وزیر اعظم نے بھارت کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا ،عمران خان کا خطاب سن کر نئی دہلی بھی چیخوں سے گونج اٹھا

2018 ,نومبر 28



نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک): کرتار پور راہداری کے سنگ بنیاد کے موقع پر منعقدہ تقریب میں وزیر اعظم عمران خان کے جرآت مندانہ خطاب میں  مسئلہ کشمیر اٹھانے پر مودی حکومت سخت بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی ہے اور  مثبت رد عمل دینے اور مظلوم کشمیریوں پر ظلم و ستم بند کرنے  کی بجائے بھارتی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کو ایک بار پھر اپنا ’’اٹوٹ انگ ‘‘ قرار دے دیا اور وزیر اعظم عمران خان کی تقریر پر سخت   تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان سرحد پار دہشت گردی کی حمایت بند کرکے اپنی بین الاقوامی ذمہ داری پوری کرے ۔

 ہندوستان نے کرتارپور راہداری کا سنگ بنیاد رکھنے کے موقع پر ’کشمیر‘کا موضوع اٹھانے پر پاکستانی وزیراعظم عمران خان پر سخت تنقید کی ہے اور پاکستان سے سرحد پار دہشت گردی کی حمایت بند کرکے اپنی ’بین الاقوامی ذمہ داری ‘پوری کرنے کو کہاہے ۔بھارتیوزارت خارجہ کے ترجمان روش کمار نے کہا ہےکہ یہ افسوسناک بات ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم نے سکھ فرقہ کے کرتارپور راہداری کے دیرینہ مطالبہ کے سلسلہ میں منعقدہ مذہبی تقریب کے موقع پر جموں کشمیر کا ذکر کرکے سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی،اس پروگرام میں مقبوضہ  کشمیر کا ذکر بلا وجہ کیاگیا کیونکہ جموں کشمیر ہندستان کا اٹوٹ حصہ ہے۔واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے کرتار پور راہداری کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ماضی صرف سیکھنے کے لیے ہوتا ہے، رہنے کے لیے نہیں، پاکستان اور بھارت کے تعلقات کا یہ حال ہے کہ ہم ایک قدم آگے بڑھ کر دو قدم پیچھے چلے جاتے ہیں، پاکستان اور بھارت جب تک ماضی کی زنجیریں نہیں توڑیں گے آگے نہیں بڑھ سکیں گے، جب جرمنی اور فرانس آگے بڑھ سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں؟پاکستان اور بھارت میں صرف ایک مسئلہ ہے اور وہ مسئلہ کشمیر ہے، کیا ہم ایک مسئلہ حل نہیں کرسکتے؟ انسان چاند پر پہنچ چکا ہے تو کیا ہم مسئلہ کشمیر حل نہیں کر سکتے؟۔

متعلقہ خبریں