گوہ کی حضرت محد ؐ کی نبوت کی گواہی ۔۔۔اسلامی تاریخ کا سب سے ناقابل فراموش واقعہ

2018 ,فروری 26



لاہور(مہر ماہ رپورٹ): حضرت عمر فاروق ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک اعرابی آیا جس کے پاس گوہ تھی‘ وہ کہنے لگا‘ مجھے لات و عزیٰ کی قسم اے محمدصلی اللہ علیہ وسلم‘ میں تجھ پر ہرگز ایمان نہیں لاؤں گا جب تک کہ یہ گوہ تمہاری صداقت کی گواہی نہ دے‘

حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا سنو! پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے گوہ سے مخاطب ہو کر فرمایا‘ اے گوہ بول! گوہ سنتے ہی عربی زبان میں بول اٹھی‘لبیک یا رسول العالمین‘تمام سعادتیں اور کامیابیاں آپصلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے گوہ سے پوچھا تم کس کی عبادت کرتی ہو‘ گوہ نے فوراً جواب دیا‘ اس کی عبادت کرتی ہوں جس کا عرش آسمان میں آسمان میں ہے اور زمین میں جس کی حکومت ہے اور سمندر میں جس کا راستہ ہے اور جنت میں جس کی رحمت ہے اور دوزخ میں جس کا عذاب ہے‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں کون ہوں“ وہ بولی‘ آپ رب العالمین کے رسول ہیں اور خاتم النبیین ہیں‘ جس نے آپؐ کو پہچان لیا وہ نجات پا گیا اور جس نے آپؐ کو نہ مانا وہ دونوں جہانوں میں نقصان پا گیا۔اس اعرابی نے جب گوہ کی گواہی سنی تو وہ فوراً نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آیا۔حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت وعظمت کا اقراراور آپؐ کے خاتم النبیین ہونے کا علم جانوروں کو بھی ہے پھر جو شخص حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور ختم نبوت میں شک کرے اس سے بڑھ کر بدنصیب کون ہوگا۔

ایک اور ایمان آفروز داستان پڑھیے۔۔ لاجوب ۔۔ خلیفہ ہارون رشید بڑے حاضر دماغ تھےایک مرتبہ کسی نے ان سے پوچھا“ آپ کبھی کسی کی بات پر لاجواب بھی ہوئے ہیں؟“انہون نے کہا۔۔۔“ تین مرتبہ ایسا ہوا کہ میں لاجواب ہوگیا۔۔ایک مرتبہ ایک عورت کا بیٹا مرگیا اور وہ رونے لگی ۔۔۔میں نے اس سے کہا کہ آپ مجھے اپنا بیٹا سمجھیں اورغم نہ کریں۔۔۔۔اس نے کہا کہ میں اس بیٹے کے مرنے پر کیوں نہ آنسو بہاؤں ۔۔۔۔ جس کے بدلے خلیفہ میرا بیٹا بن گیا۔“دوسری مرتبہ مصر میں کسی شخص نے حضرت موسیّ ہونے کا دعوی کیا ۔۔۔ میں نے اسے بُلوا کر کہا کہ حضرت موسی علیہ السلام کے پاس تو اللہ تعالی کے دئیے معجزات تھے ۔۔۔ اگر تو موسی ہے کوئی معجزہ دکھا۔۔۔ اس نے جواب دیا کہ موسیّ نےتو اس وقت معجزہ دکھایا تھا۔۔۔ جب فرعون نے خدائی کا دعوی کیاتھا، تو بھی کیاتھا، تو بھی یہ دعوی کر تو میں معجزہ دکھاؤں گا۔۔۔““تیسری مرتبہ لوگ ایک گورنرکی غفلت اور کاہلی کی شکایت لے کر آئے ۔۔۔ میں نے کہا کہ وہ شخص تو بہت نیک ۔۔۔ شریف ۔۔۔ اور ایماندار ہے ۔انہوں نے جواب دیا کہ پھراپنی جگہ اسے خلیفہ بنادیں تاکہ اس کا فائدہ سب کو پہنچے۔

متعلقہ خبریں