حضرت سیدنا غوث الاعظمؒ

2017 ,دسمبر 29



لاہور(محمد سلیم خان قادری):اللہ کریم کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس خالق و مالک نے ہمیں انسان بنایا‘ مسلمان کے گھر میں پیدا فرمایا۔ پھر سید الانبیا حضرت محمد مصطفی ؐکا امتی بنایا۔ پھر بے حد و بے حساب شکر ہے کہ اس نے ہمیں آل محمدؐ میں ایک ایسا ولیٔ کامل عطا فرایا جن کا سید الاولیاء غوث الاعظم کے لقب سے آج تک سلسلہ جاری ہے۔ حضور غوث الاعظم کا اسم پاک عبدالقادرؒ ہے۔ آپ کی کنیت ابومحمد اور القابات محی الدین، محبوب سبحانی، غوث الثقلین اور غوث الاعظم وغیرہ ہیں۔ آپ کے والد ماجد کا اسم گرامی حضرت ابو صالح موسیٰ جنگی دوستؒ ہے اور آپ کی والدہ ماجدہ کا اسم گرامی حضرت فاطمہ اُم الخیر اُمتہ الجبار ؒہے جو کہ بڑے عابد و زاہد پاکباز متقی پرہیزگار ولی اللہ اور برگزیدہ ہستیاں تھیں۔ والد گرامی کی طرف سے آپ کا چند واسطوں سے شجرۂ نسب عالی حضرت سیدنا امام حسینؓ اور والدہ ماجدہ کی طرف سے چند واسطوں سے حضرت سیدنا امام حسینؓ سے ملتا ہے اور یوں آپ شریف الطرفین حسنی حسینی سید ہیں۔ آپ کی ولادت باسعادت یکم رمضان المبارک 470 یا 471 ہجری کو رات کے وقت بروز پیر کو جیلان شریف میں ہوئی۔ آپ جب پیدا ہوئے سحری سے لیکر افطاری تک ماں کا دودھ نہ پیا۔ عہد رضاعت میں بھی آپ رمضان المبارک میں طلوع فجر سے غروب آفتاب تک دودھ نہیں پیا کرتے تھے۔

آپ کو اللہ تبارک تعالیٰ نے ابتدا ہی سے ولایت کے مرتبے سے سرفراز فرمایا تھا۔ کم عمر میں آپ ایک روز عرفہ کے دن شہر سے باہر کھیتی باڑی کے ایک بیل کی دم پکڑ کر بھاگنے لگے کہ بیل نے پلٹ کر دیکھا اور کہا کہ اے عبدالقادر تجھے اس کام کے لئے پیدا نہیں کیا گیا نہ اس کا حکم دیا گیا ہے۔ آپ یہ سن کر گھبرائے ہوئے گھر لوٹ آئے اور مکان کی چھت پر چڑھ گئے اور وہاں سے میدان عرفات میں لوگوں کو کھڑے دیکھا۔ حضور غوث پاک ؒفرماتے ہیں کہ میں دس سال کا تھا جب میں مدرسہ جاتا تو راستہ میں کاتبین کو اپنے ارد گرد چلتے دیکھتا اور جب مدرسہ میں پہنچ جاتا تو ان کو بچوں سے یہ کہتے ہوئے سنتا کہ اے بچو اللہ کے ولی کیلئے جگہ کشادہ کرو۔

پہلے ہی روز جب آپ کو مدرسہ میں داخل کرایا گیا تو آپ نے اعوذ باللہ، بسم اللہ سے لے کر اٹھارہ سپارے ناظرہ نہیں بلکہ حفظ قرآن میں سنا ڈالے۔ آپ جب شکم مادر میں تھے تو والدہ محترمہ قرآن پاک کی تلاوت فرمایا کرتی تھیں اس لئے انہیں اٹھارہ سپارے والدہ ماجدہ سے تربیت میں ملے۔ آپ پچیس سال تک مشاہدات قدرت خلوت اور مجاہدات کیلئے تن تنہا عراق کے جنگلوں اور ویرانوں میں پھرتے رہے اور سخت گرمی اور شدید سردی کے موسموں کے ساتھ ساتھ بھوک و پیاس برداشت کرتے رہے۔ چالیس سال تک نماز عشا کے وضو سے نماز فجر ادا کرتے رہے اور پندرہ سال تک نماز عشاء پڑھ کر کئی ایک قرآن ختم فرماتے رہے اور بسا اوقات نفس اگر نیند کی خواہش کرتا تو آپ نفس کی نفی کرتے ہوئے ایک پائوں پر میخ دیوار کو ہاتھ سے پکڑ کر صبح تک ختم قرآن فرماتے۔

