نواز شریف کے علاج پر ڈاکٹروں نے اپنا صاف جواب دے دیا ۔

2019 ,اپریل 17



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیراعظم نواز شریف کی سرجری کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ رواں ہفتے ہوگا، آئندہ آنے والے دن نواز شریف کی صحت کے کیلئے بہت اہم ہیں ۔ ڈاکٹروں نے رپورٹس دیکھنے کے بعد اپنا فیصلہ سنا دیا ہے ۔ آغا خان یونیوسٹی ہسپتال کے سینئر پروفیسرز کا میڈیکل بورڈ فیصلہ کرے گا۔سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی سرجری کیلئے بیرون ملک سے بھی ڈاکٹرز کے پاکستان آنے کا امکان ہے۔ شریف خاندان کو آغا خان ہسپتال کے سینئر ڈاکٹرز سے نواز شریف کا طبی معائنہ کرانے کے بعد ان کی سفارشات کا انتظار ہے۔ذرائع کے مطابق نواز شریف کے تمام ٹیسٹوں کی رپورٹس غیر ملکی ڈاکٹرز سے شیئر کی جا چکی ہیں۔ نوازشریف کے فزیکل معائنے کے بعد ہی ڈاکٹرز کسی حتمی نتیجے پر پہنچیں گے۔ حتمی سفارشات کے ساتھ آغا خان ہسپتال کے ڈاکٹرز ایک مرتبہ پھر شریف میڈیکل سٹی آئیں گےم یاد رہے کہ اس سے قبل خبر یہ بھی تھی کہ سابق وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز نے بتایا ہے کہ ان کے والد کے علاج کے بارے میں ابھی تک حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے، لیکن جہاں سے بہتر ہوگا وہاں سے علاج کروائیں گے ، سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری بیان میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز ابھی مختلف میاں نواز شریف کی مختلف رپورٹس چیک کر رہے ہیں۔مریم نواز نے لکھا کہ نواز شریف کو دل کے علاوہ دماغ کی شریانوں کا مسئلہ بھی سنگین ہے۔ والد کی صحت کے حوالے سے بہت پریشان ہوں۔ لوگوں سے دعاؤں کی درخواست ہے۔انہوں نے بتایا کہ آج آغا خان ہسپتال کے طبی ماہرین کی ٹیم جن میں مختلف سرجنز شامل تھے نے میاں نواز شریف کی مختلف میڈیکل رپورٹوں کا معائنہ بھی کیا۔ اور اب خبر ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی سرجری کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ رواں ہفتے ہوگا۔

متعلقہ خبریں