ڈیموں کی تعمیرمیں تیزی سے پیشرفت کاسال پانی:زندگی‘ تابندگی، حیات جاوداں‘ منزل کا نشاں

2019 ,جنوری 2



قدرت کاملہ نے پانی زمین کے نیچے اور آسمان کی بلندیوں پر محفوظ کر رکھا ہے۔ زمین سے پانی حاصل کرنے کے مصنوعی طریقے جبکہ آسمان سے بارش کی صورت میں پانی انسانوں‘ نباتات اور جمادات تک پہنچتاہے۔ روزاوّل سے انسان قدرتی آفات کا شکار رہا ہے۔ سیلابوں اور طوفانوں کو بھی قدرتی آفات میں شمار کیا جاتا ہے مگر جس طرح کے ہمارے ہاں سیلاب آتے یا بارشیں برستی ہیںجو بہت کچھ اپنے ساتھ بہا کر لے جاتی ہیں، ان کوبھی زحمت قرار دیا جاتا ہے مگر رحمت باراں کو ہم نے خود زحمت بنا لیا ہے۔دبئی بس جانے کے بعد پہلی بارش ہوئی تو شہر ڈوب گیا۔ بارشیں نہ ہونے کے باعث شہر کی تعمیر کے دوران نکاسی آب کا سسٹم نادانستہ صرفِ نظر ہوگیا۔ اب دبئی میں ایسا نکاسی کا سسٹم ہے کہ ہفتوں لگاتار بارش ہو تو بھی معمولات زندگی متاثر نہیں ہوتے۔ نوے کی دہائی میں لاہور بارش میں واقعتاً ڈوب گیا۔ بعدازاں اور قبل ازیں خبروں کی حد تک ہی ڈوبتا ہے۔ ویسے تو پینوراما سنٹرمیں بھی ایک مرتبہ پانی بھر گیا تھا۔ اس میں بارشوں کا نہیں‘ تہہ خانے میں مارکیٹ میں پانی کے داخلے کو روکنے کے انتظامات میں نقص ہو سکتا ہے۔ بارش میں تہہ خانے اور نشیبی علاقوں کی بستیاں ہی ڈوبتی ہیں۔ بارشیں اتنی ہلاکت خیز،زحمت اور انسان دشمن ہوں تو مینارپاکستان بھی ڈوب جائے۔ نوے کی دہائی میں لاہور اس لئے ڈوب گیاپانی کے نکاس کے نظام پر تعینات پمپ آپریٹر ، دوسرے آپریٹر کے آنے سے قبل ڈیوٹی پوری کرکے چلا گیا۔عمومی حالات میں یہ کوئی انہونی اور بڑا واقعہ نہیں تھا چند منٹ لیٹ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا مگر دوسرا آپریٹر بلا اطلاع چھٹی کر گیا۔اس کے بعد بارش کا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہوا،بادل تھے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے،سسٹم بند رہا تو شہر نے ڈوبنا ہی تھا۔ اس میں بارش کا کیا قصور؟
قدرتی آفات وہ کسی بھی صورت میں ہوں‘ آتی ہیں تو اللہ نے ان کے تدارک کی تدبیریں بھی انسان کو بتائی اور سکھائی ہیں۔ ہر بیماری کا علاج ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ انسان تدارک کے قابل ،آفات سے قبل ،آفات کے دوران یا آفات کے کٹھن تجربے سے گزر کرہوتاہے۔ یہ الگ موضوع ہے، ہم اپنے ٹریک پر آجاتے ہیں۔
نظام قدرت و فطرت میں پانی کا ایک قطرہ بھی فنا نہیں ہوتا۔ زمین پر تالابوں‘ جوہڑوں‘ ٹوبوں‘ چھپڑوں کا پانی خشک ہوکر کہاں جاتا ہے۔ بخارات بن کر فضا میں تحلیل ہو تا یا سرایت کرتا ہوا زمین میں جذب ہو جاتاہے۔ دریاﺅں‘ نہروں اور سمندر کے پانی پر بھی یہی قوانین لا گو ہو تے ہیں۔ ابھی تک بخارات بن کر اڑ جانے والے پانی پر کنٹرول حاصل کرنے میں انسان کامیاب نہیں ہوسکا تاہم زیرزمین پانی کی سطح ضرور برقراررکھی جا سکتی ہے۔
