکر اور ان کے خاندان کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا گیا اس پر تمام سیاسی جماعتوں اور قوتوں کو تشویش ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم بلا امتیاز احتساب چاہتے ہیں۔ متحدہ مجلس عمل کے پارلیمانی لیڈر مولانا اسد محمود کے اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت خارجہ پالیسی پر ایوان میں بحث کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ

پاک چین اقتصادی راہداری کے حوالے سے جو بات کی گئی ہے اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی حال ہی میں جے سی سی کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کر کے آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے حوالے سے پاکستان کی تسلسل کے ساتھ پالیسی چلی آ رہی ہے۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ میر منور تالپور نے سندھ اسمبلی کے سپیکر کے حوالے سے بات کی، پورے ایوان نے ان کی بات کو سنجیدگی سے سنا، فاضل رکن نے ایک اور فاضل ممبر کی ذات اور خاندان سے منسلک معاملے پر بات کی ہے، اس فاضل رکن کو وضاحت کی اجازت ہونی چاہئے، پیپلز پارٹی نے اس پر احتجاج کیا ہے میری گزارش ہے کہ ایوان میں ایک دوسرے کی بات سننی چاہئے اور پارلیمانی انداز میں معاملات کو آگے لے جانے کی ضرورت ہے، اگر ایسا نہیں کریں گے تو ایوان نہیں چل سکے گا۔سید نوید قمر نے کہا ہے کہ آئینی اداروں کا احترام ہونا چاہئے، ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے سے گریز کیا جائے، اس سے ہمیں عزت نہیں ملے گی۔انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی کے سپیکر اور خاندان کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ افسوسناک ہے۔ اس پر کوئی بھی پارلیمنٹرین خوش نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہاکہ سندھ اسمبلی کے سپیکر اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ جو کچھ کیا گیا وہ قابل قبول نہیں ہے۔سید نوید قمر نے کہا کہ احتساب ہونا چاہئے، کسی نے احتساب بند ہونے کا مطالبہ نہیں کیا، ہم انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئینی عہدوں کا احترام ہونا چاہئے، جب ہم جمہوریت پر حملے کی بات کرتے ہیں تو یہ پارلیمان جمہوریت کا سب سے بڑا ادارہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت قومی اداروں کے ساتھ جو کچھ کیا جا رہا ہے اس کا مطلب یہی ہے کہ جمہوریت کوئی معنی نہیں رکھتی۔انہوں نے کہا کہ انکوائری کے مرحلے پر گرفتاریوں کے اقدام سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ سب کسی کے ایماء پر ہو رہا ہے۔اسامہ قادری نے کہا ہے کہ سندھ حکومت سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو ذاتی مقاصد کیلئے استعمال کر رہی ہے، سندھ میںحکومت کہیں نظر نہیں آ رہی۔ انہوں نے کہا کہ دو ماہ سے کراچی میں تشدد کا سلسلہ جاری ہے، میرے رابطہ آفس پر دہشت گردوں نے حملہ کیا جس میں شہادتیں اور بعض لوگ زخمی ہوئے۔انہوں نے کہا کہ پرسوں کراچی میں میڈیکل کی طالبہ پولیس مقابلے میں جاں بحق ہوئی۔ سندھ میں حکومت کہیں نظر نہیں آ رہی، آج کراچی میں عمارت گرنے سے ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پروڈکشن آرڈر جاری کرنا سپیکر کا اختیار ہے اور سپیکر کو اس کے استعمال کا حق حاصل ہے لیکن اس ضمن میں ان پر دبائو ڈالنا مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ 18 ویں ترمیم سندھ کے لئے زہر قاتل ہے، اس سے سندھ کے شہری حلقے تباہ حال ہیں۔انہوں نے کہا کہ نسلی تعصب کی وجہ سے 18 ویں ترمیم کا غلط استعمال کیا گیا اور صوبے نے اختیارات نیچے منتقل نہیں کئے۔وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کا پانی محفوظ ہے، بھارت پاکستان کا پانی نہیں روک سکتا، مہمند ڈیم کے ٹینڈر میں 18 ارب روپے کی بچت کی ہے، اس میں سے 16 ارب روپے بلوچستان میں نولنگ ڈیم کی تعمیر پر خرچ ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ میں آج اس ایوان کے ذریعے پوری پاکستانی قوم کو خوش خبری دینا چاہتا ہوں ۔ انہوں نے کہاکہ ملک کے اندرونی و بیرونی دشمنوں نے پوری کوشش کی کہ پاکستان میں ڈیموں کی تعمیر کو روکا جائے جب میں نے وزیراعظم عمران خان کے مشن اور وژن کے تحت اپنی وزارت کا چارج سنبھالا تو یہ عہد کیا کہ ہر صورت میں ڈیموں کی تعمیر کے کام کو آگے بڑھایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت اور واپڈا کی تکنیکی ٹیم کی مدد سے ہم نے مہمند ڈیم کے ٹینڈر میں 18 ارب روپے کی بچت کی ہے حالانکہ پیپرا کے قواعد و ضوابط کے تحت ہم لاگت میں 15 فیصد اضافہ کر سکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جو 18 ارب روپے بچائے گئے ہیں ان میں سے 16 ارب روپے بلوچستان میں نولنگ ڈیم کی تعمیر پر خرچ ہوں گے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ بھارت کے وزیر آبی وسائل نے جو بیانات دیئے ہیں وہ سستی شہرت کے حصول کے لئے ہیں۔یہ طرز عمل افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت مشرقی دریائوں کا پانی بھارت کے کنٹرول میں ہے، بھارت پاکستان کا پانی نہیں روک سکتا،پاکستان کا پانی محفوظ ہے۔اجلاس کے دوران سپیکر قومی اسمبلی نے ایم کیو ایم پاکستان کے رکن قومی اسمبلی اسامہ قادری کے بعض الفاظ کارروائی سے ہذف کر اتے ہوئے کہا کہ اسامہ قادری نے بعض ایسے الفاظ استعمال کئے ہیں جو غیر پارلیمانی ہیں اس لئے انہیں ریکارڈ سے ہذف کیا جائے۔بعد ازاں قومی اسمبلی کا اجلاس (آج) منگل کی صبح 11بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

متعلقہ خبریں