’’بس بہت ہو گیا اب۔۔۔۔۔۔‘‘وزیراعظم نے مقبوضہ کشمیر کی حالیہ صورتحال پر ٹھوس قدم اٹھا لیا

2019 ,اگست 6



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق حالیہ صورتحال پر ردعمل ترتیب دینے کیلئے 7 رکنی کمیٹی بنادی۔وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی تشویشناک صورتحال کے پیش نظر مجوزہ ردعمل ترتیب دینے، سیاسی، سفارتی، قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے اور تجاویز مرتب کرنے کیلئے 7 رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ حکومت نے کمیٹی کی تشکیل کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے جس کے مطابق کمیٹی میں وزیرخارجہ، اٹارنی جنرل آف پاکستان، سیکرٹری خارجہ، ڈائریکٹر جنرل انٹرسروسز انٹیلی جنس (ڈی جی آئی ایس آئی)، ڈی جی ملٹری آپریشنز، ڈی جی انٹرسروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) اور وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی احمر بلال صوفی شامل ہوں گے۔ یاد رہے کہ بھارتی حکومت کی جانب سے صدارتی حکم نامے کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کے خصوصی اختیارات سے متعلق آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے احکامات جاری کیے گئے جس کے تحت مقبوضہ کشمیر اب ریاست نہیں کہلائے گی اور لداخ بھی بھارتی یونین کا حصہ ہوگا۔خیال رہے کہ مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی اقدام کو پاکستان نے مسترد کردیا ہے، اس صورتحال میں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بھی جاری ہے۔دوسری جانب اس معاملے پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت کور کمانڈرز کانفرنس بھی ہوئی جس میں شرکاء نے بھارتی اقدامات مسترد کرنے کے حکومتی فیصلے کی بھرپور تائید کی اور مسئلہ کشمیر پر بھارتی اقدامات مسترد کرنے کے حکومتی اقدامات کی مکمل حمایت کی گئی۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق تجزیہ کار حسن نثار نے کہاہے کہ ٹر مپ نے کشمیر پر ثالثی بات کرکے کوئی شگوفہ نہیں چھوڑ اتھا ، اس نے جو بھی بات کی ہے وہ ایک نپی تلی بات ہے، وہ ایک عالمی طاقت کا سربراہ ہے ۔حسن نثار نے کہا کہ ٹرمپ نے کشمیر پر ثالثی بات کرکے کوئی شگوفہ نہیں چھوڑ اتھا ، اس نے جو بھی بات کی ہے وہ ایک نپی تلی بات ہے ۔ وہ ایک عالمی طاقت کا سربراہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت دنیا پر سفارتی چڑھائی کی ضرورت ہے ،اس بات کا انحصار ہماری سنجیدگی پر ہوگا اور سب سے بڑھ کر ہمارے اتحاد پر ہوگا ۔حسن نثار کا کہنا تھا کہ میں نے شہباز شریف کی تقریر سنی ہے جوانتہائی مایوس کن تھی ، اس وقت بدنصیبی کی انتہا ہے کہ تاریخ کے کس نازک موڑ پر کون بول رہاہے اور کس قسم کی جگتیں مارہاہے ؟ انہوں نے کہا کہ یہ عجیب و غریب بات ہے ۔

متعلقہ خبریں