ہمارے سامنے اعدادوشمار آتے ہیں کہ قیام پاکستان کے وقت فی کس پانی جتنا دستیاب تھااب وہ تشویشناک حد تک کم ہو گیا ہے مگر اتنا کم نہیں ہوا جتنا عموماً کہا جاتا ہے۔ اُس وقت اِس پاکستان کی آبادی 4کروڑ تھی، اب 22 کروڑ ہے۔ بہرحال پانی کی پہلے جیسی بہتات نہیں ہے۔ پانی کے استعمال میں ہم زیادہ ہی فضول خرچ ہیں۔ اپنے بجٹ کاحساب رکھتے ہیں۔ ہفتے یا مہینے بھر کی ضروریات کا اہتمام کرتے ہیں۔ آٹا‘ گھی‘ چاول‘ چینی‘ مرچ‘ مسالے اور بہت کچھ ‘ ان کا تخمینہ لگایا جاتا ہے مگر پانی کے بارے میں ہم محتاط یا حساس نہیں۔ بڑے لوگ منرل‘ متوسط فلٹر کے پانی کا شاید کچھ حساب رکھ لیتے ہیں۔ پانی صرف پینے ہی نہیں‘ نہانے دھونے‘ واش روم‘ باغبانی و کچن گارڈن میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ یہ پانی کارپوریشن یا پمپوں کے ذریعے زمین سے نکالا جاتا ہے۔ ایسے علاقے بھی ہیں جہاں نہروں اور ٹوبوں کا پانی پینے پر بھی خلق خدا مجبور اور مختلف الانواع بیماریوں میں مبتلا ہے۔ چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثارنے وزیراعلیٰ سندھ کے ساتھ تھر کے ہسپتال اور سکول کا دورہ کیا۔ انہوں نے وہی پانی پیا جو وہاں کے لوگ پیتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ پانی پی کر ان کی پورا دن طبیعت خراب رہی جبکہ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے یہ پانی پیا ہی نہیں۔ جن لوگوں کے پاس اس پانی کے پینے کے سوا کوئی چارہ نہیں‘ وہ کس طرح زندگی گزارتے ہیں؟
موجودہ حالات میں ممکنہ حد تک پانی کو بچانے اور اسے محفوظ بنانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں جدید خطوط پر تعمیر شدہ رہائشی سوسائٹیز ہیں۔ ان میں کینٹ‘ ڈی ایچ اے‘ بحریہ ٹاﺅن ماڈل ٹاﺅن اور دیگر بہت سے پوش علاقے شامل ہیں۔ اب تو زمین پر سیٹلائٹ ٹاون بھی بن گئے ہیںایسی سوسائٹیوں میں گھروں کو پانی کی فراہمی بڑے پمپ لگا کر اورفلک بوس ٹینکیاں بنا کر کی جاتی ہے۔یہ پانی نہروں دریاﺅں سے آتا ہے زمین سے نکالا جاتا ہے۔ ہم پانی کا حساب کتاب نہیں رکھتے۔ شاید ہی کسی ٹاﺅن اور سوسائٹی میں یہ سسٹم ہو جس کے ذریعے سے پتہ چلے کہ سال میں پانی کی سطح کتنی نیچے چلی گئی ہے؟۔ اسے برقرار رکھنے کی کہیں کوئی سوچ موجود ہے؟ زیرزمین پانی کی سطح نیچے سے نیچے جاتی چلی جائے گی۔ایک دن ایسا آئیگا کہ پانی اوپر لانا ناممکن ہوگا اور پھر۔۔۔انسان خوراک کے بغیر کچھ عرصہ زندہ رہ سکتا ہے پانی کے بغیر نہیں۔ آپ گھروں یا ٹاﺅنز اور سوسائٹیوں میں پمپ لگاتے ہیں۔ اس پر خرچہ‘ پانی اوپر لے جاتے ہیں‘ اس پر خرچہ‘ بجلی کا خرچہ‘ گھروں تک پہنچانے کا خرچہ‘پائپ لگانے کا خرچہ، قدم قدم پراور ہر لمحہ خرچ۔ یہ خرچہ آپ کاہے، حکومت یا سوسائٹی کاہے ‘ یہ خرچہ تو ہے ناں! ہونا کیا چاہئے؟ مثلاًایک شخص کو 30 گیلن پانی کی ضرورت ہے۔ پانچ افراد کیلئے 150گیلن لگالیں۔ اس گھر کی ضرورت زیادہ سے زیادہ 200 ہو سکتی ہے۔ اسے تین سو کیا جا سکتا ہے۔ میٹرزکے ذریعے گھروں میں اتنا ہی پانی دیا جائے مگر ہمارے ہاں چونکہ گھروں میں پمپ لگے ہیں‘ سوسائٹیز میں کوئی حساب کتاب نہیںپانی زیادہ استعمال کرنے پر بل تھوڑا زیادہ آجاتاہے جس کی کئی لوگوں کو پروا نہیں ہوتی مگر بات پیسے کی نہیں نسلوں اورانسانیت کی بقا کی ہے۔ ضرورت سے تین چار گنا اور شاید اس سے بھی زیادہ پانی ضائع کر دیا جاتا ہے۔ اگر کسی گھر میں پانچ سو گیلن کی ضرورت ہے جو اس سے زیادہ استعمال کرے‘ اسے فی لٹر بھاری جرمانہ کیا جائے تو شاید ہم پانی بھی اسی طرح استعمال کریں جس طرح دیگر اشیاءضرورت کے مطابق استعمال کرتے ہیں۔ کیاکوئی بلا ضرورت پنکھا اور اے سی چلاتا ہے؟ پانی کے ساتھ ہی ظالمانہ سلوک کیوں؟ 
