وزیراعظم عمران خان نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شہبازشریف کو ٹوک دیا

2019 ,اگست 6



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے شہبازشریف کو عمران خان نیازی کہنے پر ٹوک دیا۔ انہوں نے کہا کہ میرا نام عمران احمد خان نیازی ہے، بہتر ہے پورا نام لیا جائے، جس پر شہبازشریف نے کہا کہ آئندہ میں کوشش کروں گا اور عمران احمد خان نیازی کہا کروں گا۔تفصیلات کے مطابق کشمیر ایشو پرآج پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے ایوان سے خطاب کیا پھر اپوزیشن لیڈر نے اپنے خطاب میں عمران خان کو عمران خان نیازی مخاطب کرتے رہے۔ عمران خان نیازی کے نام سے پکارنے پر وزیراعظم نے شہبازشریف کو ٹوک دیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میرا نام عمران احمد خان نیازی ہے۔بہتر ہے پورا نام لیا جائے۔ جس پرشہبازشریف نے کہا کہ آئندہ میں کوشش کروں گا اور عمران احمد خان نیازی کہا کروں گا۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے آج قومی اسمبلی کشمیر ایشو پر پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ حکومت انٹرنیشنل کریمنل کورٹ میں جانے کا جائزہ لے رہی ہے، حکومت کشمیر کا مقدمہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل،جنرل اسمبلی سمیت پرفورم پراٹھائے گی،میں مغرب کو جانتا ہوں انہیں حقیقت کا معلوم نہیں ہے کہ کشمیریوں کے ساتھ کیا ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں آرایس ایس نظریے کے مطابق کیا۔ ہندوؤں نے تمام قوانین کو اپنی نظریے کی خاطر پس پشت ڈال دیا،قانون کو پاس کیا اور کشمیر کی حیثیت تبدیل کردی۔کیا آج کشمیری یہ سمجھ لیں گے؟ ہم غلام ہوگئے، کیا وہ بھارتی قانون کے سامنے سرنڈر کرجائیں گے؟ بلکہ یہ بہت خطرناک مسئلہ بن گیا ہے۔اپنے نظیرے کے مطابق انہوں نے کشمیریوں کو اور دبائیں گے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بھارت کشمیریوں کو دبائے گا، جب کشمیریوں کو کچلا جائے گا تومیں پیشگوئی کرتا ہوں کہ کشمیر میں پلوامہ جیسے واقعات کروائے جائیں گے، جن کا الزام پاکستان پر لگایا جائے گا،انہوں نے پھر ایکشن لینا ہے، اور ہم جواب دیں گے۔مزید جنگ آگے جائے گی۔اگر جنگ ہوئی توہمارے پاس دوراستے ہوں گے،ایک راستہ ٹیپوسلطان اور دوسرابہادرشاہ ظفروالا ہوگا،یہ ہونہیں سکتا کہ بھارت ہم پرحملہ کرے اور ہم جواب نہیں دیں گے۔اگر ہماری آخری قطرے تک لڑیں گے، تووہ جنگ کوئی نہیں جیت سکتا، اس کے اثرات دنیا پر پڑیں گے۔اگر دنیا اپنے بنائے ہوئے قوانین کو اپلائی نہیں کرے گی، توپھر ہم ذمہ دار نہیں ہوں گے، یہ جنگ پھر اس طرف جائے گی، جو پوری دنیا کو نقصان پہنچائے گی۔انہوں نے کہا کہ میں یقین دلاتا ہوں ، حکومت ہر فورم پر مسئلہ اٹھائے گی، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کیس لڑیں گے، ہم سٹڈی کررہے ہیں کہ سلامتی کونسل کے ذریعے انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کیسے جاسکیں گے،جنرل اسمبلی میں اور سربراہان مملکت سے بات کریں گے۔میں مغرب کو جانتا ہوں انہیں حقیقت کا معلوم نہیں ہے کہ کشمیریوں کے ساتھ کیا ہورہا ہے۔ہم مغرب میں کیس کو اٹھائیں گے۔اسی طرح اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہبازشریف نے کہا کہ حکومت مودی کو کرارا جواب دے، اپوزیشن بھرپور ساتھ دے گی۔ ہمارے پاس دوآپشنزہیں،ڈٹ جائیں یا جھک جائیں۔ لیکن کشمیر کیلئے ہمیں ڈٹنا ہوگا۔ مودی نے کشمیریوں کے حقوق نہیں چھینے، بلکہ پاکستان کی غیرت کو للکارا اور اقوام متحدہ، سلامتی کونسل کے منہ پر تھپڑ رسید کیا ہے۔

متعلقہ خبریں