ایک یہودی کے 3 لاجواب سوالات جن کے جواب آپ کو بھی حیران کر دیں گے

2018 ,جنوری 20

بنتِ ہوا

بنتِ ہوا

تہذیب

bintehawa727@gmail.com



خلیفہ عبدالملک بن مروان کے دور میں بغداد علم وحکمت کا مرکز تھا۔ اور اس دور میں دوستو دشمنان اسلام یہودیوں نے اسلام کو نظریاتی طور پر کمزور کرنے کے لیے بظاہر لاجواب کر دینے والے تین سوالات دے کر ایک ایسے آدمی کو اسلامی دنیا میں بھیجا، جو اعلیٰ طبقہ تک رسائی بہترین مقررانہ صلاحیتوں اور بارعب شخصیت اور آواز کاحامل تھا ...

اس نے پہلے پہل بغداد میں آکر ایسی بڑی مساجد کا انتخاب کیا، جہاں اسے زیادہ سے زیادہ سامعین مل سکتے تھے، اور پھر ان کے سامنے اپنا پہلا سوال رکھا کہ :

" خدا سے پہلے زمین پر کیا تھا ...؟ "
جس کا جواب! نہ تو عام آدمی بلکہ، ائمہ مساجد جو بخوبی دینی تعلیم سے آگاہ ہوتے تھے دے سکے۔ مختلف مساجد میں جا کر یہ فتنہ پھیلانے کے بعد اس نے مدارس کا رخ کیا اور ہر کسی کو لاجواب کرتا گیا ...

اس دوران اس سازشی اور چالاک یہودی کی شہرت دربار شاہی تک بھی پہنچ چکی تھی۔ یہودی نے درجہ بہ درجہ آگے بڑھتے ہوئے دربار خلافت تک بھی رسائی حاصل کر لی. اور شاہی علما دین کو چیلنج کرتے ہوئے اس سوال کا جواب مانگا، لیکن بدقسمتی سے کوئی عالم دین اس کے سامنے لب کشائی نہ کر سکا ...

 اب خلیفہ عبدالملک بن مروان جو کہ، خود ایک بہت بڑا عالم دین تھے، ان کو اس واقعہ کا بہت رنج تھا انہوں نے اس یہودی کو دربار خلافت میں بطور شاہی مہمان ٹھہرنے کی اجازت دی اور کہا کہ :
" تمہارے اس قیام کے دوران میں تمہارے تینوں سوالوں کے جواب دوں گا ... "

یہودی شاید یہی چاہتا تھا اس نے شاہی دعوت قبول کر لی. خلیفہ وقت نے ایسے علما کی تلاش کا حکم دے دیا جو اس کے سوالات کے جوابات دینے کے متحمل ہو سکتے تھے۔ لیکن بدقسمتی سے کوئی بھی عالم اس کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا. اور یکے بعد دیگرے تمام علما شکست خوردہ انداز میں سر جھکائے واپس چلے گئے ....

خلیفہ عبدالملک اگرچہ تکلیف میں تھے لیکن مایوس نہ ہوئے، اور بالآخر ایک دن ایک درباری وزیر نے انہیں کہا کہ :
" جہاں پناہ! اگر کوفے کے ایک نوجوان عالم کو طلب کیا جائے تو یقین کامل ہے کہ وہ اس یہودی کو لاجواب کر سکے گا ... "

عبدالملک مذکورہ آدمی کی عمر جان کر قدرے پریشان ہوئے، کہ اس قدر جہاندیدہ علما جن سوالوں کے جواب نہ دے سکے، ان کا جواب ایک نوجوان کیا دے گا۔ لیکن مرتا کیا نہ کرتا، نیم دلی سے کہا کہ :
" ٹھیک ہے اسے بھی آزمالو ... "

 اب شاہی اہلکاروں کو کوفہ روانہ کر دیا گیا، جنہوں نے اس نوجوان کے دروازے پر دستک دی، اور مدعہ بیان کیا۔ تو وہ نوجوان اپنی والدہ محترمہ اور اپنے محترم استاد امام حمادؒ سے اجازت لے کر دربار شاہی پہنچا اور وہ معرکہ، جس نے اسلامی دنیا اور خاص طور پر خلیفہ وقت کی نیندیں اڑ ا رکھی تھیں، کو سر کرنے کے لیے اگلے دن دربار سجایا گیا ...

