کہانی کھل گئی : چوہدری نثار کی عمران خان سے ملاقات ۔۔۔۔ پی ٹی آئی میں شمولیت ؟ چوہدری نثار نے خود ہی تہلکہ مچا دینے والا اعلان کردیا

2019 ,فروری 25



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے چودھری نثار کا کہنا تھا کہ ن لیگ سے 35 سال کا رشتہ تھا مگر 8 بار رکن اسمبلی رہنے والے رہنما کو ٹکٹ نہیں دیا گیا تو پیچھے گنجائش باقی نہیں بچتی، غلطیاں تو ہر کسی سے ہوتی ہیں مگر میں نے کبھی اصولوں پر سمجھوتا نہیں کیا اور شائد یہی بات ن لیگ سے دراڑ کا باعث بنی کیوں کہ ن لیگ میں لوگ میرے اصولوں پر درگزر نہیں کرنا چاہتے تھے، پانامہ لیکس کوئی سازش نہیں تھی، یہ ایک انٹرنیشنل فرم نے پیپرز لیک کیے تھے جس میں بین الاقوامی سیاستدانوں کے نام بھی تھے البتہ پاکستان میں نواز شریف کے مخالفوں کے ہاتھ ایک چیز لگ گئی جس کو انہوں نے استعمال کیا۔ عالمی عدالت میں نواز شریف کے بیان کو بطور ثبوت پیش کیے جانے کے سوال پر چودھری نثار کا کہنا تھا کہ میں نے میاں صاحب کو بارہا مشورہ دیا تھا کہ بھارت سے امن کی باتیں چاہے نیک نیتی پر مبنی ہیں بعد میں پاکستان کے خلاف استعمال کی جاسکتی ہیں اور آج وہی ہوا، میاں نواز شریف کا ممبئی حملے سے متعلق بیان کسی اور تناظر میں تھا مگر بھارت نے پاکستان کے خلاف اس بیان کو استعمال کیا۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر داخلہ چودھری نثار کا مزید کہنا تھا کہ میں نے کبھی اقتدار کی سیاست نہیں کی، میں نے ن لیگ کو بنایا جس کے لیڈر نواز شریف تھے، اگر اقتدار کی حرص ہوتی تو ن لیگ کب کا چھوڑ چکا ہوتا، حق اور سچ بات کہنا وفاداری کہلاتا ہے خوشامد یا چاپلوسی وفاداری نہیں ہوتی، میں نے ہمیشہ نواز شریف کو صحیح بات کہی جو کہ ان کے مائند سیٹ تبدیل ہونے کی وجہ سے انہیں اچھی نہیں لگیں اور یہی وجہ دوری کا باعث بنی، نواز شریف پارلیمنٹ کی بالادستی ضرور چاہتے تھے مگر جب وہ اقتدار میں ہوتے ہیں تو یہ نعرہ بھول جاتے ہیں اور اس حوالے سے کچھ نہیں کرتے، ن لیگ سے دوری اور پھر پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کی جانب سے شمولیت کی دعوت اور ملاقات کی دعوت اور اس دوران معاملات پر اگر لب کشائی کروں تو تہلکہ مچ جائے گا، نواز شریف کو مشورہ دیا تھا کہ اداروں کے خلاف اس قدر جارح مہم نہ اپنائی جائے جس کا خمیازہ ن لیگ کو بھگتنا پڑے، مگر میرے مشورے کو نظر انداز کیا گیا۔ الیکشن پر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ صوبائی اسمبلی کی سیٹ کا حلف اٹھا کر قومی اسمبلی کے الیکشن میں جو کچھ ہوا اس پر مہرِ تصدیق ثبت نہیں کرنا چاہتے، یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک امیدوار جسے لوگوں نے ووٹ ڈال کر صوبائی اسمبلی کی نشست پر تو کامیاب کرایا مگر قومی اسمبلی کی نشست پر اس کے ووٹ کم پڑ گئے، مجھے ووٹ ڈالے گئے وہ الگ بات ہے کہ وہ شامل نہیں کیے گئے۔

متعلقہ خبریں