کانگریس جیت جاتی تو غزوہ ہند شاید دس پندر ہ سال آگے چلا جاتا

2019 ,مئی 24



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر ملکی صحافی اور تجزیہ کار اوریا مقبول جان نے انکشاف کیا ہے کہ بی جے پی کی الیکشن میں دوبارہ کامیابی غزوہ ہند کے انتہائی قریب آجانے کی نشانی ہوسکتی ہے۔نجی ٹی وی چینل کے پروگرام کے دوران گفتگو کرتے ہوئے اوریا مقبول جان کا کہنا تھا کہ انتہا پسند ہندو بھارتی حکومت بلوچستان کے راستے سے آئے گی ۔ گلگت بلتستان کا راستہ استعمال کرے گی یا پھر افغانستان کا راستہ استعمال کرے گی، اور کچھ ایسی کارروائیاں ہوں گی جن سے دنیا کو یہ پیغام جائے گا کہ ایٹمی اثاثوں والے اس ملک کے ہتھیار کسی بھی وقت دہشتگردوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ہوسکتا ہے وہ سی پیک کا راستہ بند کرنے کی کوشش کرے۔آج سے 75سال قبل آر ایس ایس نے ہندو بچوں کو انتہا پسندی کی تربیت دینا شروع کی تھی۔ نریندر مودی نے یہیں سے تربیت لی۔ اس سے قبل اٹل بہاری واجپائی یہیں سے تربیت لے کر گئے تھے۔پھر 1982میں ان لوگوں نے یہ سوچا کہ جمہوریت کے راستے آنے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ اس میں کامیاب ہو گئے۔ اوریا مقبول جان کا کہناتھا کہ آج اگر کانگریس اقتدا ر میں آئی ہوتی تو غزوہ ہند دس سے پندرہ سال آگے چلا جاتا لیکن موجودہ صو رتحال کو دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ صرف پہلے تین چار ماہ تو شاید کچھ نہ ہو۔ لیکن اس کے بعد کچھ بھی ہوسکتا ہے ۔آتش فشاں تیار ہے۔ جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔ اور یہ بہت جلد بھی ہو سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں