اصل گیم سامنے آگئی : چوہدری نثار نے نواز شریف کی ڈیل کی خبروں پر خاموشی توڑتے ہوئے ایسا بیان دے دیا کہ پوری ن لیگ میں تہلکہ مچ گیا

2019 ,فروری 24



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وفاقی وزیر داخلہ اور مسلم لیگ (ن) کے ناراض رہنما چوہدری نثارعلی خان نے نوازشریف کی جانب سے ڈیل کے حوالے سے کہا ہے کہ اگر تھوڑا سا بھی اشارہ دوں تو بہت ساروں کی جگ ہنسائی اور کئی لوگوں کی عزت میں اضافہ ہو مگر اس کو پردے میں رہ نے دیا جائے،نواز شریف صرف اپوزیشن میں ہوتے ہوئے سویلین بالا دستی کی بات کرتے ہیں، بھارت کی طرف سے کلبھوشن کیس میں نواز شریف کے بیان کو بطور ثبوت پیش کرنے پر خوش نہیں ہوں،موجودہ پارلیمنٹ کے ماحول کو دیکھ کر دکھ ہوتا ہے ، زیادہ زمہ داری عمران خان پر عائد ہوتی ہے ،تحریک انصاف کے دھرنے کو آبپارہ سے آگے آنے دینے کا فیصلہ نوازشریف کا تھا ،دنیا کی تاریخ میں ایسا نہیں ہوتا جس طرح جسٹس ثاقب نثار کے دور میں ہوا،اب نئے چیف جسٹس ہیں ،انصاف پہلے سے بہتر انداز میں مل رہا ہے،پانا مہ لیکس سازش نہیں تھی، ملک میں کوئی مزاحمتی پارٹی نہیں ہے، مسلم لیگ (ن)کو سڑکوں پر نہیں آنا چاہیے تھا،الیکشن نہ جیتنے کی وجہ تحریک انصاف میں شامل نہ ہونا تھا ۔ اتوار کو یہاں نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہاکہ میں وہاں پر کھڑا ہوں جہاں سے سیاست کاآغاز کیا تھا ۔ انہوںنے کہاکہ سیاست میں اونچ نیچ آتی رہتی ہے اورآتی رہی ہے تشویش کی بات تب ہوتی جب ایسا قدم اٹھابیٹھتا جس سے میرے ضمیر اور کر دار پربوجھ ہوتا تاہم الحمد اللہ میں مطمئن ہوں ۔ چوہدری نثار علی خان نے کہاکہ مجھے لوگوں نے ووٹ دیئے ہیں علیحدہ بات ہے گنتی میں نہیں آئے جو گنتی میں آئے ہیں ان کی تعداد ایک لاکھ 33ہزار ہے اور صوبائی اسمبلی کی نشست پر 54ہزار ووٹ ملے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن)نے دونوں سیٹوں میں میرے مقابلے میں امیدوار کھڑے کئے ہیں دونوں امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوئیں ۔ انہوںنے کہاکہ الیکشن نہ جیتنے میں جو مشکلات پیش آئی ہیں ان میں میری اپنی سوچ اور مزاج بھی وجہ ہے ۔ ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ صوبائی اسمبلی کا حلف لینے کا مطلب ہے کہ قومی اسمبلی میں جو ہوا اس کے نتائج قبول کر لئے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ میں نے کبھی صوبائی اسمبلی کیلئے ووٹ نہیں مانگیں ،کیسے ہو سکتا ہے کہ صوبائی اسمبلی کی نشست کیلئے ووٹ دیئے گئے ہوں اور قومی پر ووٹ نہ دیئے گئے ہوں ۔ سابق وزیر اعظم نوازشریف سے تعلقات میں دراڑ کے حوالے سے سوال پر انہوںنے کہاکہ بالآخر انسان کی ذمہ داری خود ہوتی ہے ، تعلقات میں دراڑ کون بنا شاید میرے اصول تھے جو نوازشریف قبول کر نے کیلئے تیار نہیں تھے میں درگزر کیلئے تیار نہیں تھا ۔ انہوںنے کہاکہ میں بھی انسان ہوں غلطیاں ضرور ہوتی ہیں انہوںنے کہاکہ ہم نے ایک پارٹی بنائی اور نوازشریف اس کے لیڈر تھے ، میں ایک ہی پارٹی میں رہا اگر اقتدار کے چکر پڑتا تو بیسوں بار موقع آیا کبھی ایسا نہیں کیا اس بار بھی موقع تھا ۔ایک اور سوال پر انہوں نے کہاکہ میرے الیکشن نہ جیتنے کی ایک وجہ تحریک انصاف میں شامل نہ ہونا بھی ہے تاہم میرے حلقے میں پی ٹی آئی کا کوئی زور نہیں تھا ۔ ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ بیگم کلثوم نواز کی رحلت ہوئی ہے ،میں لندن میں تھا جنازے میں شامل ہوا جب واپس آیا تو رائے ونڈ جانا ضروری نہیں سمجھا ، عین ممکن تھا چند عناصر ایک کو سیاسی تناظر میں دیکھتے اور بہت ساری سیاسی کہانیاں ڈالتے جب جناز ے میں شامل ہو چکا تھا تو نوازشریف کے پاس تعزیت کیلئے نہیں گیا ۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ جب میں بیمار تھا تو شہبازشریف نے پھول بھیجے ہیں ان کی مہربانی ہے ۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وفاداری وہ ہے جو صحیح بات کرے ،خوشامد یا چاپلوسی میں نہیں کرتا ۔انہوں نے کہاکہ نوازشریف کا مائنڈ سیٹ تبدیل ہوگیا ہے اور ان کو میری باتیں اچھی نہیں لگتی تھیں ۔ ایک سوال پر چوہدری نثار علی خان نے کہاکہ میاں نوازشریف اپوزیشن میں رہ کر بالادستی چاہتے تھے مگر جب بھی حکومت میں ہوتے تھے تو کوئی قدم اٹھانے کیلئے تیار نہیں ،وہ اپوزیشن میں رہ کر سویلین بالادستی کا نعرہ زیادہ لگاتے ہیں حالات ضرورت اس وقت ہوتی ہے جب انسان اقتدار میں ہوتا ہے اوراس پر عملدر آمد کروائے ۔ ایک اور سوال پر چوہدری نثار علی خا ن نے کہا کہ پچھلے ڈیڑھ سال کے حالات و واقعات کے نتیجے میں مسلم لیگ (ن)سے دوری پیدا ہوئی ۔ انہوںنے کہاکہ عمران خان مجھے ملے اور دعوت بھی دی ، بہت سے حالات و اقعات ہوئے ہیں جس پر روشنی ڈالو تو تہلکہ مچ جائیگا ۔ پاکستان تحریک انصاف کے دھرنے کے دور ان دبائو کے حوالے سے سوال پر چوہدری نثار علی خان نے کہاکہ زندگی بھر نہ کسی قسم کا دبائو ہوا ہے نہ دبائو لیا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ دھرنا جب آبپارہ تھا تو آگے آنے دینے کا دبائو نوازشریف کا تھا اور نوازشریف نے فیصلہ کیا تھا کہ دھرنے والوں کوآگے آنے دیا جائے میں نے اختلاف کیا اور میٹنگ سے اٹھ کر چلا گیا تھا ، میرا نقطہ نظر تھا کہ آبپارہ سے آگے نہ آنے دیں ۔نوازشریف کہتے ہیں پرویز مشرف کا ٹرائل شروع کر نے سے (ن)لیگی حکومت کو مشکلات آئیں کا جواب دیتے ہوئے چوہدری نثار علی خان نے کہاکہ ایسی نہیں بات نہیں ، میں نوازشریف کو کہتا تھا کہ اداروں کے خلاف ہم اس انتہا پر نہ جائیں جس سے مشکلات میں اضافہ ہو ۔ پانا ما لیکس پر ایک عدالت نے فیصلہ دیا ہے تو ایک اور عدالت سے حق میں فیصلہ آ جائیگا ،ایک میں انصاف نہیں ملا تو دوسری عدالت سے انصاف ملے گا ۔انہوں نے کہاکہ میرا زیادہ اختلاف تھا کہ پانا ما معاملے پر فوج پر چڑھائی نہ کریں ۔ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے حوالے سے سوال پر چوہدری نثار علی خان نے کہاکہ دو بار انہوںنے اپنے دور میں میرا نام لیکر کمنٹس پاس کئے ایک کی تردید میں نے فوری کر دی تھی تو اس کے بعد وضاحت آگئی ۔ انہوںنے کہاکہ دوسرے بیان پر میں نے بیان تیار کرلیا تھا مگر کئی دوستوں نے کہا مناسب نہیں ہوگا کہ معاملہ اور طرف چلا جائیگا ۔ انہوںنے کہاکہ سابق چیف جسٹس جو مرضی کیا سول سوسائٹی کی طرف سے رد عمل نہیں آیا بعض سینئر وکلاء کے بیان آئے ۔ انہوںنے کہا کہ دنیا کی تاریخ میں ایسا نہیں ہوتا جس طرح جسٹس ثاقب نثار کے دور میں ہوا ۔