عروج و زوال کی لازوال داستان ۔۔۔۔۔ روحی بانو نے اپنی زندگی کے آخری ایام کیسے گزارے؟ اصلیت نے پاکستانیوں کو رُلا کر رکھ دیا

2019 ,جنوری 26



لاہور ( مانیٹرنگ ڈیسک ) اتتقال کرجانے والی پاکستانی معروف اداکارہ روحی بانو نے اپنی زندگی بہت دکھ اور تکلیف کیساتھ گزاری ۔ روحی بانو اپنے نوجوان اکلوتے بیٹے علی کی غیر طبی موت کے بعد خود کو اپنے گھر میں بند کرکے سالوں تک منظر عام سے غائب رہیں ،، انتقال کرجانے والی پاکستانی فلم اور ٹی وی کی معروف اداکارہ روحی بانو نے اپنی زندگی دکھ ، تکالیف اور بدحالی کی حالت میں گزاری خصوصاً اپنے اکلوتے بیٹے علی کی غیر طبی موت کے بعد سے جس کی لاش لاہور کے پوش علاقے گلبرگ میں 7 نومبر 2005 کو ان کی رہائش گاہ کے قریب سے برآمد ہوئی تھی ، قاتلوں نے علی کے جسم کو جنگلے کے ساتھ ٹھکانے لگادیا تھا، چند راہگیروں نے اس کے سیل فون کی آواز سنی تو پولیس کو اطلاع دی۔ روحی کے بیٹے علی اور اس کے دوست لاہور کی ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی میں رئیل اسٹیٹ کا کاروبار کر رہے تھے۔ ابتدائی طور پر پولیس نے روحی بانو کو اطلاع نہیں دی کیونکہ وہ دماغ کی بیماری میں مبتلا تھیں اور گورنمنٹ کالج لاہور سے نفسیات میں ماسٹرز کرنے کے بعد کئی سالوں سے لاہور کے فاؤنٹین ہاؤس، دماغی صحت کے مرکز میں زیر علاج تھیں۔ تاہم مکمل طور پر بدحالی اور ذہنی تکلیف کا شکار روحی بانو اپنے بیٹے کی تدفین کے بعد اپنے گھر کو بند کرکے سالوں تک منظر عام سے غائب رہیں۔ مئی 2005 کے شروع میں کراچی پولیس کلفٹن میں واقع کلثوم کورٹ فلیٹ سے روحی بانو کی عمر رسیدہ والدہ زینت بیگم کی لاش بھی برآمد کرچکی ہے۔ معروف بھارتی طبلہ نواز کی صاحبزادی اور دنیا بھر میں مانے جانے والے بھارتی طبلہ نواز زاکر حسین کی سوتیلی بہن، صدارتی تمغہ اپنے نام کرنے والی 67 سالہ روحی بانو اپریل 2015 کے دوران لاہور میں قاتلانہ حملے میں بچ گئیں۔ حملہ آور ان کے مرحوم بیٹے کا دوست تھا۔ ان کی دو شادیاں ناکام ہوئیں،

متعلقہ خبریں