زمین کو ری چارج کرنے کیلئے نہروں‘ دریاﺅں میں پانی کے مسلسل بہاﺅ کی ضرورت ہے۔ دیہات میں کبھی چھپڑ ہوا کرتے تھے جو اب ناپید ہیں۔ یہ گندے پانی اور گندگی سمیٹنے کیلئے نہیں زیرزمین پانی کے ری چارج کیلئے تھے۔ دیہات میں موزوںسیوریج سسٹم نہیں‘ جو زمین صاف پانی سے ری چارج ہوتی تھی‘ وہ خودساختہ گٹروں اور غرقیوںسے ہورہی ہے اور پھر یہی گندا پانی پینے کے استعمال میں آتا ہے۔ دیہات میں بلا تاخیرمعیاری سیوریج سسٹم بیماریوں کے تدارک کیلئے ناگزیر ہے۔
ہمارے ہاں ڈیموں کی افادیت کے احساس اور ادراک کے باوجود ان کی تعمیر حوصلہ شکن اور مایوس کن رہی ہے۔ کالاباغ ڈیم کو سیاست کی نذر کر دیا گیا جبکہ دیگر ڈیمز کی تعمیر ہماری حکومتوں کی ترجیح میں شامل نہیں رہی۔ ڈیم بنیں گے‘ دریا اور نہریں بہتی رہیں گی تو انسان نباتات اور جمادات استفادہ کرتے رہیں گے اور یہ ذرائع زمین میں پانی کی ری چارجنگ کیلئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ڈیموں کی تعمیرکے حوالے سے سال 2018ءحوصلہ افزا رہا۔ اس سال ڈیموں کی تیزی سے تعمیر کی شروعات ہوئی ہیں۔اس کا کریڈٹ چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کو جاتا ہے۔سال 2018ءکے دوران انہوں نے پینے کے پانی کے حوالے سے نوٹس لیا۔وہ شہریوں کو صاف پانی کی دستیابی کے لئے اس قدر پُر عزم تھے کہ جسٹس ارشاد حسن خان نے انہیں کہا کہ ایک بہت بڑا پراجیکٹ خطیر رقم کا متقاضی ہے،یہ رقم کہاں سے آئے گی،اس پر میاں ثاقب نثار نے کہا تھا کہ وہ ان شاءاللہ اسے ممکن بناکر دکھائیں گے خواہ ان کو چندہ اکٹھا کرنا پڑے ۔جسٹس صاحب کالا باغ ڈیم کی تعمیر کےلئے بھی پُر عزم نظر آئے ۔مگر اس پر مخالفین کی طرف سے سیاپا اور پٹوکا شروع ہوگیا،کالاباغ کے روایتی حریفوں نے آسمان سر اُٹھا لیا۔یہاں تک کہ چیف جسٹس کو بھی متفق ہونا پڑامگر غیر متنازعہ ڈیموں کی تعمیر کیلئے انہوں نے جدوجہد کا آغاز کیا،اس پر بھی سیاسی مخالفت ہوئی تو چیف جسٹس کی طرف سے کہا گیا ڈیموں کی مخالفت پر آرٹیکل 6لگائیں گے۔اس کے بعد مخالفین ڈیم ذرا دُبک گئے۔مگر کالا باغ ڈیم کے کچھ بد خواہ چیلنج کرتے رہے۔کالا باغ ڈیم تعمیر کی کوئی مناسب سبیل نظر نہیں آرہی تھی، چوٹی کوئی طاقتور حکمران ہی سر کرسکتا ہے،فوجی حکمرانوں کو عموماًکچھ بھی کر گزرنے پر قادر سمجھا جاتا ہے،جنرل مشرف اپنے دور کے آخرمیں کالاباغ ڈیم کی تعمیرکیلئے عہد کرتے نظر آئے مگر اپنے حلیف سیاستدانوں کے ”اتفاق رائے“ کے چکر میں آگئے۔اب چیف جسٹس نے آرٹیکل چھ کا راستہ دکھا دیا ہے۔شاید اس کے سوا اب کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ 
کالا باغ تو جب تعمیر ہوگا تب ہوگا تاہم چیف جسٹس ثاقب نثار نے فوری طور پربھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کی فوری تعمیر شروع کرنیکافیصلہ سناتے ہوئے فنڈ قائم کردیا۔سب سے پہلے اس میں خود دس لاکھ روپے جمع کرائے اور قوم و بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں سے دل کھول کر حصہ ڈالنے کی اپیل کی انہوں نے چندے یا فنڈ کیلئے برطانیہ کا دورہ بھی کیا، اس کاز کی وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھر پور حمایت کی۔