حضور غوث پاک نے جب تمام علوم پر دسترس حاصل کر لی عبادات و ریاضت اور مجاہدات کی مشقوں کے بعد آپ حضرت قاضی ابوسعید مخزومیؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بیعت کر لی۔ ایک روز آپ کے مرشد نے فرمایا کہ اس نوجوان کا قدم ایک دن تمام اولیاء کی گردنوں پر ہو گا اور اس زمانے کے تمام اولیاء اس کے سامنے اپنی گردنیں جھکا دیں گے اور انکساری کریں گے۔ روایت میں آیا ہے کہ حضرت غوث الاعظمؓ بہت زیادہ رویا کرتے تھے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ جل شانہ الکریم کا خوف دل میں رکھتے تھے۔ مستجاب الدعوٰۃ تھے۔ سخاوت کرنے میں مشہور تھے۔ اچھے اخلاق کے مالک اور بہترین خوشبو استعمال کرتے تھے۔ ہر قسم کی برائی سے محفوظ تھے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے جو کوئی اللہ تبارک وتعالیٰ کی شان اقدس میں گستاخی کرتا تو اس پر حد سے زیادہ سختی کرتے تھے لیکن اپنی ذات کے لئے کسی پر سختی کرتے اور نہ ہی خفا ہوتے تھے۔

خداوند کریم کی رضا کیلئے مخلوق خدا کی مدد کیا کرتے تھے۔ محتاج سائل کو خالی ہاتھ واپس نہ جانے دیتے تھے۔ اگر کوئی آپ کے جسم پر پہنے لباس کا سوال کرتا تو اتار کر اسے عطا فرما دیتے تھے۔ بعض مشائخ وقت نے آپ کے اوصاف حمیدہ میں لکھا ہے کہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ نرم طبیعت کریم الاخلاق، پاکیزہ اوصاف کے حامل اور مہربان تھے ہم نشین کی عزت کرتے اور مغموم کو دیکھ کر امداد فرماتے۔ آپ کبھی نافرمانوں، سرکشوں، ظالموں اور مالداروں کیلئے کھڑے نہ ہوئے نہ کبھی کسی وزیر یا حاکم کے دروازے پر جاتے۔ آپ کے کشف و کرامات اس قدر زیادہ ہیں جن کا شمار ممکن نہیں۔ آپ کی حیات ظاہری کے بعد اور زمانہ حال میں بھی آئے دن آپ کی کرامات ظہور پذیر ہوتی رہتی ہیں جن کی بدولت آپ کے عقیدت مندوں میں دن بدن اضافہ در اضافہ ہوتا چلا آ رہا ہے۔ آپ کا سلسلہ قادریہ ہے۔ اس کے علاوہ بھی تمام سلاسل کے پیر و مشائخ و مریدین آپ کی ولایت کے سامنے سرنگوں اور آپ کے فیض کے طالب ہیں۔ آپ کا سالانہ عرس مقدس دنیا کے کونے کونے اور نگر نگر میں بڑی گیارہویں کے نام سے عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے۔

11 ربیع الثانی 561ء ہجری بوقت شام آپ کا وصال ہوا۔ وقت وصال آپ نے کلمہ شریف پڑھا اور اللہ، اللہ، اللہ کہا۔ آواز مبارک مخفی ہو گئی اور جان جانِ آفرین کے سپرد کر دی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

آپ کا مزار اقدس بغداد شریف (عراق) میں زیارت گاہ خاص و عام ہے۔

متعلقہ خبریں