چوہدری نثار علی خان نے کہاکہ ایک نئے چیف جسٹس ہیں انصاف پہلے سے بہتر انداز میں مل رہا ہے جب کہا جاتا ہے کہ ہر کوئی ادارہ اپنے دائرے میں کام کرے تو سپریم کورٹ میں پر یہ بات لاگو ہوتی ہے ۔ ڈان لیکس کے حوالے سے سوال پر انہوںنے کہاکہ ڈان لیکس کمیٹی نے سیر حاصل تحقیقات کے بعد رپورٹ دی تھی جس کے نتیجے میں جو کچھ ہوا یہ ایک مشکل عمل تھا لیکن اتنا مسئلہ نہیں تھا جتنا بنا دیا گیا تھا ۔ انہوںنے کہاکہ حکومت کی مشکلات کے حوالے سے نوازشریف مشرف ٹرائل جو ذمہ دار قرار دے رہے ہیں وہ بات ڈان لیکس پر زیادہ عائد ہوتی ہے ۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو کہتا رہا کہ آپ کے بھارت کے ساتھ امن کے حوالے سے بیانات بھلے نیک نیتی پہ مبنی ہوں لیکن یہ پاکستا ن کے خلاف استعمال ہوں گے، آج وہی ہوا اور یہ ثابت ہوا کہ مودی نا نواز شریف کا دوست تھا اور نا پاکستان کا دوست ہے۔ شاہد خاقان عباس کی کابینہ میں شامل نہ ہونے کے سوال پر چوہدری نثار علی خان نے کہاکہ میں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ میں کابینہ میں شامل نہیں ہونگا اگر فیصلہ نوازشریف کے حق میں آتا تب بھی کابینہ میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کرلیا تھا ۔انہوںنے کہاکہ شاہد خاقان عباسی کافی جونیئر تھے اقتدارہی تو سب کچھ نہیں ہوتا ۔انہوں نے کہاکہ شاہد خاقان عباسی کو وزیر اعظم بنانے سے پہلے نوازشریف نے مجھ سے پوچھا اور میں نے حامی بھری اس وقت ایک دو آوازیں آئیں پھر میں نے فائل کہ یہ مشکل وقت ہے اور شاہد خاقان عباسی کو وزیر اعظم بنانے کے فیصلے کو قبول کیا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ نہ گروپ بنانے میں دلچسپی رکھتا تھا نہ ن لیگ کو نقصان پہنچانے کے عمل میں حصہ بنناچاہتا ہے نہ اقتدار میں دلچسپی رکھتا تھا ۔ مسلم لیگ (ن)سے تعلق کے حوالے سے سوال پر چوہدری نثار علی خان نے کہاکہ اب کیا گنجائش رہ گئی ہے جو شخص آٹھ دفعہ قومی اسمبلی ممبر رہا ہوں اسے مسلم لیگ (ن) اورنوازشریف نے ٹکٹ نہیں دیا باقی گنجائش کیا رہ گئی ۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہاکہ پانا مہ لیکس سازش نہیں تھی جو تشہیر کی گئی وہ پاکستان کے حکمرانوںکے حوالے سے نہیں تھا اس میں دنیا بھر کے حکمران نامزد پائے گئے ، پانا ما لیکس کو بہتر انداز میں حل کر نے کی کوشش کی نہیں گئی ۔ انہوںنے کہاکہ لندن کے فلیٹ میں نوازشریف سے میری ملاقاتیں ہوئی ہیں بے نظیر بھٹو صاحبہ بھی اسی فلیٹ میں آئیں تھیں میاں نوازشریف بھی اس سے نکاری نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ بات یہ ہے کہ اس وقت فلیٹ کس کی ملکیت تھے اور نوازشریف کے بیٹوں کی ملکیت کب بنے ،انہوںنے کہاکہ پانا ما معاملے پر پارٹی کو اعتماد میں لینے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔انہوںنے کہاکہ نوازشریف نے پارلیمنٹ میں تقریر اور قوم سے خطاب کیا ،پارٹی اور قوم ، اپوزیشن کو اعتماد میں لے لیا تھا میں نے مخالفت کی تھی کہ آپ تقریر نہ کریں اس تقریر میں جو مو قف اختیار کیا گیا وہ ان کیلئے نقصان دہ ہے ۔ ایک سوال پر انہوںن ے کہاکہ انہوںنے کہاکہ لیڈر جو فیصلہ کرتا ہے ذمہ داری اس کی ہوتی ہے خواہ قریبی رفقاء ، پارٹی اور اودلا کی طرف سے مشورے آتے ہوں جو فیصلہ کرتا ہے ذمہ دار وہی ہوتے ہیں ۔ ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ موجودہ پارلیمنٹ کا ماحول دیکھ کر مجھے دکھ ہوتا ہے پارلیمنٹ کسی ملک اور عوام کی طاقت ہوتی ہے مگر مجھے موجودہ ماحول سے شرمندگی ہوتی ہے ہمارے بچے اور نو جوان کیا سوچتے ہونگے ، میں نے ننگی گالیاں خود سنی ہیں یہ بد قسمتی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ پارلیمنٹ کو ملک اور عوام کی طاقت ہونا چاہیے ،آج بکھری ہوئی ہے وہاں ایسی زبان استعمال ہورہی ہے جو پارلیمنٹ اور پارلیمنٹرینز کی شایان شان نہیں ۔ انہوںنے کہاکہ موجودہ پارلیمنٹ میں اچھے سیاستدان بھی ہیں جو صورتحال پر خاموش ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ صورتحال کی تمام پارٹی کے لیڈر کے ذمہ دار ہیں، سب سے بڑھ کر حکومت کے لیڈر ذمہ دار ہیں ، موجودہ حکومت کو چھ ماہ ہوگئے ہیں جو بہت لمبی مدت ہے ۔ انہوںنے کہاکہ نوازشریف ، آصف زر داری ،ْ عمران خان اور مولانا فضل الرحمن یہ فیصلہ کر لیں کہ موجودہ زبان پارلیمنٹ اور سیاستدان کی شان شایان نہیں ہے اگر کوئی رہنما غلط زبان استعمال کرتا ہے تو اسے پارٹی سے برطرف کر دیا جائے ۔انہوں نے کہاکہ وزراء کے رویئے اور ان کی تقریر کو دیکھ کر حیران ہوتا ہوں یہی تماشا لگا ہوا ہے ۔ چوہدری نثار علی خان نے کہاکہ جن پارٹیوں کے پاس دو تہائی اکثریت تھی وہ اپنی مدت پوری نہیں کر سکیں اس سے پہلے ایک حکومت گزری ہے جس کے پاس اکثریت نہیں تھی وہ پانچ سال پورے کر گئی ہے ،مسلم لیگ (ق) کا ایک ووٹ اکثریت سے کم تھا پانچ سال پورے کر گئی ۔ انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ (ق)اور اسٹیبلشمنٹ ایک تھے ، پرویز مشرف صدر بھی تھا اور آرمی چیف بھی تھے اور وردی اتارنے کیلئے تیار نہیں تھے ۔ انہوںنے کہاکہ یہ ملک کی بد قسمتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ایک حکومت کیساتھ ٹھیک ہو تو اکثریت نہ ہونے کے باوجود وہ مدت پوری کر جاتی ہے اور جس کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اختلافا ت ہوں تو وہ مدت پوری نہیں کر سکتی ۔ انہوںنے کہاکہ موجودہ اسٹیبلشمنٹ حکومت کو مکمل سپورٹ کررہی ہے ۔ چوہدری نثار علی خان نے کہاکہ سب پارٹیوں کو سوچنا چا ہیے کہ حالات کس طرف جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تھوڑا بہت سوچ لے اور پاکستان کے مفاد میں کر دارادا کر ے ، کاش عمران خان کو کوئی سمجھا سکے کہ تاریخ میں رول ادا کر نا ہے تو بہت ساری چیزوں کو نظر انداز کر کے سوچیں ۔ ڈیل کے حوالے سے سوال پر انہوںنے کہاکہ پچھلے چند ماہ میں جو حالات و واقعات ہورہے ہیں مجھے اس کا علم ہے ،اگر میں تھوڑا سا بھی اشارہ دو ں تو بہت ساروں کی جگ ہنسائی ہو اور شاید کئی لوگوں کی عزت میں اضافہ ہو مگر اس کو پردے میں رہ نے دیا جائے ۔ایک اور سوال پر انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ (ن)مزاحمتی جماعت نہیں ہے ، مسلم لیگ (ن)اسلام کے قریب ہے ،عوام ووٹ بھی دبا ئوکے دیتے ہیں ، ووٹ ملتے بھی ہیں ، مسلم لیگ (ن)سڑکوں پر آنے والی جماعت نہیں ہے نوازشریف کو کہتا رہوں کہ ایسی پالیسی نہ بنائیں ۔ انہوںنے کہاکہ مزاحمتی پارٹیاں ختم ہو گئی ہیں کوئی مزاحمتی پارٹی نہیں ہے کسی زمانے میں پیپلز پارٹی مزاحمتی پارٹی ہوتی تھی جب بے نظیر بھٹو اور ذو الفقار علی بھٹو ہوتے تھے ۔

متعلقہ خبریں