بالآخر اپوزیشن جماعتوں نے چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی کا اعلان کردیا، رہبر کمیٹی کے سربراہ کا بھی تقرر

2019 ,جولائی 5



اسلام آباد (مانیٹرنگ رپورٹ) اپوزیشن جماعتوں کا رہبر کمیٹی کے لیے اجلاس ختم ہوگیا ہے اور اکرم درانی کو رہبر کمیٹی کا سربراہ بنادیا گیا ۔ اجلاس کے مطابق میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اکرم خان درانی نے بتایا کہ 9جولائی  کو چیئرمین سینٹ کی تبدیلی کے لیے ریکوزیشن جمع کرائی جائے گی اور 11 جولائی کو چیئرمین سینٹ کے لیے نئے نام کا اعلان کیاجائے گا۔

کمیٹی کا اجلاس بھی گیارہ جولائی کو ہوگا۔ انہوں نے رانا ثنا سمیت اپوزیشن رہنماؤں کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ  پچیس جولائی سے صوبائی سطح پر جلسے ہوں گے ، جمہوری لوگوں کو سیاست سے دور رکھنے کی مذمت کرتے ہیں، ریاستی ادارے اختیارات سے تجاوز کررہے ہین اور اختیارات سے تجاوز کرکے دیگر امور میں مداخلت کی جارہی ہے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق رہبر کمیٹی نے ملک بھر میں مشترکہ جلسے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 25 جولائی کو عام انتخابات کا ایک سال مکمل ہونے پر یوم سیاہ منایا جائے گا اور اس کے بعد تمام صوبوں کے مرکزی شہروں میں مشترکہ جلسے ہونگے۔ رہبر کمیٹی نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف فوری قرارداد لانے پر اتفاق کیا تاہم نئے چیئرمین سینیٹ کے نام پر غور کو عارضی طور پر موخر کردیا گیا۔اجلاس میں (ن) لیگ سے شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، پیپلز پارٹی سے فرحت اللہ بابر، نیئر بخاری، جعمیت علماء اسلام (ف) سے اکرم خان درانی، نیشنل پارٹی سے میر حاصل بزنجو، اے این پی سے میاں افتخار، پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی سے عثمان کاکڑ، قومی وطن پارٹی سے ہاشم بابر، جمعیت علماء پاکستان سے اویس نورانی اور مرکزی جمعیت اہلحدیث سے شفیق پسروری نے شرکت کی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں چئیرمین سینیٹ کو ہٹانے اور حکومت مخالف تحریک سمیت دیگر ایشوز پر بات چیت کی گئی تاہم اہم کمیٹی کے چیئرمین کا انتخاب نہ کیا جاسکا۔ ن لیگ نے مستقل کنوینئر کی بجائے تمام جماعتوں کو باری باری کنوئینر شپ دینے کی تجویز دی تاہم اتفاق نہیں ہوسکا۔

    متعلقہ خبریں