ایک عورت ہونے کے ناطے کیا آپ کا ضمیر آپ کو اس احتجاج کی اجازت دے گا۔سوچئیے گا ضرور۔

2018 ,مارچ 21

بنتِ ہوا

بنتِ ہوا

تہذیب

bintehawa727@gmail.com



*میرا جسم میری مرضی*

لیپ ٹاپ کی اسکرین پر میری نگاہ پڑی تو میں لرز کر رہ گئی ۔۔۔۔
پلے کارڈ پر لکھے الفاظ ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ الفاظ نہیں تھے دہکتے انگارے تھے ۔۔۔۔
کیا ہے یہ؟ میں نےاپنی بیٹی سے پلے کارڈز کے بارے میں پوچھا ۔ 
مما ! یہاں ہم سب احتجاج کررہے ہیں آج کی عورت مضبوط ہے وہ کسی کی غلام نہیں ہے میری بیٹی نے موم بتی والی آنٹی سے سنی ہوئی ساری تقریر مجھے سُنا ڈالی ۔۔۔
میں نے تحمل سے اپنی بیٹی کا ہاتھ تھاما اور اسے اس مجمع سے نکال کر لے آئی جو سوشل میڈیا پر جمع تھا۔
میری شہزادی ! اللہ تعالیٰ تمہیں ہر بری آفت سے بچائے شاید تمہیں نہیں معلوم یہ پلے کارڈ کوئی پلے کارڈ نہیں ہے یہ تمہاری اذیتوں کا دیباچہ ہے
اذیتوں کا دیباچہ ؟میری بیٹی نے حیرت سے میری جانب دیکھتے ہوئے پوچھا 
ہاں اذیتوں کا دیباچہ ۔۔۔۔
لیکن کیسے ؟ میری بھولی بھالی بیٹی کی آنکھیں حیرت سے پھیل چکی تھیں۔۔۔۔
میری لختِ جگر ! تمہیں لگتا ہے یہ تمہاری آزادی چاہتے ہیں نہیں میری شہزادی ! یہ تمہاری آزادی نہیں چاہتے یہ بس تم تک پہنچنے کی آزادی چاہتے ہیں پر یہ کبھی تمہیں فنکارہ کے روپ میں استیصال کریں گے ۔۔۔کبھی اینکر کے شکل میں۔۔۔۔کبھی سیلز گرل کی صورت میں کیونکہ عورت سے زیادہ سستا مزدور نہیں ملتا ۔۔۔ 
ا ن کی نجی نشستوں میں عورتوں سے متعلق گفتگو سُن لینا تمہیں اندازہ ہو جائے گا یہ عورتوں کو ایک منڈی کےمال سے زیادہ حیثیت نہیں دیتے ۔۔۔۔تم جیسی بھولی بھالی لڑکیاں آزادی کا نعرہ لگاتے لگاتے ان کی بد ترین رکھیل بنتی چلی جاتی ہے غلامی کی ایسی دلدل میں دھنستی چلی جاتی ہیں جہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہو تا ۔
لیکن مما ! یہ تو بہت مخلص نظر آتے ہیں ۔میری بیٹی نے ایک دلیل دی 
بیٹا ! جب شکاری تیتر کے شکار کے لیے جنگل میں جاتا ہے تو وہ تیتر کی آواز نکالتا ہے تیتر سمجھتاہے اس کا کوئی ساتھی ہو گا اور وہ اس کے جال میں پھنس جاتا ہے ۔۔۔۔بالکل ایسے ہی عورتوں کے یہ شکاری بھی ایسی ہی آوازیں نکالتے ہیں جو خواتین کو پر کشش معلوم ہوں ۔۔۔ 
بیٹا !
ایک ٹیچر کی مرضی کے بغیر اگر کوئی شخص علم حاصل کرنا چاہے تو وہ ناکام ہو جائے گا 
طبیب کی مرضی کے بغیر علاج کیا تو مر جائے گا ۔۔۔۔وکیل کی مرضی کے بغیر مقدمہ لڑا ہار جائے گا ۔۔۔۔ کھیل کے میدان میں اپنی مرضی چلائی ناکام ہو جائے گا ۔۔۔۔
اب خود سوچو !!!!!!جو انسان اپنے خالق کی مرضی کو پس پشت ڈال کر اپنی مرضی چلائے کامیاب ہو گا ؟
بیٹا! بازارِ حسن میں موجود عورت ’’میرا جسم میری مرضی ‘‘ کے تحت کس طرح ذلیل و رسوا ہو رہی ہیں وہ نہیں چاہتیں اس گندگی میں گرفتار رہنا ۔پوچھو بیٹا! کبھی اس عورت سے؛ وہ چاہتی ہے اپنے شوہر کو کھانا گرم کر کے دے اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ ایک اچھی اور پاکیزہ زندگی گزارے ۔۔۔۔۔
یہ روشن خیال مفکر ۔۔۔۔یہ عورتوں کی آزادی کے نقیب ۔۔۔۔۔یہ بھیڑ کی کھال میں بھیڑئیے ہیں یہ بازارِ حسن کے یہ نئے دلال ہیں ۔
اسلام نے عورت کو عزت دی یہ بھیڑئیے اب آزادی اور فیمینزم کے نام پر عورت کو نکال رہے ہیں ۔۔۔۔پوچھنا کبھی ان عورتوں سے جو گلیمر کی چکا چوند میں اپنا آپ کھو بیٹھی ہیں کیا خوش ہیں اس آزادی سے ؟
نہیں بالکل نہیں میرا بچہ بالکل بھی نہیں۔۔۔۔۔
میری شہزادی اگر تم نے اللہ و رسول ﷺ کی مرضی کے مطابق زندگی گزاری تو تم کامیاب رہو گی ۔
میرے محترم!میں آپ سے مخاطب ہوں 
ذرا غور کیجیے گا اس مجمع میں آپ کی بیٹی بھی ہو سکتی ہے جو سوشیل میڈیا پر ان تصاویر کو لائیک کررہی ہو ۔۔۔۔ان تصاویر کو شئیر کر رہی ہو ۔۔۔۔یا ان سے متاثر ہو۔۔۔ہماری بچیاں اس مجمع کا حصۃ بنا رہی ہیں لا شعوری طور پر ۔۔۔۔آؤ ہم اپنے گھروں کی بنیادیں مضبوط کر لیں

نوٹ:اگر آپ بھی اپنا کوئی کالم،فیچر یا افسانہ ہماری ویب سائٹ پر چلوانا چاہتے ہیں تو اس ای ڈی پر میل کریں۔ای میل آئی ڈی ہے۔۔۔۔

bintehawa727@gmail.com

ہم آپ کے تعاون کے شکر گزار ہوں گے۔

متعلقہ خبریں