تھپڑ کی سزا۔۔۔ فواد چوہدری کو وزارت سے ہٹائے جانے کا امکان

2019 ,جون 15



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے گذشتہ رات فیصل آباد میں ہونے والی ایک شادی کی تقریب میں سینئیر صحافی و تجزیہ کار سمیع ابراہیم کو تھپڑ رسید کر دیا جس کے بعد سے ہی صحافی برادری کی جانب سے فواد چودھری کے خلاف کافی احتجاج کیا جا رہا ہے جبکہ سمیع ابراہیم نے وفاقی وزیر کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست بھی جمع کروا دی ہے۔فواد چودھری کے خلاف آنے والے رد عمل اور صحافیوں کے دباؤ میں آ کر وزیراعظم عمران خان فواد چودھری کو وفاقی کابینہ سے نکالنے کے مشورے پر غور کر سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق فواد چودھری کی جانب سے سینئیر صحافی کو رسید کیا گیا تھپڑ پارٹی اور حکومت کو مہنگا پڑ سکتا ہے، اور اس تھپڑ کی گونج عمران خان اور پارٹی کو کافی عرصہ تک سنائی دے گی۔فواد چودھری پر ہونے والی تنقید اور اس تنقید سے حکومت پر ہونے والے اثر کے پیش نظر وزیراعظم عمران خان کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ فواد چودھری کی اس حرکت نے سب کو حکومت پر تنقید کا موقع دیا ہے۔اگر اس وقت فواد چودھری کے خلاف کوئی ایکشن نہ لیا گیا تو صحافی برادری حکومت پر پریشر ڈالے گی اور حکومت کے پاس اس کے علاوہ کئی اہم کام بھی موجود ہیں جن کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے لہٰذا فواد چودھری کے خلاف ایکشن لے کر ان کو سزا دی جائےاور سزا کے طور پر ان سے وزارت واپس لی جائے۔ اس طرح صحافی برادری کی جانب سے تنقید بھی بند ہو جائے گی جبکہ یہ واقعہ دیگر حکومتی نمائندوں کے لیے بھی ایک سبق ہو گا کہ ہاتھ چالاکی کی کسی صورت گنجائش نہیں ہے۔ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ اس واقعہ کے بعد سے پاکستان تحریک انصاف میں فواد چودھری کا مخالف گروپ بھی ان کے خلاف لابنگ میں مزید متحرک ہو گیا ہے اور فواد چودھری کی اس حرکت کی نہ صرف مذمت کی جا رہی ہے بلکہ مذکورہ گروپ فواد چودھری کے صحافی کو تھپڑ رسید کرنے کے اس واقعہ کو پارٹی اور حکومت کے لیے ناقابل برداشت قرار دے کر ان کو وزارت سے ہٹائے جانے کی تیاریوں میں اپنا کردار ادا کرنے میں بھی پہلے سے زیادہ متحرک ہو گیا ہے۔دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کے کچھ قریبی ساتھی جن کے فواد چودھری سے اچھے تعلقات نہیں ہیں ، نے بھی اس معاملے کو اُٹھانے کی کوشش کی ہے، ایسے میں وزیراعظم عمران خان اس معاملے پر غور کر سکتے ہیں۔ اس ضمن میں جب وفاقی وزیر فواد چودھری سے دریافت کیا گیا کہ اگر اس واقعہ کا آپ کو یا آپ کی وزارت کو نقصان پہنچا تو اس صورت میں آپ کیا کریں گے ؟ تو اس پر وفاقی وزیر نے جواب دیا کہ جب کوئی رد عمل آئے گا تب دیکھا جائے گا ، مجھے را کا ایجنٹ کہاگیا ، میرے خلاف بیانات دئے گئے ، جو میرے لیے ناقابل برداشت تھا۔

متعلقہ خبریں