سائنسدان بھی عمران خان کی ہاں میں ہاں ملانے لگے، دنیا بچانے کے لیے سب کو وزیراعظم پاکستان والا کام کرنے کا مشورہ دے دیا

2019 ,جولائی 7



نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے اپنی خیبرپختونخوا میں گزشتہ حکومت کے دوران ہی ایک ارب درخت لگانے کا دعویٰ کیا اور اب پورے ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد بھی شجرکاری مہم شروع کیے ہوئے ہیں۔ اب سائنسدانوں نے بھی وزیراعظم عمران خان کے اس اقدام کو پوری دنیا میں آگے بڑھانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ اگر دنیا میں ایک ٹریلین درخت لگا دیئے جائیں تو موسمیاتی تبدیلیوں کی تباہ کاریوں سے بچا جا سکتا ہے۔ سائنسدانوں اور تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ دنیا میں جتنی کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہو رہی ہے اس کا ایک تہائی انڈسٹری اور درختوں کے بڑے پیمانے پر کٹاﺅ کی وجہ سے فضاءمیں شامل ہو رہا ہے۔سائنسدانوں نے ’گوگل ارتھ‘کے ذریعے پوری زمین کا جائزہ بھی لیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ شہروں او رزرعی زمینوں کو متاثر کیے بغیر زمین پر اتنی جگہ ہے کہ ایک ٹریلین سے زائد درخت لگائے جا سکتے ہیں۔ تحقیق کار تھامس کروتھر کا کہنا تھا کہ ”اس وقت موسمیاتی تبدیلیوں کا جو سب سے سستا اور قابل عمل حل ہے وہ شجرکاری ہے۔ اگر ہم ایک ٹریلین درخت لگا دیں تو فضاءمیں کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج کم کرکے موسم کو مزید گرم ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔“ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وزیراعظم عمران خان ماضی میں لاہور اور راولپنڈی میں بننے والی میٹرو بس کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے رہے مگر پھر ان کی حکومت نے پشاور میں میٹرو بس پراجیکٹ شروع کر دیا جو سالہا سال گزرے اور اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود پایہ تکمیل کو نہیں پہنچ سکا اور اب تحریک انصاف کی حکومت کا سب سے بڑا سکینڈل بن کر حکومتی عمال کا منہ چڑا رہا ہے۔ اب ایشیائی ترقیاتی بینک نے بھی اپنی رپورٹ میں پشاور میٹرو بس پراجیکٹ کی قلعی کھول دی ہے۔ ایکسپریس ٹربیون کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ”خیبرپختونخوا حکومت نے 70ارب روپے کے پشاور میٹرو بس پراجیکٹ کے اصلی اور متفقہ ڈیزائن سے روگردانی کی اور گھٹیا کوالٹی کا میٹریل استعمال کیا اور لوگوں کی زندگیاں اور اثاثے خطرے میں ڈال دیئے۔“ایشیائی ترقیاتی بینک کی ایک تکنیکی ٹیم نے رواں سال مارچ میں پشاور میٹرو بس پراجیکٹ کی ’آن سائٹ‘ انسپکشن کی اور یہ رپورٹ مرتب کی۔مارچ میں ہی ایشیائی ترقیاتی بینک کی طرف سے خیبرپختونخوا حکومت کو واضح وارننگ دی گئی تھی کہ جو ڈیزائن اس نے اپنا رکھا ہے اس کے تحت میٹرو بسیں سٹاپ نمبر 10،12، 15اور 26پر ایک دوسری سے ٹکرائیں گی کیونکہ کے پی حکومت کے اختیار کردہ نئے ڈیزائن میں ان جگہوں سے دو بسیں بیک وقت نہیں گزر سکیں گی۔نئے ڈیزائن میں ان جگہوں پر لین کی چوڑائی بہت کم رکھی گئی تھی جو کہ کم از کم ساڑھے 6میٹر ہونی چاہیے تھی۔اسی مہینے خیبرپختونخوا حکومت کی اصل اور متفقہ ڈیزائن سے روگردانی اور گھٹیا مواد استعمال کیے جانے پر بینک نے آئندہ پے منٹس روک دی تھیں اور حکومت سے کہا تھا کہ وہ جب تک ڈیزائن میں موجود سنگین خامیاں دور نہیں کرتی اسے مزید رقم نہیں دی جائے گی۔

متعلقہ خبریں