 اب وہ قابل دید وقت آ چکا تھا جب وہ یہودی انتہائی تکبرانہ انداز کے ساتھ خلیفہ کے ساتھ کرسی پر براجمان ہوا، اور پھر چند ہی لمحوں کے بعد نورانی چہرے کا حامل وہ نوجوان چپکے سے درباریوں میں آکر بیٹھ گیا۔ اور خلیفہ نے روایت کے مطابق سوال وجواب کا سلسلہ شروع کرنے کا حکم دیا ...

اس یہودی نے اپنے مخصوص متکبرانہ لہجے اور بارعب آواز میں کہا کہ :
" بتاؤ، خدا سے پہلے کیا تھا ...؟ "

ابھی وہ اتنا ہی کہہ پایا تھا کہ، اس نوجوان نے اسے روکتے ہوئے کہا کہ :
تم مانگنے والے ہو جبکہ میں دینے والا ہوں۔۔۔۔..

اور ساتھ ہی خلیفہ سے درخواست کی کہ، دینے والے کے منصب کا لحاظ کرتے ہوئے میری نشست کو اس کے ساتھ بدلنے کا حکم دیں۔ خلیفہ نے نہ صرف خوش ہو کر اس یہودی کو عام درباریوں میں جا کر بیٹھنے کا حکم دیا اور اس نوجوان کو اس کی نشست سونپ دی، بلکہ اس کے لہجے کے اعتماد کی بدولت ان کی امید بھی بر آنے لگی ...

 سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا اور اس نے دوبارہ پوچھا کہ مجھے بتایا جائے کہ :

■ خدا سے پہلے کیا تھا ...؟ 
تو جواب میں اس نوجوان نے انتہائی اطمینان سے فرمایا کہ :
" اعداد کا شمار کرو ... "

تو اس نے گنتی گننا شروع کر دی۔ تو نوجوان نے ٹوکا اور فرمایا کہ :
" صحیح شمار کرو ... "

اس نے دوبارہ گنتی شروع کر دی۔ لیکن پھر درستگی کا حکم دیا جس پر اس نے اکتا کر کہا کہ :
" اور کس طرح شمار کروں ... ؟ "

نوجوان نے کہا کہ :
" ایک سے پہلے شمار کر ... "

یہودی نے کہا کہ :
" ایک سے پہلے تو کچھ بھی نہیں ہوتا ... "

تو نوجوان نے ہنس کر کہا کہ :
" ایک سے پہلے پوچھنے والا بےمعنی سوال کیوں کرتے ہو ...؟ "

اس موقع پر خلیفہ وقت اور درباریوں کی خوشی دیدنی تھی۔ خلیفہ نے دوسرے سوال کا حکم دیا، تو یہودی نے سوال پوچھا کہ :
■ خدا کا رخ کس طرف ہے ...؟ "

نوجوان نے چند گھڑی توقف کیا اور حکم دیا کہ :
" شمع لائی جائے ... "

جس کو جلانے کے بعد یہودی سے سوال کیا کہ :
" مجھے اس روشنی کا رخ متعین کر کے دو ...؟ "

جس کے جواب میں اس نے کمزور لہجے میں کہا کہ :
" یہ ممکن نہیں ... "

تو نوجوان نے جواب دیا کہ :
" اللہ رب العزت! بھی ایک نور ہے جس کے رخ کا تعین بھی ممکن نہیں اور تم یہ جاننے کے باوجود بےمعنی سوالات کر رہے ہو ... "

اس موقع پر یہودی اندر سے ٹوٹ چکا تھا اس نے بے دلی سے کہا کہ :
■ آپ مجھے بتائیں کہ، اللہ اس وقت کیا کر رہا ہے ...؟

نوجوان نے ہنس کر کہا کہ :
" وہ ایک جہاں دیدہ دماغ کے حامل یہودی شخص کو ایک نوجوان کے سامنے شرمندہ کر رہا ہے ... "

جس پر دربار میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور یوں یہ فتنہ ختم ہو گیا ...

کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ نوجوان کون تھا ... ؟
وہ نوجوانحضرت نعمان بن ثابت ؒتھے جو کہ بعد میں امام ابوحنیفہ کے نام سے مشہور ہوئے ...۔۔

سبحان اللہ 

نوٹ:اگر آپ بھی اپنا کوئی کالم،فیچر یا افسانہ ہماری ویب سائٹ پر چلوانا چاہتے ہیں تو اس ای ڈی پر میل کریں۔ای میل آئی ڈی ہے۔۔۔۔

bintehawa727@gmail.com

ہم آپ کے تعاون کے شکر گزار ہوں گے۔

متعلقہ خبریں