دہشتگرد کہلانے والے صوفی محمد کو آزاد کردیا گیا، آزاد ہوتے ہی کہاں جا پہنچے؟ انتہائی حیران کن خبرآگئی

2018 ,جنوری 16



پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک): کالعدم ’تحریک نفاذ شریعت محمدی‘ کے سربراہ مولانا صوفی محمد کو جیل سے رہا کردیا گیا، رہا ہوتے ہی ان کے رشتہ داروں نے انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کردیا، چند روز قبل پشاور ہائی کورٹ نے 2 مقدمات میں مولانا صوفی محمد کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا تھا۔جیل سے رہائی کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات تھے جبکہ مولانا صوفی محمد کی طبیعت کافی خراب دکھائی دی۔
گزشتہ ہفتے پشاور ہائیکورٹ نے صوفی محمد کی حکومت کیخلاف بغاوت اور پولیس تھانے پر حملے کے دومقدمات میں ضمانت کی درخواست پر سماعت کی تھی اور سات لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض رہائی کا حکم دیاتھا۔ وہ 2009ءسے پابند سلاسل تھے ۔ دوران سماعت صوفی محمد کی طرف سے موقف اپنایاگیا ک ان کی طبیعت ناساز ہے اور ہرآئے دن صحت مزید خراب ہورہی ہے ، اس لیے رہائی مل جانی چاہیے ۔ 
 ضابطے کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد پولیس اہلکاروں کے گھیرے میں صوفی محمد کو عمارت سے باہر لایاگیا، اورپھر رشتہ داروں نے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔ 
یادرہے کہ 30جولائی 2009ءکو سوات پولیس نے اس تقریر کی بنیاد پر صوفی محمد کو حراست میں لیا جس میں انہوں نے آئین کو غیراسلامی قراردیتے ہوئے شریعت کے نفاظ کا مطالبہ کیاتھااور تب سے حراست میں ہیں ، ان کیخلاف کئی مقدمات درج تھے لیکن ہر مقدمے میں ان کیخلاف گواہان یا توفوت ہوگئے یا پھر لاپتہ ہیں۔

متعلقہ خبریں