شیراِک واری فیر:ن لیگیو استقبال اور مٹھائیوں کی تیاری کرلو، جیل سے نواز شریف کی ضمانت ۔۔۔۔ اچانک دھماکہ داربریکنگ نیوزآگئی

2019 ,مئی 9



اسلام آباد(مانیتڑنگ ڈیسک) لیگی کارکنان اپنے لیڈر کےاستقبال کی تیاریاں کرلیں، ن لیگ نوا زشریف کی رہائی کیلئے کیا کرنے جارہی ہے۔۔۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کی ضمانت کے لیے ایک بار پھر مسلم لیگ ن سرگرم ہو گئی ہے۔ ن لیگ نے نواز شریف کی ضمانت کے لیے اسلام آبا ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ نواز شریف کی ضمانت کی درخواست رمضان کے دوسرے عشرے میں دائر کی جائے گی۔نواز شریف کی اجازت کے بعد قانونی ماہرین نے درخوست دائر کرنے کی تیاری شروع کر دی۔نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس میں سزا ختم کرنے کی درخواست دائر کی جائے گی۔اس سلسلے میں نواز شریف اور خواجہ حارث نےدو روز قبل قانونی ماہرین سے طویل ملاقات بھی کی تھی۔ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کی طرف سے نظرثانی اپیل کا تحریری فیصلہ آئے گا تو اس کے نکات کو دیکھنے کے بعد درخواست درج ہو گی۔جب کہ دوسری جانب اسلا م آباد ہائیکورٹ میں العزیزیہ اسٹیل مل ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی سزا کیخلاف مرکزی اپیل پرسماعت آج ہوئی۔کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ڈویژنل بینچ العزیزیہ اسٹیل مل ریفرنس میں نواز شریف کی سزا کیخلاف مرکزی اپیل کی سماعت کی،. سابق وزیر اعظم نے احتساب عدالت کے فیصلے کو کالعدم قراردینے کی استدعا کی تھی، درخواست گزار کا موقف تھا کہ احتساب عدالت میں اس کا موقف سنے بغیر ہی اپنا فیصلہ سنادیا گیا. گزشتہ سماعت پر نواز شریف کے وکیل نے پیپر بک پر غلطیوں کی نشاندہی کی تھی، کورٹ اسٹاف کوپیپر بک کی غلطیوں کو دور کرنے کے لئے 10 دن کا وقت دیا گیا تھا.خیال رہے کہ العزیزیہ کیس میں نواشریف کو 7 سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی‘نیب کی جانب سےسزا کو 7 سے بڑھا کر14 سال کرنے کی درخواست پربھی سماعت ہوگی. یاد رہے کہ 7 مئی کو میاں نواز شریف کی صحت کی بنیاد پر دی جانے والی ضمانت ختم ہوگئی تھی، جس کے بعد انھیں غروب آفتاب کے بعد گرفتاری پیش کرنی تھی مگر انھوں نے ایسا نہیں کیا اور رات گئے جلوس کی صورت گرفتاری دی۔ دوسری جانب ایک خبر یہ بھی تھی کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس مقدمے میں مشروط ضمانت کی مدت مکمل ہونے کے بعد دوبارہ لاہور کی کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا ہے تاہم بعض قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ نواز شریف کے پاس طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست دائر کرنے کا حق موجود ہے۔نواز شریف کو بد عنوانی کے ایک مقدمے میں سات سال قید بامشقت، 25 ملین ڈالرز جرمانہ اور دس سال نااہلی کی سزا کا سامنا ہے۔یاد رہے کہ مارچ میں سابق وزیر اعظم کی درخواست پر چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے علاج کے لیے ان کی چھ ہفتوں کی ضمانت منظور کرتے ہوئے جیل سے رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ضمانت کی مدت ختم ہونے کے قریب آتے ہوئے اپریل کی 30 تاریخ کو سابق وزیر اعظم نے دوبارہ سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے ضمانت میں مزید توسیع کی درخواست کی اور علاج کی غرض سے لندن جانے کی اجازت بھی مانگی۔ انھوں نے درخواست کے ساتھ بیماریوں کی تفصیلات بھی بتائیں۔ اور اب یہ خبر ائی ہے کہ لیگی کارکنان اپنے لیڈر کےاستقبال کی تیاریاں کرلیں، ن لیگ نوا زشریف کی رہائی کیلئے کیا کرنے جارہی ہے۔۔۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کی ضمانت کے لیے ایک بار پھر مسلم لیگ ن سرگرم ہو گئی ہے۔

متعلقہ خبریں