بھاشا اور مہمند میں سے پہلے بھاشا ڈیم کی تعمیر کی شروعات کا فیصلہ کیا گیا اس کیلئے دو ہزار ارب روپے کے قریب ضرورت ہے،بعض لوگوں کے اس سے کہیں زیادہ کے اثاثے ہیں،یہ رقم بڑی آسانی سے جمع ہوسکتی تھی مگر چیف جسٹس کے فیصلوں سے متاثرہونے والوں کے جارحانہ شدید مخالفانہ رویوں اور عمران خان کے مخالف سیاستدانوں کی شدید مخالفت ،خود فنڈ سے انکار اور ساتھیوں کو منع کرنے کے باعث رقم اکٹھی ہونیکا کا سلسلہ دھیما پڑ گیا۔مگر ان ڈیمز کی تعمیر کیلئے کسی بھی حد تک جانیوالوں کے عزم میں کوئی فرق نہیں آیا۔بات نسلوں کی ہے،ڈیموں کی تعمیر کیلئے کردار ادا کرنے اور مخالفت کرنیوالوں کی نسلیں مستقبل میں اپنے اپنے بزرگوں کے مو¿قف کا کس طرح جواز پیش کریں گی۔کل کون میر جعفر اور میرصادق کی صف میں کھڑا ہوتا ہے،اس کا تاریخ جو فیصلہ کرے گی اس کا آج سب کو ادراک ہے مگر وقتی مفادات سے کچھ لوگ دستکش ہونے پر تیار نہیں۔
بھاشا اور مہمند کے علاوہ حکومت نے مزید چھوٹے 5 ڈیم: چنیوٹ ڈیم، سیوک ڈیم ، کھوڑی ڈیم، ڈھڈیال ڈیم، سکردو ڈیم بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔2018ءکو بجا طور پر ڈیموں کی تعمیر کی تیزی سے شروعات میں پیشرفت کا سال قرار دیا جا سکتا ہے۔ ڈیموں کے حوالے سے مجموعی طور پر یہ بھی ایک بہتر پیشرفت ہے کہ گزشتہ عشرہ میں واپڈا کے ذریعے پانی ذخیرہ کرنے کے لئے منگلا ڈیم ریزنگ گومل زام ڈیم، ست پارہ ڈیم اور دراوٹ ڈیم مکمل کئے گئے۔اس وقت پاکستان میں تین بڑے ڈیم زیرِ تعمیر ہیں۔1۔داسو ڈیم: یہ کالاباغ ڈیم سے بھی بڑا ہے ۔ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت تقریبا دُگنی اور بجلی بنانے کی بھی زیادہ ہے۔ تکمیل کے بعد داسو ڈیم پاکستان کا سب سے بڑا ڈیم بن جائے گا مقابلتاً داسو منگلا اور تربیلا ڈیم سے بھی بڑا ڈیم ہے۔یہ ڈیم خیبر پختونخواہ کے ضلع کوہستان میں دریائے سندھ پر واقع ہے۔یہ 2023 ءمیں مکمل ہو گا۔داسو ڈیم میں ایک کروڑ 14 لاکھ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کیا جا سکے گا اور 4320 میگاواٹ بجلی پیدا ہو گی۔2کرم تنگی ڈیم میں 9 لاکھ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہے، یہ ڈیم 84 میگا واٹ بجلی پیدا کرے گا۔یہ ڈیم اپریل2019 میں مکمل ہو جائے گا۔3نیلم جہلم ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش برائے نام ہے۔ اس سے 970 میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی۔ یہ منصوبہ اسی سال مکمل ہو جائے گا۔کالا باغ ڈیم کی انفرادیت اور اس کا محل وقوع سب ڈیموں پر اس کی افادیت کو دو چند کرتا ہے۔یہ اپنے اندر سیلابوں کے پانی کو سمیٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے جس سے اسکے آگے کے کراچی ساحل سمندر تک کے علاقے سیلابوں کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہیں گے،یہ پانی فصلوں اور انسانوں و جانوروں کے پینے کے کام بھی آسکے گا۔سیلاب سے زمینی پانی کے ری چارج ہونے میں بھی شک نہیں ۔تیزی سے گزرتے سیلاب کے پانی سے ایک حد تک ہی زمین ری چارج ہوسکتی ہے جبکہ دریاﺅں اور نہروں میں پانی کے مسلسل بہاﺅ سے زمین متواتر مسلسل اور لگاتار چارج ہوتی رہے گی۔ 

متعلقہ خبریں