جب وہ اللہ سے سوال کریں گے کہ ہمارا کیا قصور تھا ؟ تو آپ کو اللہ کے عذاب سے کوئی نہیں بچا سکتا !

2018 ,جنوری 13



لاہور(مہرماہ رپورٹ): آج کل میں اپنے آفس بوائے کو چوتھی دفعہ میٹرک کروا رہا ہوں اور یقین کامل ہے کہ یہ سلسلہ مزید پانچ چھ سال تک جاری رہے گا، ہر دفعہ وہ پوری تیاری سے پیپر دیتا ہے اور بفضل خدا، امتیازی نمبروں سے فیل ہوتا ہے۔ اس دفعہ بھی پیپرز میں وہ جو کچھ لکھ آیا ہے وہ یقیناًتاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔

اسلامیات کے پرچے میں سوال آیا کہ‘‘مسلمان کی تعریف کریں؟’’موصوف نے جواب لکھا کہ‘‘مسلمان بہت اچھا ہوتا ہے،اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے، وہ ہوتا ہی تعریف کے قابل ہے، اس کی ہر کوئی تعریف کرتا ہے، جو اس کی تعریف نہیں کرتا وہ تباہ و برباد ہو جاتا ہے، میں بھی اٹھتے بیٹھتے ہر وقت اس کی تعریف کرتا رہتا ہوں، مسلمان کی تعریف کرنے سے بڑا ثواب ملتا ہے،ثواب ملتا ہے، ہم سب کو ہر وقت مسلمان کی تعریف کرتے رہنا چاہیے۔ اسی طرح مطالعہ پاکستان المعروف‘‘معاشرتی علوم’’کے پرچے میں سوال آیا کہ پاکستان کی سرحدیں کس کس ملک کے ساتھ لگتی ہیں، موصوف نے پورے اعتماد کے ساتھ لکھا کہ‘‘پاکستان کے شمال میں امریکہ، مشرق میں افریقہ، مغرب میں دبئی اور جنوب میں انگلستان لگتا ہے۔سائنس کے پرچے میں سوال تھا کہ‘‘الیکٹران اور پروٹان میں کیا فرق ہے؟”عالی مرتبت نے پورے یقین کے ساتھ جواب لکھا کہ کچھ زیادہ فرق نہیں، سائنسدانوں کو دونوں کی ضرورت پڑتی رہتی ہے۔اردو کے پرچے میں ساغر صدیقی کے اس شعر کی تشریح پوچھی گئی‘‘زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے۔۔۔جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں’’۔ جواب میں لکھا‘‘اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ ویسے تو میں نے بہت سے جرم کیے تھے، چوری بھی کی، ڈاکا بھی ڈالا، دہشت گردی بھی کی، لڑکیوں کو بھی چھیڑا، دو تین بندے بھی قتل کیے، لیکن یہ جو مجھے جج صاحب نے سزا دی ہے اس کا مجھے بالکل بھی پتا نہیں چل رہا کہ یہ کون سے والے جرم کی سزا ہے؟مزید پڑھیں۔غربت :میری کلاس میں ایک لڑکی شازیہ(فرضی نام)پڑھتی ھے وہ ایک فری پریڈ میں میرے پاس آئی اور کہنے لگئی میم مجھے آپ کے دو منٹ مل سکتے ہیں ؟؟تو میں نے کہا کیوں نہیں بولیں آپ کیا کہنا چاہتی ہیں میں سمجھی کے کوئی تعلیم مدد لینے ہو گی۔ اکثر لڑکیاں فری پریڈ میں ایسے آ جاتی ہیں

تو اس نے کہا میم آپ آپنے پرانے کپڑے کس کو دیتی ہیں میں اس کی بات سے حیران رہ گئی کہ یہ کیسا سوال ھے 150میں نے پوچھا کہ کیوں آپ کیوں پوچھ رہی ہیں؟تو اس نے بتایا کہ میم میں بہت غریب گھرانے سے ھوں میرے ساتھ پڑھنے والی لڑکیاں بہت زیادہ امیر ہیں اور وہ روز میری پرانے کپڑوں کا مذاق اڑاتی ہیں میں آپنے گھر سے تعلیم کا خرچا بہت مشکل سے لے رہی ھوں نئے کپڑے کہاںنئے کپڑے کہاں سے لو آپ کی جلدی شادی ھونے والی ھے آپ نے پرانے کپڑے کسی کو تو دینے ہیں مجھے دے دیں ۔اس کی بات سن کر پہلی بار میں نے اس کے کپڑے دیکھے جو واقعے ہی پرانے ھو گے تھے لیکن سلیقے سے استری کر کے پہنے ھوئے تھے ۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم کسی کی ذات پر بات کرتے ہوئے ایک منٹ بھی یہ نہیں سوچتے کہ ہمیں کیا حق پہنچتا ھے کسی کو کمتر کہنے کا یا کسی کے ذاتی معاملے میں ٹانگ آڑانے کا اگر کوئی امیر ہے او ر اللہ کا دیا اس کے پاس سب کچھ ھے تو کیا ہمیں یہ حق مل گیا ھے کہ ہم جس کی چاہیں بے عزتی کر دیں کوئی خوف خدا نہیں ہے ۔ اس بات پر سوچیں ایک دن ہم نے بھی اللہ کو منہ دیکھانا ھے جب یہ دکھی دل اللہ کو آپنی پریشانیاں بتائیں گے اور رو رو کر کہیں گے کہ اے اللہ تو نے انھیں دولت دی تھی اور ہمیں نہیں ہمارا کیا قصور تھا تو آپ کو اللہ کے عذاب سے کوئی نہیں بچا سکتا !! سوچیں اور لوگوں کے ذاتی معاملات میں دخل دینے سے گریز کریں کیا پتہ وہ کس حالت میں زندگی گزار رہے ہوں۔

متعلقہ خبریں